آئی پی ایل کی تاریخ کے سب سے طویل اور کامیاب کوچنگ سفر کا اختتام ہو گیا۔ چنائی سپر کنگز نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ سابق بھارتی فاسٹ بولر ظہیر خان آئی پی ایل 2027 سے فرنچائز کے ہیڈ کوچ ہوں گے۔ وہ اسٹیفن فلیمنگ کی جگہ لیں گے، جن کی چنائی سے 18 سالہ رفاقت اس سال ختم ہوئی۔
فرنچائز نے اپنے مخصوص انداز میں سوشل میڈیا پر اعلان کیا: "Left Arm 'Taking' Over! Welcoming Zaheer Khan as the Head Coach of Chennai Super Kings!"
ایک دور کا اختتام
فلیمنگ کی رخصتی کوئی عام تبدیلی نہیں۔ 2009 سے 2026 تک انہوں نے چنائی کی ڈگ آؤٹ سنبھالی، اور اس عرصے میں ٹیم نے پانچ آئی پی ایل ٹائٹل اور دو چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی ٹرافیاں جیتیں۔ ان کے دور میں چنائی نے صرف دو سیزن میں پلے آف سے باہر رہنے کا ریکارڈ بنایا — مستقل مزاجی کی ایسی مثال فرنچائز کرکٹ میں کہیں نہیں ملتی۔
جولائی 2026 میں فلیمنگ کو انگلینڈ مینز ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا تھا، جس کے بعد یہ طے تھا کہ چنائی کو نیا سربراہ چاہیے ہوگا۔ اب یہ تلاش ظہیر خان پر ختم ہوئی ہے۔
ظہیر خان کیوں؟ — اعداد و شمار بولتے ہیں
- 610 بین الاقوامی وکٹیں — 92 ٹیسٹ، 200 ون ڈے اور 17 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں بھارت کی نمائندگی
- 2011 ورلڈ کپ کے فاتح بھارتی اسکواڈ کے کلیدی گیندباز
- آئی پی ایل میں 100 میچ، 102 وکٹیں (اوسط 27.27) — رائل چیلنجرز، ممبئی انڈینز اور دہلی کیپٹلز کی طرف سے کھیلے
- ریٹائرمنٹ کے بعد ممبئی انڈینز کے ڈائریکٹر آف کرکٹ آپریشنز (2019) اور پھر گلوبل ہیڈ آف ڈویلپمنٹ
- لکھنؤ سپر جائنٹس کے مینٹور (اگست 2024 تا ستمبر 2025)
- 2026 میں بی سی سی آئی کے سینٹر آف ایکسی لینس میں نوجوان فاسٹ بولرز کے لیے تین روزہ ریڈ بال کیمپ کی قیادت
ظہیر کا اپنا پیغام
اپنی تقرری پر ظہیر خان نے کہا:
"یہ آئی پی ایل کی تاریخ کی سب سے کامیاب ٹیموں میں سے ایک کا حصہ بننا میرے لیے اعزاز ہے۔ ایک کرکٹر کے طور پر میں نے میدان میں چنائی کا سامنا کیا ہے اور ان مقابلوں سے بھرپور لطف اٹھایا ہے۔ چیپاک میں مداحوں کا بنایا ہوا ماحول اسے مزید خاص بنا دیتا ہے۔"
ٹیم کی مالک روپا گوروناتھ نے کہا کہ ظہیر کی شاندار کھیلوں کی زندگی اور نوجوان ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے کی ثابت شدہ صلاحیت انہیں سیٹ اپ کے لیے قیمتی اثاثہ بناتی ہے۔ مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایس وشواناتھن نے انہیں "دنیا کے بہترین بولرز میں سے ایک اور بہترین کرکٹ دماغ" قرار دیا۔
چنائی کے لیے چیلنج کیا ہے؟
یہ تقرری جتنی دلچسپ ہے، اتنی ہی پرخطر بھی۔ چند نکات غور طلب ہیں:
- فلیمنگ–دھونی محور چنائی کی شناخت تھی۔ ظہیر کو نئے کپتان رتوراج گائیکواڈ کے ساتھ وہی اعتماد اور تسلسل قائم کرنا ہوگا۔
- آئی پی ایل 2026 میں رائل چیلنجرز بنگلورو نے مسلسل دوسرا ٹائٹل جیتا — چنائی اب ٹرافی سے دور ہے اور مداح بے تاب ہیں۔
- ظہیر کا یہ پہلا ہیڈ کوچنگ اسائنمنٹ ہوگا۔ مینٹور اور ڈائریکٹر کے کردار سے ڈگ آؤٹ کی ذمہ داری مختلف کھیل ہے — خاص طور پر میگا آکشن کے بعد ٹیم کی تعمیر نو کے دباؤ میں۔
دوسری طرف ظہیر کی سب سے بڑی طاقت ان کا تیز گیندبازوں کی نشوونما کا ریکارڈ ہے۔ ممبئی اور لکھنؤ میں انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ جو کام کیا، وہ چنائی کے مستقبل کے لیے اہم ہو سکتا ہے — خاص طور پر جب فرنچائز ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہو۔
نتیجہ: نیا باب، پرانی توقعات
چنائی سپر کنگز "تسلسل" کے نام پر جانی جاتی ہے، اور ظہیر خان کی تقرری اسی فلسفے کی نئی شکل ہے — ایک ایسا شخص جو نظام کے اندر سے آیا ہو، نوجوانوں پر یقین رکھتا ہو، اور خود دباؤ کے لمحات میں کھیل چکا ہو۔ فلیمنگ کا سایہ لمبا ہوگا، لیکن اگر ظہیر نے ڈریسنگ روم کا اعتماد جیت لیا تو 2027 کا سیزن چنائی کے لیے نئے دور کی شروعات ثابت ہو سکتا ہے۔
