39 سال کی عمر، ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کی ٹیم میں جگہ کے سوالات، اور پھر بھی روہت شرما نے آج وہ کر دکھایا جو 22 سال سے سچن ٹنڈولکر کے نام درج تھا۔ نیو چندی گڑھ کے پی سی اے اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ون ڈے میں روہت نے اوپنر کے طور پر 10 ہزار ون ڈے رنز کا سنگِ میل صرف 202 اننگز میں عبور کر کے ٹنڈولکر کے 214 اننگز کے دیرینہ ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا — اور یہ کارنامہ انہوں نے ایسے وقت میں انجام دیا جب بھارت کے کپتان شبمن گل اور ویرات کوہلی میچ کی پہلی تین اوورز میں ہی پویلین لوٹ چکے تھے۔

ریکارڈ کیسے بنا؟
میچ کی تیسری ہی گیند پر روہت کو صرف 2 رنز درکار تھے، اور انہوں نے جیڈن سیلز کی گیند پر دوڑ کر دو رنز لے کر تاریخ رقم کر دی۔ شروع میں انہوں نے انتہائی محتاط کھیل پیش کیا — پہلی 43 گیندوں پر صرف 21 رنز — کیونکہ سیلز نئی گیند سے خطرناک سوئنگ کر رہے تھے۔ مگر پھر رتوراج گائیکواڈ کے ساتھ مل کر انہوں نے اننگز کو سنبھالا اور 92 گیندوں پر 85 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس میں 10 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے۔ سنچری سے صرف 8 رنز کی دوری پر وہ آؤٹ ہو گئے، مگر اس سے پہلے وہ کرکٹ کی تاریخ میں اپنا نام ہمیشہ کے لیے لکھوا چکے تھے۔
تیز ترین 10 ہزار — اوپنرز کی خصوصی فہرست
روہت شرما ون ڈے تاریخ کے صرف چوتھے اوپنر بن گئے ہیں جنہوں نے اوپننگ کرتے ہوئے 10 ہزار رنز مکمل کیے۔ ان سے پہلے یہ اعزاز صرف ان تین عظیم بلے بازوں کو حاصل تھا:
- روہت شرما — 202 اننگز (بمقابلہ ویسٹ انڈیز، چندی گڑھ، 3 اکتوبر 2026)
- سچن ٹنڈولکر — 214 اننگز (بمقابلہ آسٹریلیا، برسبین، 18 جنوری 2004)
- کرس گیل — 268 اننگز
- سنتھ جے سوریا — 303 اننگز
![]()
اے این آئی کے مطابق روہت کے اب مجموعی طور پر 204 میچز میں 10,090 رنز ہیں، اوسط 54.83، جن میں 33 سنچریاں اور 50 نصف سنچریاں شامل ہیں۔
میچ کا خلاصہ — ریکارڈ بنا، مگر میچ ہاتھ سے گیا
- بھارت 351/7 (50 اوورز): کے ایل راہول 129* (87 گیندیں — 80 گیندوں پر سنچری، کیریئر کی 9ویں ون ڈے سنچری)، روہت 92، گائیکواڈ 57، نمن دھیر 30
- شبمن گل نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا؛ سیلز نے لگاتار گیندوں پر گل (1) اور کوہلی (0، گولڈن ڈک) کو آؤٹ کیا — 3/62
- ویسٹ انڈیز 352/5 (48.2 اوورز) — 352 رنز کا ہدف حاصل کر کے 5 وکٹوں سے کامیابی؛ سیریز بھارت نے 2-1 سے اپنے نام کی
یہ ریکارڈ کیوں خاص ہے؟
پہلی بات: یہ محض ایک عددی سنگِ میل نہیں — ٹنڈولکر کا ریکارڈ 22 سال سے قائم تھا، اور روہت نے اسے 12 اننگز پہلے توڑ کر ثابت کر دیا کہ وہ ون ڈے کرکٹ کے عظیم ترین اوپنرز میں شمار ہوتے ہیں۔
دوسری بات: 39 سال کی عمر میں، ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اب صرف ون ڈے کھیلنے والے روہت کے لیے یہ سیریز ورلڈ کپ 2027 کی دوڑ میں اپنی اہمیت ثابت کرنے کا موقع تھی — اور انہوں نے اسے دونوں ہاتھوں سے تھاما: گوہاٹی میں دوسرے ون ڈے میں سنچری، پھر آج 92 رنز اور عالمی ریکارڈ۔
تیسری بات: ستم ظریفی یہ ہے کہ ریکارڈ کے باوجود بھارت یہ میچ نہ جیت سکا۔ 351 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف بھی ویسٹ انڈیز کو نہ روک سکا — 352 رنز کا تعاقب 48.2 اوورز میں مکمل ہو گیا۔ ریکارڈ کتابوں میں درج ہو گیا، مگر میچ مہمان ٹیم کے نام رہا۔
مزید پڑھیں:
