تصویر: شبمن گل — فائل فوٹو: بالی ووڈ ہنگامہ، Wikimedia Commons (CC BY 3.0)
بھارتی کرکٹ شائقین کے لیے بڑی راحت کی خبر آ گئی۔ بھارت کے بیٹنگ کوچ سیتنشو کوٹک نے ہفتے کو تصدیق کر دی ہے کہ کپتان شبمن گل پہلے ون ڈے کے لیے مکمل فٹ ہیں اور اتوار کو ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے افتتاحی میچ میں ٹیم کی کپتانی کریں گے۔ جمعے کو نیٹ سیشن میں کہنی پر گیند لگنے کے بعد جو ڈر پیدا ہوا تھا، اب وہ ختم ہو چکا ہے — اور بھارت کل اپنی مضبوط ترین ٹیم کے ساتھ میدان میں اترے گا۔
جمعے کو نیٹ میں کیا ہوا تھا؟
جمعے کے روز تھرواننت پورم کے گرین فیلڈ اسٹیڈیم میں نیٹ سیشن کے دوران تجربہ کار فاسٹ بولر محمد سراج کی ایک اٹھتی ہوئی لینتھ گیند شبمن گل کی دائیں کہنی پر جا لگی۔ گیند لگتے ہی گل نے درد سے بلّا چھوڑ دیا اور نیٹ سے باہر نکل آئے۔
ٹیم فزیو نے تقریباً آدھے گھنٹے تک ان کا معائنہ کیا، کہنی پر برف کا پیک لگایا گیا اور پٹی بھی باندھی گئی۔ گل نے باقی سیشن میں بیٹنگ دوبارہ شروع نہیں کی، جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ اگر کپتان پہلے ون ڈے سے باہر ہوئے تو نائب کپتان کے ایل راہول کو کپتانی سنبھالنا پڑے گی اور اوپننگ میں روہت شرما کے ساتھ یشسوی جےسوال کو موقع مل سکتا تھا۔ (صبح کی تفصیلی خبر یہاں پڑھیں۔)
کوٹک کا مثبت اپڈیٹ: "وہ فٹ ہیں، کھیلنے کے لیے تیار"
میچ سے ایک روز قبل پریس کانفرنس میں بیٹنگ کوچ سیتنشو کوٹک نے تمام خدشات دور کر دیے:
"مجھے لگتا ہے وہ ٹھیک ہیں؛ وہ کھیلنے کے لیے فٹ ہیں" — سیتنشو کوٹک، بھارت کے بیٹنگ کوچ
ایک اور رپورٹ کے مطابق کوٹک نے یہ بھی کہا کہ گل اننگز کا آغاز کرنے کے لیے بھی تیار ہیں، یعنی اوپننگ کمبی نیشن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
میڈیکل رپورٹس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ چوٹ صرف ایک نرم خراش (soft bruise) ہے جو عموماً 24 سے 48 گھنٹوں میں ٹھیک ہو جاتی ہے — نہ کوئی فریکچر، نہ بالوں جتنی دراڑ، نہ لیگامینٹ کا مسئلہ۔ اسی لیے مناسب برف، دوا اور آرام کے بعد کپتان کو گرین سگنل مل گیا۔ حوصلہ افزا بات یہ بھی ہے کہ گل نے نیٹ میں تھرو ڈاؤنز کا سامنا بھی کیا، جو فٹنس کا اچھا اشارہ ہے۔
یہ پہلی بار نہیں — گل کا حوصلہ پہلے بھی آزمایا گیا
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شبمن گل کے لیے مہینے بھر میں دوسرا انجر اسکیئر ہے۔ گزشتہ ماہ سری لنکا کے دورے پر ٹریننگ کے دوران ان کی انگوٹھی والی انگلی پر گیند لگی تھی، مگر وہ صحت یاب ہو کر پوری سیریز کھیلے اور بھارت نے 0-1 سے کامیابی حاصل کی۔ اس بار بھی کہانی ویسے ہی دہرائی گئی — ڈر بڑا، چوٹ چھوٹی، اور کپتان میدان میں واپس۔
تصویر: محمد سراج — فائل فوٹو: آنند انیل، Wikimedia Commons (CC BY-SA 4.0)
کل کے پہلے ون ڈے کا منظرنامہ
تین میچوں کی ون ڈے سیریز کا پہلا میچ اتوار 27 ستمبر کو گرین فیلڈ اسٹیڈیم، تھرواننت پورم میں کھیلا جائے گا۔ اس سیریز کی اہمیت صرف جیت ہار سے کہیں زیادہ ہے:
- روہت شرما اور ویرات کوہلی کی ون ڈے میں واپسی — دونوں سینئر بیٹسمین ٹیم میں شامل ہیں اور تمام نظریں ان پر ہوں گی۔
- روندر جڈیجہ کی فارمیٹ میں واپسی، جبکہ عاقب نبی اور نمن دھیر کو پہلی بار ون ڈے کال اپ ملا ہے۔
- بھارت جسپریت بمراہ، شریاس ائیر، ایشان کشن اور اکشر پٹیل کے بغیر کھیلے گا — یہ چاروں ایشین گیمز کی بھارتی ٹیم کا حصہ ہیں۔
- ویسٹ انڈیز 2006 کے بعد سے بھارت میں کوئی دو طرفہ ون ڈے سیریز نہیں جیت سکا — شائی ہوپ کی ٹیم کے لیے یہ بڑا چیلنج ہے۔
- رپورٹس کے مطابق افتتاحی میچ کے ٹکٹ 24 گھنٹوں میں فروخت ہو گئے تھے — کیرالہ میں کرکٹ کا جنون عروج پر ہے۔
تجزیہ: گل کی موجودگی کیوں فیصلہ کن ہے؟
میرے نزدیک اس خبر کی اصل اہمیت صرف ایک کھلاڑی کی فٹنس سے آگے ہے۔ شبمن گل اب بھارت کے ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں فارمیٹس کے کپتان ہیں، اور 2027 کے ورلڈ کپ کی تیاریوں کے اس اہم مرحلے پر قیادت میں تسلسل بے حد قیمتی ہے۔ اگر گل باہر ہوتے تو نہ صرف کپتانی بدلتی بلکہ اوپننگ جوڑی بھی نئی بنتی — ایسے میں ٹیم کا توازن ہل سکتا تھا۔
دوسری طرف، یہ واقعہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ نیٹ سیشنز میں فاسٹ بولرز کے خلاف احتیاط کتنی ضروری ہے — سراج جیسے گیند باز کی ایک گیند پوری سیریز کا نقشہ بدل سکتی تھی۔ خوش قسمتی سے اس بار معاملہ صرف ڈر تک محدود رہا۔
کل کا میچ بھارت کے لیے 2027 ورلڈ کپ کی سمت ایک اور قدم ہوگا — اور کپتان کی موجودگی میں یہ قدم زیادہ مضبوط ہوگا۔
