
نیشِن، 22 ستمبر 2026 — ایشین گیمز کی تاریخ میں خواتین کرکٹ کے فائنل کا سب سے یکطرفہ مقابلہ۔ کورگئی اسپورٹس پارک میں انڈیا کی ویمنز ٹیم نے سری لنکا کو 147 رنز سے کچل کر نہ صرف ایشین گیمز کا گولڈ میڈل برقرار رکھا، بلکہ پورے بھارت کے لیے ناگویا گیمز کا پہلا گولڈ میڈل بھی جیت لیا۔ یہ وہی پرانا فائنل تھا جو ہم نے ہانگژو 2023 میں دیکھا تھا — لیکن اس بار فتح کی شدت کہیں زیادہ تھی۔
216 کا پہاڑ — بلے بازی کا طوفان
ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ ہرمن پریت کور کا درست ثابت ہوا۔ اوپننگ جوڑی اسمرتی مندھانا اور شفالی ورما نے پہلی ہی گیند سے سری لنکن حملے کو تہہ و بالا کر دیا:
- اسمرتی مندھانا — 79 رنز (45 گیندیں، 7 چھکے، 5 چوکے): اپنی 37ویں ٹی ٹوئنٹی نصف سنچری کے دوران مندھانا نے وہ سنگِ میل عبور کیا جس کا خواب ہر بلے باز دیکھتا ہے — خواتین کی بین الاقوامی کرکٹ میں 11,000 رنز مکمل کرنے والی دنیا کی پہلی کھلاڑی بن گئیں۔ ان کے 99 رنز کے اوپننگ اسٹینڈ نے میچ کا فیصلہ شروع میں ہی لکھ دیا۔
- شفالی ورما — 48 رنز (29 گیندیں، 3 چھکے، 3 چوکے): سیمی فائنل میں بنگلہ دیش کے خلاف اپنے پہلے وائٹ بال سنچری کے بعد شفالی کا بلا فائنل میں بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ صرف دو رنز سے نصف سنچری چھوٹ گئی، لیکن انداز بتا گیا کہ یہ کھلاڑی بڑے میچوں کے لیے بنی ہے۔
- رچا گھوش — ناقابل شکست 49 رنز (22 گیندیں، 6 چوکے، 3 چھکے): آخری اوورز میں رچا کی وحشیانہ بیٹنگ نے انڈیا کو 200 کے پار ہی نہیں، 216/3 تک پہنچا دیا۔
کپتان ہرمن پریت کور کا 19 رنز کا سفر اس طوفان میں دب سا گیا، لیکن ٹیم کی گہرائی نے ثابت کیا کہ انڈیا کی بیٹنگ لائن اپ اب دنیا کی سب سے خطرناک لائن اپ ہے۔
ایک نہیں، تین ریکارڈ ٹوٹے
یہ میچ صرف گولڈ میڈل کا نہیں تھا — یہ ریکارڈوں کا خزانہ تھا:
- 216/3 — ایشین گیمز خواتین کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیم سکور (پچھلا ریکارڈ ہانگژو 2023 میں ہانگ کانگ کا 202/4 تھا)۔
- 216/3 — خواتین کے ٹی ٹوئنٹی فائنل کا تاریخ میں سب سے بڑا سکور۔
- اسمرتی مندھانا — خواتین کی بین الاقوامی کرکٹ میں 11,000 رنز مکمل کرنے والی پہلی کھلاڑی۔
69 پر ڈھیر — گیند بازوں کا کمال
217 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سری لنکا کبھی مقابلے میں آئی ہی نہیں۔ سیمی فائنل میں پاکستان کے خلاف ریکارڈ 177 رنز کا تعاقب کرنے والی ٹیم انڈین اسپنرز کے سامنے مکمل بے بس نظر آئی:
- دیپتی شرما — 3 وکٹیں، صرف 6 رنز (4 اوورز، 1 میڈن): ان کے اسپیل نے میچ کا دم گھونٹ دیا — سری لنکا کی کپتان چماری اتھاپتھو (29 رنز) کی وکٹ ان کی جیت کا نقطہِ عروج تھی۔
- شفالی ورما — 2 وکٹیں، 3 رنز: بلے کے بعد گیند سے بھی کمال — لگاتار اوورز میں وکٹیں۔
- شری چرانی — 2/13 اور شریانکا پاٹل — 2/9: اسپن چوکڑی نے سری لنکا کی آخری 8 وکٹیں صرف 26 رنز پر اڑا دیں۔
سری لنکا کی پوری اننگز 15.4 اوورز میں 69 رنز پر سمٹ گئی — اتھاپتھو کے علاوہ کوئی بلے باز 15 رنز کا ہندسہ بھی عبور نہ کر سکا۔
پاکستان کے لیے بھی اچھی خبر
پاکستان کے شائقین کے لیے دلچسپ بات: اسی دن نیشِن میں پاکستان ویمنز نے بنگلہ دیش کو 31 رنز سے ہرا کر کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔ فاطمہ ثنا کی 45 رنز کی جارحانہ اننگز اور اُمِّ ہانی کی 3/10 کی گیند بازی نے 2022 کے برونز پلے آف کی شکست کا بدلہ چکا دیا۔ اس طرح خواتین کرکٹ کے ایشین گیمز پوڈیم پر تینوں پوزیشنیں برصغیر کے نام ہوئیں — گولڈ انڈیا، سلور سری لنکا، برونز پاکستان۔

آخر میں
147 رنز کی فتح محض ایک جیت نہیں — یہ اعلان ہے کہ خواتین کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں انڈیا اور باقی دنیا کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ مندھانا کا 11,000 رنز کا ریکارڈ، ٹیم کا ریکارڈ سکور، اور دفاعی چیمپئن کی حیثیت سے مسلسل دوسرا گولڈ — یہ سب ایک ہی دن میں۔ ہرمن پریت کور نے ٹھیک کہا: "ہم نے دروازہ کھول دیا ہے، اب اور بھی گولڈ میڈل آئیں گے۔"
ایشین گیمز کی کرکٹ ابھی ختم نہیں ہوئی — مینز مقابلے 24 ستمبر سے شروع ہوں گے، جہاں پاکستان کی نوجوان ٹیم صاحبزادہ فرحان کی قیادت میں میدان میں اترے گی۔ نظر اس پر بھی رہے گی۔
