پاکستان کرکٹ کا نیا ریکارڈ: محمد شہزاد کی 49 گیندوں پر سنچری — مصباح الحق کا 12 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

Sixer Zone Team
0
مصباح الحق — جن کا 56 گیندوں پر سنچری کا پاکستانی ریکارڈ محمد شہزاد نے توڑ دیا

تصویر: مصباح الحق (CC BY-SA 2.0، Wikimedia Commons) — 2014 میں آسٹریلیا کے خلاف 56 گیندوں پر بنائی گئی سنچری طویل عرصے تک پاکستان کا تیز ترین فرسٹ کلاس ریکارڈ رہی، جو آج ٹوٹ گیا۔

پاکستان کرکٹ میں آج (جمعرات، 24 ستمبر 2026) ایک ایسا ریکارڈ ٹوٹا ہے جو تقریباً بارہ سال سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جا رہا تھا۔ اسلام آباد کے ڈائمنڈ کرکٹ گراؤنڈ میں پریزیڈنٹس ٹرافی گریڈ-ون کے تیسرے راؤنڈ کے میچ میں پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) کے 22 سالہ آل راؤنڈر محمد شہزاد نے کنگزمین اکیڈمی کے خلاف محض 49 گیندوں پر سنچری بنا کر فرسٹ کلاس کرکٹ میں پاکستان کا تیز ترین سنچری کا ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔

اس سے پہلے یہ ریکارڈ سابق کپتان مصباح الحق کے پاس تھا، جنہوں نے نومبر 2014 میں ابوظہبی میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں 56 گیندوں پر سنچری بنائی تھی۔ محمد شہزاد نے یہ کارنامہ 7 گیندیں پہلے انجام دے کر پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں اپنا نام سنہرے حروف میں لکھوا دیا ہے۔

34 پر 3 — مشکل سے آغاز، پھر طوفان

کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ شہزاد جب بیٹنگ کے لیے آئے تو ان کی ٹیم بری طرح پھنسی ہوئی تھی۔ PTV نے محض 34 رنز پر 3 وکٹیں گنوا دی تھیں اور پانچویں نمبر پر آنے والے اس نوجوان پر دباؤ کا پہاڑ تھا۔ لیکن 22 سالہ کھلاڑی نے دباؤ کو موقع میں بدل دیا:

  • 49 گیندوں پر سنچری — میچ کے پہلے دن کی اننگز
  • 114 رنز محض 62 گیندوں پر — 12 چوکے اور 8 چھکے
  • محمد طہٰ کے ساتھ 143 رنز کی شراکت چوتھی وکٹ پر — میچ کا رخ بدل دینے والی پارٹنرشپ
  • ضیاء الحق کی گیند پر آؤٹ ہوئے، لیکن تب تک ریکارڈ بک میں درج ہو چکا تھا
  • اسٹمپس پر PTV کا اسکور 285/7 — شارون سراج 53 رنز پر ناٹ آؤٹ

عالمی تناظر میں کتنی بڑی اننگز؟

یہ سنچری صرف پاکستان کا ریکارڈ نہیں، بلکہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ کی آٹھویں تیز ترین سنچری بھی ہے۔ دنیا کا ریکارڈ انگلینڈ کے گلین چیپل اور مارک پیٹینی کے پاس ہے، جنہوں نے 27 گیندوں پر سنچری بنائی تھی (بالترتیب 1993 اور 2006 میں)۔ یعنی محمد شہزاد اب کرکٹ کی عالمی ایلیٹ لسٹ میں ایسے ناموں کے ساتھ کھڑے ہیں جن میں ایان بوتھم، ویوین رچرڈز اور رشبھ پنت بھی شامل ہیں۔

یہ شہزاد کے فرسٹ کلاس کیریئر کی چھٹی سنچری ہے — اور وہ ابھی تک غیر کیپڈ (uncapped) ہیں، یعنی پاکستان کی قومی ٹیم کے لیے ان کا ڈیبیو باقی ہے۔

پاکستانی کرکٹ کے لیے اس کا مطلب

یہ ریکارڈ محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں — اس کے پیچھے کئی اہم پیغامات چھپے ہیں:

  • ڈومیسٹک کرکٹ زندہ ہے: پریزیڈنٹس ٹرافی جیسے مقابلوں سے نوجوان ٹیلنٹ مسلسل ابھر رہا ہے۔ ایسی اننگز ثابت کرتی ہیں کہ گھریلو کرکٹ میں وہ معیار موجود ہے جو عالمی ریکارڈز توڑ سکتا ہے۔
  • سلیکٹرز کی توجہ کا مستحق: 22 سال کی عمر میں 6 فرسٹ کلاس سنچریاں اور آل راؤنڈ صلاحیت — شہزاد کا نام اب قومی سلیکشن کے مباحث میں ضرور آئے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان نوجوان جارح مزاج کھلاڑیوں کی تلاش میں ہے۔
  • دباؤ میں کارکردگی: 34/3 کی صورتحال میں ایسی اننگز کھیلنا ذہنی مضبوطی کی علامت ہے — بڑے میچوں کے کھلاڑی کی پہچان۔
پاکستان کا کرکٹ اسٹیڈیم — گھریلو کرکٹ کے میدان جہاں سے نوجوان ٹیلنٹ ابھرتا ہے

تصویر: پاکستان کا کرکٹ اسٹیڈیم (CC BY-SA 4.0، Wikimedia Commons) — نمائشی تصویر؛ گھریلو کرکٹ کے یہی میدان نئے ستارے پیدا کرتے ہیں۔

مصباح کا ریکارڈ — ایک عہد کا اختتام؟

مصباح الحق کی 2014 والی اننگز پاکستان کرکٹ کی یادگار ترین اننگز میں سے ایک ہے — اسی میچ میں انہوں نے تیز ترین ٹیسٹ ففٹی کا عالمی ریکارڈ بھی برابر کیا تھا۔ ان کا 56 گیندوں والا پاکستانی ریکارڈ بارہ برس تک قائم رہا۔ آج جب یہ ریکارڈ ٹوٹا ہے تو یہ ایک نسل کی منتقلی کی علامت بھی ہے: پرانے ہیروز کے ریکارڈ نئے نوجوان توڑ رہے ہیں، اور یہی کرکٹ کی خوبصورتی ہے۔

سوال اب یہ ہے: کیا محمد شہزاد اس فارم کو برقرار رکھ کر قومی ٹیم کا دروازہ کھٹکھٹا سکیں گے؟ پاکستان کرکٹ میں ان دنوں نوجوان کھلاڑیوں پر اعتماد کا رجحان بڑھ رہا ہے — صاحبزادہ فرحان کی ٹی ٹوئنٹی کپتانی کی خبروں سے لے کر ایشین گیمز کے نوجوان اسکواڈ تک، مواقع مل رہے ہیں۔ شہزاد نے آج جس طرح دستک دی ہے، اسے نظر انداز کرنا سلیکٹرز کے لیے مشکل ہوگا۔

ڈائمنڈ کرکٹ گراؤنڈ میں یہ میچ ابھی جاری ہے، اور PTV 285/7 کے ساتھ مضبوط پوزیشن میں ہے۔ سکسران زون اس میچ کی مزید پیش رفت پر نظر رکھے گا۔

Post a Comment

0 Comments

Post a Comment (0)
3/related/default