این سی سی آئی اے کا رضوان کو دوسرا نوٹس: 2 اکتوبر کو لاہور میں ذاتی پیشی کا حکم
تصویر: محمد رضوان (فائل فوٹو) — Wikimedia Commons، لائسنس CC BY 3.0
محمد رضوان اور این سی سی آئی اے کے درمیان چل رہی کھینچا تانی میں آج ایک نیا اور سنگین موڑ آ گیا ہے۔ کل ہی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ رضوان نے این سی سی آئی اے کو خط لکھ کر اپنا ضبط شدہ موبائل فون واپس مانگا اور تحقیقات کی تحریری وضاحت طلب کی تھی — اور آج قومی سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نے دوسرا نوٹس جاری کر کے رضوان کو 2 اکتوبر کو لاہور میں ذاتی پیشی کا حکم دے دیا ہے۔ یہ نوٹس نہ صرف ایک عام طلبی ہے بلکہ اس کے الفاظ میں صاف دباؤ چھپا ہے: اگر رضوان پیش نہ ہوئے تو سمجھا جائے گا کہ انہیں اپنے دفاع میں کچھ کہنا نہیں۔
نوٹس میں کیا کہا گیا ہے؟
جیو سپر اور کرک بز کی رپورٹس کے مطابق ایک صفحے کا یہ نوٹس انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ (PECA) 2016 کے متعلقہ دفعات کے تحت انکوائری کے سلسلے میں جاری کیا گیا ہے۔ اہم نکات یہ ہیں:
- رضوان کو جمعہ 2 اکتوبر 2026 کو سہ پہر 3 بجے لاہور میں این سی سی آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر (وافقی کالونی، کینال روڈ) میں ذاتی طور پر پیش ہونا ہوگا۔
- پیشی کا مقصد ان سے ضبط کیے گئے موبائل فون کی فارنزک جانچ اور تجزیے میں تعاون ہے۔
- نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ عدم پیشی کی صورت میں سمجھا جائے گا کہ انہیں اپنے دفاع میں کچھ پیش کرنا یا کہنا نہیں — اور تعمیل نہ کرنے پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 174 کے تحت قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔
- رضوان کو یہ پیشی اس لیے لازم ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ حکم میں انہیں ایجنسی کے ساتھ تعاون کی ہدایت کی تھی، ساتھ ہی ایجنسی کو ہراسانی سے باز رہنے کا حکم بھی دیا تھا۔
رضوان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق کپتان اپنے وکیل کے ہمراہ جمعہ کو مقررہ وقت پر پیش ہوں گے، اور وہاں وہ نہ صرف تعاون کریں گے بلکہ ان الزامات کے بارے میں بھی سوال اٹھائیں گے جو ان پر عائد کیے گئے ہیں۔
کہانی یہاں کیسے پہنچی؟ — ایک نظر ٹائم لائن پر
یہ معاملہ اگست کے آخر سے چل رہا ہے اور ہر ہفتے ایک نیا باب کھل رہا ہے:
- 31 اگست: لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے بعد رضوان کا فون لندن میں ہی لے لیا گیا — وکیل کے مطابق انہیں کہا گیا تھا کہ فون تین گھنٹے میں واپس کر دیا جائے گا، مگر ایک ماہ گزرنے کے باوجود ڈیوائس ایجنسی کی تحویل میں ہے۔
- 10 ستمبر: رضوان لاہور میں این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوئے اور فون کا غیر مقفل رسائی بھی دی۔
- 28 ستمبر: رضوان نے ایجنسی کو خط لکھ کر فون کی فوری واپسی اور انکوائری کی تحریری وضاحت مانگی — کہا کہ انہیں مکمل تعاون کیا ہے اور انہیں تحریری طور پر انکوائری سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ (اس پیش رفت پر ہماری کل کی تفصیلی رپورٹ آپ نیچے لنک میں پڑھ سکتے ہیں۔)
- 29–30 ستمبر: این سی سی آئی اے کے ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ رضوان مکمل تعاون نہیں کر رہے، کالز کا جواب نہیں دے رہے — جبکہ رضوان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے ہر مرحلے پر تعاون کیا۔
- 30 ستمبر: ایجنسی نے دوسرا نوٹس جاری کر دیا — اب کہانی 2 اکتوبر کی پیشی پر آ ٹھہری ہے۔
تصویر: محمد رضوان (فائل فوٹو) — Wikimedia Commons، لائسنس CC BY 3.0
الزامات کیا ہیں — اور کیا ثابت ہوا؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق انکوائری مبینہ طور پر آن لائن بیٹنگ اور جوے، مالی لین دین اور ڈریسنگ روم کی معلومات کے لیک ہونے کے الزامات سے متعلق ہے۔ واضح رہے کہ ابھی تک رضوان کے خلاف کچھ بھی حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا — ایجنسی کے اپنے ذرائع بھی کہتے ہیں کہ اگر شواہد نہ ملے تو کھلاڑیوں کے نام صاف کر دیے جائیں گے۔ رضوان اور امام الحق دونوں کو انگلینڈ کے دورے کے دوران طلب کیا گیا تھا اور دونوں نے ایجنسی کے دفتر میں تقریباً دو گھنٹے سوالات کے جواب دیے تھے۔
اب آگے کیا ہوگا؟ — میرا تجزیہ
میرے خیال میں یہ دوسرا نوٹس دراصل دباؤ بڑھانے کی ایک حکمت عملی ہے۔ رضوان نے خط لکھ کر قانونی محاذ کھولا، عدالت نے "تعاون کرو مگر ہراساں مت کرو" کا توازن قائم کیا — اور اب ایجنسی نے "آؤ اور فون کی فارنزک میں بیٹھو" کا مطالبہ رکھ دیا ہے۔ 2 اکتوبر کی پیشی اس کیس کا فیصلہ کن موڑ ہو سکتی ہے: یا تو کیس آگے بڑھے گا یا رضوان کا نام صاف ہو جائے گا۔
پاکستان کرکٹ کے لیے یہ صورتحال کسی بھی طرح خوش آئند نہیں۔ ایک طرف ٹیم نئے سیٹ اپ کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے، دوسری طرف سابق کپتان کا یہ کیس ہر روز سرخیوں میں ہے۔ پی سی بی کی اس معاملے میں خاموشی بھی سوالیہ نشان ہے — کیا بورڈ اپنے کھلاڑی کے ساتھ کھڑا ہے یا فاصلہ رکھ رہا ہے؟
ایک بات طے ہے: جو فون "تین گھنٹے" میں واپس ہونا تھا، وہ ایک ماہ بعد بھی نہیں لوٹا — اور اب اس فون کی فارنزک کے لیے دوسرا نوٹس آ گیا ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے — کیا 2 اکتوبر کی پیشی اس معاملے کا خاتمہ کرے گی یا نیا باب کھولے گی؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں!
