
جنوبی افریقہ نے کنگسمڈ، ڈربن میں پہلے ون ڈے میں آسٹریلیا کو 67 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔ زخمی تیز گیند بازوں کے بغیر کھیلنے والی پروٹیز ٹیم نے پہلے 297/8 کا مضبوط ٹوٹل کھڑا کیا اور پھر آسٹریلیا کو 230 رنز پر ڈھیر کر کے اپنے ہوم کراؤڈ کے سامنے مکمل انصاف کیا۔ اس جیت کے ہیرو میتھیو بریٹزکی رہے، جن کی 106 گیندوں پر 112 رنز کی اننگز نے آسٹریلوی حملے کو بے بس کر دیا۔
بریٹزکی کا مسلسل تیسرا آسٹریلیا-شکار: 112 رنز کی کلاس
میچ کی شروعات پروٹیز کے لیے اچھی نہیں تھی — ابتدائی وکٹیں گرنے کے بعد جب دباؤ بڑھ رہا تھا، بریٹزکی نے کپتان ٹمبا باوما کے ساتھ سنبھل کر کھیلا اور پھر آگے بڑھتے ہوئے آسٹریلوی گیند بازوں پر حملہ کر دیا۔ ان کی 106 گیندوں پر مشتمل 112 رنز کی اننگز ان کی ہوم گراؤنڈ میں پہلی ون ڈے سنچری تھی — پندرہ ون ڈے میں ان کا ایوریج 60 سے اوپر ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ اس کا ون ڈے بیٹنگ ایوریج اب 63 سے اوپر ہے، جو تاریخ کے ان سب سے زیادہ ایوریج رکھنے والے بلے بازوں میں تیسرے نمبر پر ہے جنہوں نے کم از کم 10 اننگز کھیلی ہیں۔
بریٹزکی کے آسٹریلیا کے خلاف یہ تو تیسرا یادگار مظاہرہ تھا — پچھلے سال کی ٹاپ اینڈ سیریز میں بھی اس نے کینگروز کے خلاف 57 اور 88 رنز کی اننگز کھیلی تھیں۔ آج اس نے اپنی سنچری کی خوشی میں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر، دستانے اتار کر اور مٹھیاں ہوا میں لہرا کر منائی — کنگسمڈ کا ہجوم خوشی سے دیوانہ ہو گیا۔
تناؤ، غصہ اور جینسن کی دھماکہ خیز شراکت

میچ کا سب سے متنازع لمحہ اس وقت آیا جب بریٹزکی اور مارکو جینسن ایک گیند پر اضافی رن لے بیٹھے — وکٹ کیپر جوش انگلس کا تھرو وکٹوں کو چھو کر بریٹزکی کے جسم سے لگا اور گیند دور جا گری۔ روایت کے خلاف یہ رن لینے پر عام طور پر پُرسکون رہنے والے ناتھن ایلس آگ بج گئی — انہوں نے بریٹزکی کے ساتھ شدید گرما گرم بحث کی، امپائر کو بیچ میں آ کر معاملہ سلجھانا پڑا۔ ایلس کا غصہ اس وقت مزید بڑھا جب جینسن نے اس کی اگلی دو گیندوں کو چوکو کے پار پہنچا دیا۔ آخر کار ایلس نے جینسن کو ایل بی ڈبلیو کیا، لیکن تب تک دونوں نے چھٹی وکٹ کے لیے 107 رنز کی شراکت بنا کر آسٹریلیا کو میچ سے باہر کر دیا تھا۔
جینسن نے 59 گیندوں پر 75 رنز بنائے جس میں چار چھکے شامل تھے۔ جب وہ بریٹزکی کے ساتھ جوڑا بنا چکے تھے، اس وقت جنوبی افریقہ کا اسکور 16 اوورز میں 168/5 تھا — لیکن آخری 10 اوورز میں پروٹیز نے 89 رنز ٹھوک کر ٹوٹل 297/8 تک پہنچا دیا۔ آسٹریلیا کے لیے ایلس (3/57) اور زمپا (2/50) نے درمیانی اوورز میں باقاعدہ وکٹیں حاصل کیں، لیکن آخری دھماکہ ان کا بوسیدہ حساب بدل گیا۔
آسٹریلیا کا طوفانی آغاز، پھر مہاراج کا جال
299 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا نے دھماکہ خیز شروعات کی — مچل مارش نے 36 گیندوں پر 60 رنز (5 چوکے، 6 چھکے) بنائے اور پاور پلے میں ٹیم کا اسکور 96/1 تک پہنچا۔ ایک لمحے لگا کہ کینگروز یہ ہدف چھوٹا کر دیں گے، لیکن پھر کیشو مہاراج کا جادو چل پڑا۔
مہاراج نے 4 اہم وکٹیں حاصل کیں — مارش (60)، کیمرون گرین (10 گیندوں پر 5) اور ایڈم زمپا (15 گیندوں پر 7) سمیت — اور ان تینوں کیچز خود بریٹزکی نے لیے۔ کوربن بوش نے نچلے آرڈر کو سنبھالنے نہ دیا، اور آخر میں مہاراج نے آسٹریلیا کی اننگز 41.2 اوورز میں 230 رنز پر ختم کر دی۔
سیریز کا حساب کتاب
یہ جیت اس لیے بھی بڑی ہے کہ جنوبی افریقہ اس میچ میں اپنی تیز گیند بازی کے تقریباً پورے ذخیرے کے بغیر اترا تھا — کگیسو ربادا، لونگی نگیڈی، اوٹنیل بارٹمن، کوئنا مافاکا (ہیمسٹرنگ) اور نندری برگر (کمر) سب زخمی ہیں، جبکہ ایڈن مارکرم ذاتی وجوہات کی بنا پر پہلا ون ڈے نہیں کھیلے۔ اس کے باوجود پروٹیز نے دنیا کی مضبوط ترین ون ڈے ٹیموں میں سے ایک کو 67 رنز کے بھاری مارجن سے ہرایا — یہ ان کی پہلے ون ڈے سے پہلے کی تیاریوں کا عملی ثبوت ہے۔
اہم نکات ایک نظر میں
- نتیجہ: جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو 67 رنز سے ہرایا (سیریز میں 1-0 کی برتری)
- جنوبی افریقہ: 297/8 (50 اوورز) — بریٹزکی 112 (106)، جینسن 75 (59)
- بہترین شراکت: بریٹزکی-جینسن، چھٹی وکٹ پر 107 رنز
- آسٹریلیا: 230 (41.2 اوورز) — مارش 60 (36)، مہاراج 4 وکٹیں، ایلس 3/57
- ٹاس: آسٹریلیا نے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا
- اگلا میچ: دوسرا ون ڈے 27 ستمبر کو جوہانسبرگ (وانڈررز)، تیسرا 30 ستمبر کو پوٹشفٹروم
آسٹریلیا کے لیے پریشانی کی گھنٹی یہ ہے کہ انہوں نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا — کنگسمڈ کی پچ پر جو چال ان کے خلاف چلی، اس نے 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تجزیہ: زخمی ٹیم کا حوصلہ، آسٹریلیا کی دھماکہ خیز ناکامی
جنوبی افریقہ کی یہ جیت محض ایک میچ نہیں — یہ اس نوجوان ٹیم کے مزاج کا اعلان ہے۔ ربادا اور نگیڈی جیسے ستاروں کے بغیر، گھریلو سرزمین پر آسٹریلیا جیسی ٹیم کو 67 رنز سے ہرانا کوئی معمولی کارنامہ نہیں۔ بریٹزکی کی اننگز نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ اس دور کے سب سے مستقل مزاج ون ڈے بلے بازوں میں سے ایک بن چکا ہے، جبکہ مہاراج کی سپن نے آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
آسٹریلیا کے لیے مارش کے 36 گیندوں پر 60 رنز کے باوجود درمیانی اوورز میں وکٹوں کا گرنا تشویشناک ہے — زمپا اور ایلس کی بولنگ اچھی تھی، لیکن ان کے بلے بازوں نے دباؤ کا جواب نہیں دیا۔ دوسرا ون ڈے جوہانسبرگ میں 27 ستمبر کو ہوگا، جہاں آسٹریلیا کو سیریز میں واپس آنے کے لیے ہر قیمت پر جیت درکار ہوگی۔ جو روٹ کے 23,000 انٹرنیشنل رنز اور مارک وڈ کی ریٹائرمنٹ سمیت انٹرنیشنل کرکٹ کی ہر بڑی خبر سکسز زون پر آپ تک پہنچتی رہے گی۔
