
انڈین پریمیئر لیگ کو دنیا کی سب سے چمکتی کرکٹ لیگ کہا جاتا ہے — ستارے، تماشائی، اربوں کے سودے۔ مگر 2013 میں یہی چمک ایک ایسے اسکینڈل کے دھویں میں دب گئی جس نے نہ صرف کرکٹ بلکہ انصاف کے نظام کو بھی برسوں تک آزمائش میں رکھا۔
2013 کی وہ رات جس نے کرکٹ کو ہلا دیا
16 مئی 2013 کو آئی پی ایل کا چھٹا سیزن جاری تھا۔ ممبئی انڈینز اور راجستھان رائلز کے میچ کے چند گھنٹوں بعد دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے کارروائی کی اور راجستھان رائلز کے تین کھلاڑیوں — ایس سری سانتھ، انکیت چوہان اور اجیت چندیلا — کو اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ ان کے ساتھ گیارہ بکیز بھی پکڑے گئے، جن میں راجستھان رائلز کا سابق کھلاڑی امیت سنگھ بھی شامل تھا۔
سری سانتھ اس وقت انڈیا کا معروف فاسٹ باؤلر تھا — 27 ٹیسٹ، 53 ون ڈے اور 10 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکا تھا، اور 2007 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور 2011 کے ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کا حصہ رہا تھا۔ اس کی گرفتاری کی خبر اگلے روز ہر اخبار کی سرخی بنی۔
اسپاٹ فکسنگ کیا ہوتی ہے؟
میچ فکسنگ میں پورے میچ کا نتیجہ طے ہوتا ہے، جبکہ اسپاٹ فکسنگ میں میچ کے اندر کسی مخصوص لمحے — مثلاً کسی طے شدہ اوور میں کم از کم اتنے رن دینا — کا پہلے سے سودا طے ہوتا ہے، جس سے میچ کا نتیجہ متاثر ہو یا نہ ہو۔ دہلی پولیس کے مطابق کھلاڑی بکیز کو پہلے سے اشارے دیتے تھے — جیسے گیند بازی سے پہلے گھڑی گھمانا یا کمر پر تولیہ لٹکانا — اور پولیس نے الزام لگایا کہ ایک اوور کے لیے 60 لاکھ روپے تک ادا کیے گئے۔

سٹے باز اور بڑے نام
یہ معاملہ صرف تین کھلاڑیوں تک محدود نہ رہا۔ ممبئی پولیس نے اداکار وندو دارا سنگھ اور چنئی سپر کنگز کے ٹیم پرنسپل گروناتھ میاپن — جو اس وقت بی سی سی آئی صدر این سری نیواسن کے داماد تھے — کو سٹے بازی کے الزام میں گرفتار کیا۔ دہلی پولیس کی پوچھ گچھ میں راجستھان رائلز کے شریک مالک راج کنڈرا نے میچز پر سٹہ لگانے کا اعتراف کیا، جس پر بی سی سی آئی نے انہیں معطل کر دیا۔ دباؤ بڑھنے پر 2 جون 2013 کو سری نیواسن سے بی سی سی آئی کی صدارت سے عارضی طور پر الگ ہونے کو کہا گیا۔
عدالتوں کا سفر: مڈگل سے لوڈھا تک
تنازع اتنا سنگین تھا کہ اکتوبر 2013 میں سپریم کورٹ نے جسٹس مکول مڈگل کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی بنائی۔ مڈگل کمیٹی نے میاپن اور کنڈرا کو آئی پی ایل پر سٹہ لگانے کا قصوروار پایا۔ اس رپورٹ پر سپریم کورٹ نے 22 جنوری 2015 کو جسٹس آر ایم لوڈھا کی سربراہی میں کمیٹی کو سزا طے کرنے کا کام سونپا۔
2015: وہ فیصلے جنہوں نے تاریخ بدل دی
14 جولائی 2015 کو لوڈھا کمیٹی نے فیصلہ سنایا: میاپن اور کنڈرا کرکٹ کی تمام سرگرمیوں سے عمر بھر کے لیے محروم، اور ان کی ٹیمیں — چنئی سپر کنگز اور راجستھان رائلز — دو سال کے لیے معطل۔ دونوں ٹیمیں آئی پی ایل 2016 اور 2017 میں نہیں کھیل سکیں۔ یہ کرکٹ کی تاریخ کے سخت ترین فیصلوں میں سے ایک تھا، اور اس کا پیغام واضح تھا: کھیل کی ساکھ کسی فرد یا فرنچائز سے بڑی ہے۔
پھر 25 جولائی 2015 کو دہلی کی پٹیالہ ہاؤس عدالت نے ایک اور بڑا فیصلہ دیا: اسپاٹ فکسنگ کیس کے تمام 36 ملزمان کو بری کر دیا، جن میں سری سانتھ، چوہان اور چندیلا بھی شامل تھے۔ عدالت نے کہا کہ پولیس دہشت گردی مخالف سخت قانون مکوکا اور تعزیراتِ ہند کے تحت بھی الزامات ثابت نہیں کر سکی۔ سری سانتھ فیصلہ سن کر عدالت میں رو پڑا اور کہا: "مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں، انشاء اللہ میں کرکٹ میں واپس آؤں گا۔"
یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے: فوجداری عدالت میں بریت کا مطلب بی سی سی آئی کی پابندی کا خودکار خاتمہ نہیں تھا۔ بی سی سی آئی نے اپنے حلف نامے میں کہا کہ اس کی ڈسپلنری انکوائری کا معیارِ ثبوت فوجداری مقدمے سے مختلف ہے — اسی لیے تینوں کھلاڑیوں پر بورڈ کی عمر بھر کی پابندی برقرار رہی۔
سری سانتھ کی طویل لڑائی
سری سانتھ نے ہار نہیں مانی۔ بی سی سی آئی کی عمر بھر کی پابندی کے خلاف اس نے عدالتوں کا رخ کیا، اور 15 مارچ 2019 کو سپریم کورٹ نے عمر بھر کی پابندی ختم کرتے ہوئے بی سی سی آئی کو سزا پر نظرثانی کا حکم دیا۔ پھر بی سی سی آئی کے اومبڈزمین جسٹس ڈی کے جین نے پابندی گھٹا کر سات سال کر دی، جو 13 ستمبر 2013 سے شروع ہو کر 13 ستمبر 2020 کو ختم ہوئی۔
سبق: کھیل سب سے بڑا ہے
اس اسکینڈل کے بعد بی سی سی آئی نے اپنی اینٹی کرپشن مشینری مضبوط کی، اور لوڈھا کمیٹی کی سفارشات پر بورڈ کے نظام میں ادارتی اصلاحات بھی ہوئیں۔ جسٹس لوڈھا کا جملہ آج بھی یاد رکھنے کے لائق ہے: "کرکٹ افراد سے بڑی ہے۔"
2013 کے اسکینڈل نے ایک تلخ سچ دکھایا: جب پیسہ کھیل سے بڑا ہو جائے تو ساکھ داؤ پر لگ جاتی ہے۔ آئی پی ایل آج پہلے سے بڑا ہے، مگر 2013 کی یہ کہانی ہر کھلاڑی اور منتظم کے لیے ایک وارننگ کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گی۔
