ملر کے طوفانی 142 اور باووما کے 103: جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو 32 رنز سے ہرا کر سیریز 2-0 سے اپنے نام کر لی

Sixer Zone Team
0

ملر کے طوفانی 142 اور باووما کے 103: جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو 32 رنز سے ہرا کر سیریز 2-0 سے اپنے نام کر لی

ڈیوڈ ملر کی ایکشن تصویر — جنوبی افریقہ کے ہارڈ ہیٹر بلے باز

تصویر: Wikimedia Commons (فائل فوٹو) — لائسنس CC BY-SA 4.0

جوہانسبرگ کے وانڈررز اسٹیڈیم میں اتوار کی رات ایک ایسا طوفان آیا جس کے سامنے آسٹریلیا کی پوری بولنگ لائن بے بس نظر آئی۔ ڈیوڈ ملر نے 93 گیندوں پر 142 رنز کی کریئر بہترین اننگز کھیلی، کپتان ٹیمبا باووما نے 103 رنز کا ذمہ دارانہ سینچری جوڑا، اور جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو 32 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی ون ڈے سیریز ایک میچ پہلے ہی 2-0 سے اپنے نام کر لی۔

آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا تھا — اور پہلی گیند پر ہی جوش ہیزل ووڈ کی گیند پر کوپر کونولی کے شاندار ایک ہاتھ کے کیچ نے ایڈن مارکرم کو واپس بھیج دیا۔ مگر پھر باووما اور ملر نے چوتھی وکٹ کے لیے 156 رنز کی شراکت جوڑ کر میچ کا رخ ہی بدل ڈالا۔ پروٹیز نے 50 اوورز میں 365/9 کا پہاڑ جیسا مجموعہ کھڑا کیا۔

ملر کا آسٹریلیا کے خلاف عشق جاری — نئے ریکارڈز کی بھرمار

ڈیوڈ ملر کی اننگز محض ایک سینچری نہیں تھی، یہ ریکارڈز کی بارش تھی۔ 12 چوکے اور 9 چھکے لگا کر انہوں نے اپنے ون ڈے کریئر کا سب سے بڑا اسکور بنایا اور آٹھواں ون ڈے سینچری مکمل کیا۔

  • آسٹریلیا کے خلاف 28 اننگز میں 1184 رنز — اوسط 59.2، اسٹرائیک ریٹ تقریباً 107، چار سینچریاں۔ صرف فاف ڈو پلیسی (5 سینچریاں) ان سے آگے ہیں۔
  • نمبر پانچ یا اس سے نیچے بیٹنگ کرتے ہوئے یہ ملر کا 31 واں 50+ اسکور تھا — انہوں نے لیجنڈری جونٹی روڈز (30) کا ریکارڈ توڑ دیا۔
  • ان کے 8 ون ڈے سینچریاں نچلے مڈل آرڈر میں اب انگلینڈ کے جوس بٹلر کے برابر ہیں — اور انہوں نے یوراج سنگھ اور ایم ایس دھونی (7، 7) کو پیچھے چھوڑ دیا۔

باووما کی 103 رنز کی اننگز (116 گیندیں، 10 چوکے، 2 چھکے) بھی کم اہم نہیں — یہ ان کا چھٹا ون ڈے سینچری اور بطور کپتان پانچواں تھا، جس سے وہ فاف ڈو پلیسی کے برابر آ گئے۔

آسٹریلیا کی زوردار شروعات، پھر اسپن کا جال

366 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا نے دھماکے دار آغاز کیا — مچ مارش (53 گیندوں پر 84) اور ٹریوس ہیڈ (76 گیندوں پر 84) نے 17 اوورز میں 130 رنز جوڑے۔ مگر پھر پروٹیز کے تین اسپنرز نے شکنجہ کس دیا: کیشو مہاراج (2/54)، بیورن فورٹین (2/70) اور مارکرم (1/55)۔

زاویر بارٹلٹ نے 28 گیندوں پر 50 رنز بنا کر آسٹریلیا کو میچ میں واپس لانے کی کوشش کی، مگر لیزاد ولیمز (3/54) نے نچلے مڈل آرڈر کو لپیٹ دیا اور آسٹریلیا 49.5 اوورز میں 333 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ نیتھن ایلس کو میچ کے دوران سائیڈ اسٹرین ہو گئی اور وہ صرف 4 اوورز کرا سکے، جبکہ پیٹ کمنز بھی مسلسل غیر موجود رہے — آسٹریلیا کو ان کی کمی صاف محسوس ہوئی۔

آسٹریلوی کپتان مچ مارش نے شکست کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: "یہ واقعی مایوس کن ہے۔ ہم یہاں سیریز 1-1 سے برابر کرنے کے عزم سے آئے تھے، مگر جنوبی افریقہ نے بہتر کھیلا۔ ہم وائٹ واش نہیں ہونا چاہتے۔"

یہ فتح کتنی بڑی ہے؟

  • یہ پروٹیز کی آسٹریلیا کے خلاف مسلسل چھٹی ون ڈے سیریز فتح ہے، اور دونوں ٹیموں کے درمیان آخری 16 سیریز میں سے 10 جنوبی افریقہ نے جیتی ہیں۔
  • آخری 25 ون ڈے مقابلوں میں یہ پروٹیز کی 19 ویں جیت تھی — ایک واضح برتری۔
  • جیک ایڈورڈز (دوسرا ون ڈے) نے 10 اوورز میں 5/67 لے کر آسٹریلیا کی طرف سے متاثر کن کارکردگی دکھائی۔
  • سیریز کا آخری میچ بدھ کو پوچفسٹروم میں کھیلا جائے گا، جہاں آسٹریلیا وائٹ واش سے بچنے کی کوشش کرے گی۔
وانڈررز اسٹیڈیم جوہانسبرگ — جہاں جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو ہرا کر سیریز جیتی

تصویر: وانڈررز اسٹیڈیم، جوہانسبرگ — Wikimedia Commons (فائل فوٹو) — لائسنس CC BY 4.0

2027 ورلڈ کپ کی میزبانی کی تیاری کے طور پر یہ سیریز جنوبی افریقہ کے لیے بہت اہم تھی، اور اس طرح کی جامع فتح ان کے اعتماد میں بڑا اضافہ کرے گی۔ آپ کو کیا لگتا ہے — کیا آسٹریلیا پوچفسٹروم میں وائٹ واش سے بچ سکے گی؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور بتائیں!

Post a Comment

0 Comments

Post a Comment (0)
3/related/default