تاریخ رقم! ویرات کوہلی ون ڈے میں 15,000 رنز بنانے والے دنیا کے دوسرے بلے باز
کرکٹ کی تاریخ میں آج ایک اور سنہرا باب رقم ہو گیا۔ ویرات کوہلی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ون ڈے میں 15,000 ون ڈے رنز مکمل کر لیے ہیں — وہ سچن ٹنڈولکر کے بعد اس سنگِ میل کو عبور کرنے والے دنیا کے صرف دوسرے بلے باز بن گئے ہیں۔ اور سب سے حیران کن بات؟ کوہلی نے یہ کارنامہ ٹنڈولکر سے 74 اننگز پہلے انجام دیا ہے!
تصویر: ویرات کوہلی — وکیمیڈیا کامنز (آزادانہ استعمال)
ریکارڈ ساز لمحہ — 29 ویں اوور میں چوکا
تھرواننتاپورم کے گرین فیلڈ اسٹیڈیم میں بھارت 296 رنز کے ہدف کا تعاقب کر رہا تھا۔ کوہلی کو سنگِ میل کے لیے 59 رنز درکار تھے۔ 29 ویں اوور میں الزاری جوزف کی گیند پر انہوں نے لگاتار تین چوکے جڑے — اور دوسرے چوکے کے ساتھ ہی 15,000 رنز مکمل ہو گئے۔ اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین کھڑے ہو کر داد دینے لگے، کوہلی نے ایک بار بلا بلند کیا، شبمن گل نے انہیں گلے لگایا، اور پھر وہ فوراً اگلی گیند کے لیے تیار ہو گئے۔ یہی کوہلی ہیں — جشن مختصر، توجہ ہمیشہ اگلی گیند پر۔
اعداد و شمار جو حیران کر دیں
- 303 اننگز میں 15,000 رنز — تاریخ کے تیز ترین؛ ٹنڈولکر کو 377 اننگز لگی تھیں
- ٹنڈولکر (18,426 رنز) کے بعد دوسرے نمبر پر؛ تیسرے نمبر پر کمار سنگاکارا (14,234 رنز)
- 14,000 سے 15,000 تک کا سفر صرف 16 اننگز میں طے کیا
- ون ڈے میں 54 سنچریاں — ٹنڈولکر کی 49 سے بھی زیادہ
- اوسط 58.6 — اس سطح پر اتنے رنز بنانے والوں میں بے مثال
- اسی اننگز میں 80 ویں ون ڈے ففٹی بھی مکمل کی
- ویسٹ انڈیز کے خلاف 44 واں ون ڈے — کسی بھارتی کا سب سے زیادہ، محمد اظہرالدین (43) کا ریکارڈ ٹوٹا
میچ کا احوال — گِل کی سنچری، کلدیپ کا جادو
اس تاریخی دن کی بنیاد ویسٹ انڈیز نے رکھی تھی۔ جسٹن گریوز نے شاندار 101 رنز (108 گیندوں) کی پہلی ون ڈے سنچری بنائی اور جان کیمپبل (62) کے ساتھ 135 رنز کی اوپننگ شراکت قائم کی۔ ایک وقت میں ویسٹ انڈیز 135/0 پر تھا اور بڑا اسکور یقینی لگ رہا تھا۔
پھر کلدیپ یادو نے جادو جگایا — 4/40 کی شاندار باؤلنگ سے مڈل آرڈر تہس نہس کر دیا۔ گریوز، ہوپ، اینڈریو سمیت اہم وکٹیں لے کر ویسٹ انڈیز کو 295/7 تک محدود کر دیا۔
تصویر: روہت شرما — وکیمیڈیا کامنز (آزادانہ استعمال)
جواب میں کپتان شبمن گل نے محض 96 گیندوں پر اپنی 10 ویں ون ڈے سنچری داغ دی۔ روہت شرما (32) جلد آؤٹ ہوئے، لیکن پھر گِل اور کوہلی نے ایسی شراکت بنائی کہ ویسٹ انڈین باؤلرز بے بس نظر آئے۔ جب یہ سطریں لکھی جا رہی ہیں، بھارت 217/1 پر ہے اور جیت بس چند اوورز کی دوری پر ہے۔
تجزیہ — کوہلی کو عظیم کیا بناتا ہے؟
اعداد اپنی جگہ، لیکن کوہلی کی اصل عظمت تعاقب میں ہے۔ 15,000 رنز میں سے بیشتر انہوں نے دباؤ والے لمحات میں، ہدف کے تعاقب میں بنائے ہیں — اسی لیے انہیں "چیز ماسٹر" کہا جاتا ہے۔ ٹنڈولکر نے 1989 سے 2012 تک 24 سال میں جو مقام بنایا، کوہلی اسے کم عرصے اور بہتر اوسط کے ساتھ چھو رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ میچ سے پہلے جب ان سے "سب سے عظیم" ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو کوہلی نے کہا: "میں خود کو اب تک کا بہترین نہیں سمجھتا۔ مختلف ادوار میں مختلف کھلاڑی رہے ہیں اور انہوں نے حیران کن کارنامے انجام دیے ہیں۔" — عاجزی بھی چیمپئن والی!
اب نظریں 2027 ورلڈ کپ پر ہیں۔ کوہلی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ ورلڈ چیمپئن بن کر رخصت ہونا چاہتے ہیں۔ اگر فارم یہی رہی تو 18,426 کا ٹنڈولکر والا حتمی ریکارڈ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے — اگرچہ اس کے لیے اب بھی 3,400 سے زائد رنز درکار ہیں۔
آج کا دن بھارتی کرکٹ کے لیے دوہری خوشی لے کر آیا — گِل کی کپتانی میں سنچری اور کوہلی کا تاریخی سنگِ میل۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کا یہ آغاز بتا رہا ہے کہ بھارت کی وائٹ بال مشین پوری رفتار سے چل رہی ہے۔
