پی سی بی کا بڑا فیصلہ: کوئی پاکستانی کھلاڑی افغانستان پریمیئر لیگ نہیں کھیلے گا

Sixer Zone Team
0

پی سی بی کا بڑا فیصلہ: کوئی پاکستانی کھلاڑی افغانستان پریمیئر لیگ نہیں کھیلے گا

افغانستان پریمیئر لیگ میں شرکت سے روک دیے گئے پاکستانی کرکٹرز (تصویر: وکیمیڈیا کامنز، CC BY-SA 4.0)

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی کشیدگی اب کرکٹ کے میدان میں بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئی بھی پاکستانی کرکٹر افغانستان پریمیئر لیگ (اے پی ایل) 2026 میں حصہ نہیں لے گا — نہ موجودہ کھلاڑی، نہ ہی سابق کرکٹرز۔

پاکستانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق افغانستان پریمیئر لیگ کی دو فرنچائزز — بلخ زوانان اور قندہار واریئرز — نے چار پاکستانی کھلاڑیوں کو لیگ میں کھیلنے کی پیشکش کی تھی، جبکہ دو سابق پاکستانی کرکٹرز سے کوچنگ کے کردار کے لیے رابطہ کیا گیا تھا۔ لیکن یہ تمام چھوں رابطے ناکام ہو گئے۔

حکومت کا حکم، بورڈ کا فیصلہ

رپورٹ کے مطابق حکومتِ پاکستان نے پی سی بی کو آگاہ کیا کہ کوئی موجودہ یا سابق پاکستانی کھلاڑی افغانستان پریمیئر لیگ میں شریک نہ ہو۔ اس حکومتی ہدایت کے بعد پی سی بی نے واضح کر دیا کہ وہ این او سی (No Objection Certificate) جاری نہیں کرے گا — اور این او سی کے بغیر کوئی پاکستانی کھلاڑی قانونی طور پر اس لیگ کا حصہ نہیں بن سکتا۔

پی سی بی ذرائع کے مطابق بورڈ نے تمام کھلاڑیوں کو صاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ افغانستان کی اس لیگ سے ان کا کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ یہ فیصلہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری سیاسی اور سفارتی تناؤ کا براہِ راست نتیجہ ہے۔

پسِ منظر: پہلے افغان کھلاڑیوں نے پی ایس ایل ٹھکرائی

یہ فیصلہ اچانک نہیں آیا۔ رواں سال کے شروع میں افغان کرکٹرز نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2026 سے منہ موڑ لیا تھا:

  • رحمن اللہ گرباز نے پشاور زلمی کے ساتھ براہِ راست معاہدے کے باوجود پی ایس ایل سے دستبرداری اختیار کی۔
  • لاہور میں نیلامی سے عین قبل محمد نبی، مجیب الرحمن، فضل حق فاروقی، صدیق اللہ اتل اور وقار سلام خیل نے بھی اپنے نام واپس لے لیے۔
  • افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) نے اپنے کھلاڑیوں کے لیے سال میں صرف تین غیر ملکی ٹی ٹوئنٹی لیگز کی حد مقرر کی — اور ان میں پی ایس ایل اور بنگلہ دیش پریمیئر لیگ شامل نہیں۔

اب پاکستان کی جانب سے یہ جوابی قدم واضح پیغام ہے: جیسا سلوک، ویسا جواب۔

2018 میں بھی یہی ہوا تھا

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے۔ 2018 میں جب اے پی ایل کا پہلا ایڈیشن (5 تا 21 اکتوبر، شارجہ) ہوا تھا، تب بھی پی سی بی نے سرگرم پاکستانی کھلاڑیوں کو این او سی جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس وقت کامران اکمل، محمد عرفان، سہیل تنویر اور افتخار احمد جیسے کھلاڑی لیگ میں شرکت سے محروم رہے تھے — صرف وہ کھلاڑی کھیل سکے تھے جو ہر فارمیٹ سے ریٹائر ہو چکے تھے۔

پاکستان سپر لیگ اور افغانستان پریمیئر لیگ کے درمیان کھلاڑیوں کی کشمکش (تصویر: وکیمیڈیا کامنز، CC BY 2.0)

اس فیصلے کا مطلب کیا ہے؟

میرے خیال میں یہ فیصلہ تین سطحوں پر اہم ہے:

  • کھلاڑیوں کے لیے: اے پی ایل جیسی لیگ ایک اضافی آمدنی اور تجربے کا موقع تھی۔ اب یہ دروازہ مکمل بند ہو گیا — اور صرف موجودہ ہی نہیں، سابق کھلاڑی بھی کوچنگ کے مواقع سے محروم رہیں گے۔
  • لیگ کے لیے: افغانستان کی لیگ پاکستانی ناموں سے محروم ہو کر بین الاقوامی دلکشی کھو دے گی۔
  • کرکٹ سیاست کے لیے: یہ واضح کر دیتا ہے کہ پاکستان-افغانستان کرکٹ تعلقات اب مکمل طور پر سفارتی تعلقات کی لپیٹ میں آ چکے ہیں — میدان کی دوستی حکومتوں کے فیصلوں کی محتاج ہو گئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف ایک وقتی جواب ہے، یا دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ کا مکمل علیحدگی کا آغاز؟ آنے والے مہینے بتائیں گے۔

آپ کی کیا رائے ہے — کیا پی سی بی کا یہ فیصلہ درست ہے؟ کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔

Post a Comment

0 Comments

Post a Comment (0)
3/related/default