"مکی آرتھر ذہنی بیمار ہے، کھلے عام کہہ رہا ہوں" — سہیل خان کا دھماکہ

مکی آرتھر — فائل فوٹو: Wikimedia Commons (CC BY-SA 4.0)
سابق پاکستانی فاسٹ بولر سہیل خان نے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر پر ایسا دھماکے دار حملہ کیا ہے جس نے پاکستان کرکٹ کے حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ فواد عالم کے یوٹیوب شو میں گفتگو کرتے ہوئے سہیل خان نے دعویٰ کیا کہ مکی آرتھر "ذہنی بیمار" ہے — اور انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ یہ بات کھلے عام کہہ رہے ہیں۔
سہیل خان کے الفاظ میں: "مکی آرتھر ذہنی بیمار ہے۔ میں کھلے عام کہہ رہا ہوں، وہ پاگل ہے۔ وہ سو فیصد ذہنی بیمار ہے، اور آپ ان کھلاڑیوں سے پوچھ سکتے ہیں جنہیں اس کی حمایت حاصل نہیں تھی۔" یہ بیان راتوں رات سوشل میڈیا پر پھیل گیا اور کرکٹ فینز اس پر شدید بحث کر رہے ہیں۔
سہیل خان کے بڑے الزامات
سہیل خان نے صرف یہی نہیں کہا — انہوں نے آرتھر کے دور کی کوچنگ اور سلیکشن پالیسی پر بھی سنگین سوالات اٹھائے:
- کوچنگ پر سوال: سہیل کا دعویٰ ہے کہ آرتھر کو "کوچنگ آتی ہی نہیں تھی"، اس کے باوجود مشتاق احمد انہیں پاکستان کے سیٹ اپ میں لے آئے۔
- سفارشی سلیکشن: سہیل کے مطابق آرتھر کے دور میں کھلاڑیوں کا انتخاب صرف کارکردگی پر نہیں ہوتا تھا، بلکہ "طاقتور لوگوں" کے اثر پر بھی ہوتا تھا۔
- ذاتی ناانصافی: سہیل کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان اور پی ایس ایل میں عمدہ کارکردگی کے باوجود بار بار نظر انداز کیا گیا اور ٹیم سے باہر رکھا گیا۔
- مشتاق احمد کا کردار: سہیل نے انکشاف کیا کہ مشتاق احمد اور آرتھر کی بنگلہ دیش کے دورے کے دوران ملاقات ہوئی تھی، اور اسی کے بعد آرتھر کو پاکستان کا کوچ بنایا گیا۔

مکی آرتھر پاکستان کے ہیڈ کوچ کے دور میں — فائل فوٹو: Wikimedia Commons (CC BY-SA 4.0)
یہ وہ پہلا موقع نہیں جب سہیل خان اور مکی آرتھر کے درمیان تعلقات خراب ہونے کی خبریں سامنے آئی ہوں۔ 2017 میں پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کے دوران کراچی کنگز کے ڈریسنگ روم میں آرتھر کی سخت ڈانٹ ڈپٹ والی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں سہیل خان بھی مرکز میں تھے۔ اس کے بعد 2018 میں آرتھر نے خود ڈان نیوز کو انٹرویو میں کہا تھا کہ سہیل خان اب "دس سال تاخیر سے آئے ہیں" اور قومی ٹیم میں ان کی واپسی کے امکانات بہت کم ہیں۔
سوشل میڈیا پر دھماکہ، مداح تقسیم
سہیل خان کے اس بیان کے بعد پاکستانی کرکٹ کے مداح دو کیمپوں میں تقسیم نظر آ رہے ہیں۔ ایک گروپ سہیل کی حمایت کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ پاکستان کرکٹ میں سفارش اور پسند ناپسند کی بنیاد پر سلیکشن کوئی نئی بات نہیں۔ دوسرا گروپ آرتھر کے ریکارڈ کا حوالہ دے رہا ہے — یاد رہے کہ آرتھر ہی وہ کوچ تھے جن کی قیادت میں پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی 2017 جیتی تھی، اور وہ 2023 میں ڈائریکٹر کے طور پر بھی پاکستان کرکٹ سے وابستہ رہے۔
ابھی تک مکی آرتھر کی طرف سے اس بیان کا کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔ یہ الزام ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان کرکٹ پہلے ہی کوچنگ کے محاذ پر ہلچل سے گزر رہی ہے — حالیہ دنوں میں باؤلنگ کوچ ایشلے نوفکے نے استعفیٰ دے کر نیدرلینڈز کا ہیڈ کوچ بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ پاکستان کرکٹ کے اندرونی مسائل کی یہ نئی قسط مزید سوالات پیدا کر رہی ہے۔
یہ معاملہ اتنا بڑا کیوں ہے؟
سہیل خان کا بیان محض ایک پرانے کھلاڑی کا غصہ ہو سکتا ہے — لیکن یہ پاکستان کرکٹ کے سلیکشن کلچر پر ایک اور سوالیہ نشان بھی ہے۔ اگر ایک سابق قومی کھلاڑی کھلے عام کہہ رہا ہے کہ سلیکشن میں "طاقتور لوگوں" کا کردار ہوتا ہے، تو یہ پی سی بی کے موجودہ نظام کے لیے بھی ایک تنبیہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا مکی آرتھر اس کا جواب دیں گے، یا وہ اس معاملے کو خاموشی سے گزر جانے دیں گے۔
آپ کی رائے کیا ہے — کیا سہیل خان کا الزام درست ہے یا یہ صرف ماضی کا غصہ ہے؟ کمنٹس میں بتائیں۔
مزید پڑھیں
- پاکستان کرکٹ کو ایک اور جھٹکا — باؤلنگ کوچ ایشلے نوفکے کا استعفیٰ، نیدرلینڈز کا ہیڈ کوچ بن گئے
- پی ایس ایل 2027 پھر آئی پی ایل سے ٹکرائے گا — اپریل-مئی ونڈو برقرار رکھنے کی تیاریاں
- بابر اعظم کی سات سال بعد فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی — کیا واپسی کا سفر آسان ہوگا؟
ماخذ: اے بی پی لائیو، کرکٹ ایڈکٹر (26 ستمبر 2026)۔ یہ مضمون رپورٹ شدہ بیانات پر مبنی ہے؛ سہیل خان کے الزامات ان کی ذاتی رائے ہیں۔
