تصویر: کیشو مہاراج ایکشن میں — فائل فوٹو: ڈیو مورٹن، Wikimedia Commons (پبلک ڈومین)
اتوار کو جوہانسبرگ کے وانڈررز اسٹیڈیم میں تین میچوں کی ون ڈے سیریز کا دوسرا مقابلہ کھیلا جائے گا — اور یہ محض ایک میچ نہیں، آسٹریلیا کے لیے سیریز بچانے کی آخری جنگ ہے۔ جنوبی افریقہ نے ڈربن میں پہلا ون ڈے 67 رنز سے جیت کر سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر رکھی ہے، اور اب پروٹیز ایک اور فتح کے ساتھ سیریز اپنے نام کرنے کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ میچ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 1 بجے شروع ہوگا۔
پہلا ون ڈے: ڈربن میں کیا ہوا تھا؟
کنگزمیڈ میں جمعرات کو جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو مکمل طور پر قابو میں رکھا۔ پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پروٹیز نے 297/8 بنائے — میتھیو بریٹزکی کی شاندار 112 رنز (106 گیندوں) کی سنچری اور مارکو یانسن کی جارحانہ 75 رنز (59 گیندوں) کی اننگز نمایاں رہی۔ جواب میں آسٹریلیا 230 رنز پر ڈھیر ہو گئی — مچل مارش کی 36 گیندوں پر 60 رنز کی اننگز کے باوجود مڈل آرڈر اسپن کے سامنے بکھر گیا۔ کیشو مہاراج کی 4 وکٹوں نے آسٹریلوی بیٹنگ کی کمر توڑ دی، جبکہ بریٹزکی نے فیلڈنگ میں بھی 3 کیچ پکڑے۔ (پہلے ون ڈے کی مکمل رپورٹ یہاں پڑھیں۔)
آسٹریلیا کی بڑھتی مشکلات: انگلس بھی باہر
آسٹریلیا کے مسائل صرف ڈربن کی شکست تک محدود نہیں۔ وکٹ کیپر بیٹسمین جوش انگلس کی دائیں انگلی میں فریکچر ہو گیا ہے اور وہ سیریز کے بقیہ دونوں ون ڈے سے باہر ہو چکے ہیں — اب وہ 9 اکتوبر سے شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز کے لیے فٹ ہونے کی دوڑ میں ہیں۔ (انگلس کی انجری کی تفصیل یہاں پڑھیں۔)
دوسری طرف آسٹریلوی مڈل آرڈر کو ڈربن میں اسپن کے خلاف بے بسی کا سامنا کرنا پڑا۔ وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری اب تجربہ کار ایلیکس کیری سنبھالیں گے، جو اسکواڈ میں پہلے سے موجود ہیں — کرکٹ آسٹریلیا نے ابھی تک انگلس کا کوئی متبادل نامزد نہیں کیا۔ البتہ اچھی خبر یہ ہے کہ تیز گیند بازوں کی تینوں — پیٹ کمنز، مچل اسٹارک اور جوش ہیزل وڈ — وانڈررز کی اچھلتی پچ پر زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، اور بعض رپورٹس کے مطابق کمنز دوسرے میچ میں ٹیم میں واپسی بھی کر سکتے ہیں۔
پنک ڈے: گلابی رنگ میں رنگا وانڈررز
جوہانسبرگ کا یہ میچ محض کرکٹ کا مقابلہ نہیں — یہ وانڈررز کا سالانہ "پنک ڈے" بھی ہے، جو بریسٹ کینسر آگاہی کے لیے منایا جاتا ہے۔ اس روایت کے تحت کھلاڑی گلابی رنگ کی کٹس پہنتے ہیں اور اسٹیڈیم گلابی رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ جنوبی افریقہ کے لیے یہ دن ہمیشہ جذباتی رہا ہے، اور پروٹیز اس خصوصی موقع پر سیریز جیت کر جشن دوگنا کرنا چاہیں گے۔
جنوبی افریقہ: کمزور پیس اٹیک کے باوجود مکمل اعتماد
دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوبی افریقہ اپنے فرنٹ لائن فاسٹ بولرز کے بغیر کھیل رہا ہے — کاگیسو ربادا، لنگی اینگڈی، اوٹنیل بارٹ مین اور ناندرے برگر دستیاب نہیں، اور نوجوان کوینا مافاکا بھی ٹریننگ میں ہیمسٹرنگ انجری کی وجہ سے سیریز سے باہر ہو گئے۔ اس کے باوجود جیرالڈ کوٹزی، مارکو یانسن اور کوربن بوش نے نئی گیند سے اچھا کام کیا، اور مہاراج کے ساتھ بیورن فورٹوئن کی اسپن جوڑی نے مڈل اوورز میں آسٹریلیا کو جکڑے رکھا۔
بیٹنگ میں بریٹزکی فارم کے عروج پر ہیں، باووما اور رکّلٹن نے بھی مفید شراکتیں کیں۔ ایک انتخابی سوال ضرور ہے: ایڈن مارکرم پہلا ون ڈے ذاتی وجوہات کی بنا پر نہیں کھیلے تھے — اگر وہ واپس آتے ہیں تو ٹونی ڈی زورزی کو باہر بیٹھنا پڑ سکتا ہے۔
تصویر: مچل مارش — فائل فوٹو: ڈیوڈ مولوئے، Wikimedia Commons (CC BY 2.0)
وانڈررز کا میدان اور دلچسپ اعداد و شمار
- وانڈررز کی پچ ڈربن سے زیادہ اچھال والی ہوتی ہے — یہ آسٹریلیا کے تیز گیند بازوں کے لیے اچھی خبر ہو سکتی ہے۔
- پچھلے 10 ون ڈے مقابلوں میں جنوبی افریقہ نے 7 جیتے ہیں، آسٹریلیا صرف 3۔
- مجموعی طور پر دونوں ٹیموں کے درمیان 114 ون ڈے ہوئے: جنوبی افریقہ 58، آسٹریلیا 52۔
- تیسرا اور آخری ون ڈے بدھ 30 ستمبر کو پاٹشیفسٹروم کے سینویس پارک میں کھیلا جائے گا۔
نظریں کن کھلاڑیوں پر ہوں گی؟
کیشو مہاراج: ڈربن میں 4 وکٹیں لینے کے بعد اب سب کی نظریں ان پر ہیں — آسٹریلیا کے بلے باز مڈل اوورز میں انہیں کیسے کھیلتے ہیں، یہی میچ کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ میتھیو بریٹزکی: سنچری کے بعد اعتماد سے بھرپور، اور 3 کیچ بھی پکڑ چکے ہیں۔ مچل مارش: پہلے میچ کے ٹاپ اسکورر — آسٹریلیا کو ایک بار پھر ان کے جارحانہ آغاز کی ضرورت ہوگی۔ ٹریوس ہیڈ: ڈربن میں صرف 36 رنز بنا سکے، انہیں بڑی اننگز کھیلنا ہوگی۔
تجزیہ: سیریز یہیں ختم ہو سکتی ہے
میرے نزدیک اس میچ کی اصل کہانی اسپن بمقابلہ آسٹریلوی بیٹنگ ہے۔ ڈربن میں آسٹریلیا نے دکھایا کہ وہ مہاراج اور فورٹوئن کو مڈل اوورز میں نہیں سمجھ پائے — اور وانڈررز میں بھی یہی جوڑی ان کا سب سے بڑا امتحان ہوگی۔ آسٹریلیا کے پاس باؤنس کا ہتھیار ضرور ہے: اگر اسٹارک اور ہیزل وڈ نئی گیند سے جلد وکٹیں لے لیں تو میچ پلٹ سکتا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنوبی افریقہ اس وقت ہر شعبے میں بہتر نظر آ رہا ہے — فارم میں بیٹنگ، متوازن بولنگ، اور گھر کی کنڈیشنز۔ اگر پروٹیز اپنا کھیل دہراتے ہیں تو اتوار کی شام سیریز ان کے نام ہوگی، اور آسٹریلیا کو پاٹشیفسٹروم میں صرف عزت بچانے کے لیے کھیلنا پڑے گا۔
