گوہاٹی میں تاریخ: ایک اننگز میں تین سنچریاں — ویسٹ انڈیز کا 405/7، بھارت کو جیت کے لیے 406 درکار

Sixer Zone Team
0

گوہاٹی میں تاریخ رقم — ایک اننگز، تین سنچریاں، 405 رنز!

شائی ہوپ کی سنچری — گوہاٹی ون ڈے میں ویسٹ انڈیز کے کپتان کی 104 رنز کی اننگز (فائل فوٹو)
شائی ہوپ — گوہاٹی میں سنچری بنانے والے ویسٹ انڈیز کے کپتان (فائل فوٹو: ڈیو مورٹن، پبلک ڈومین، وکیمیڈیا کامنز)

گوہاٹی کے برساپارا اسٹیڈیم میں بدھ کو وہ کچھ ہو گیا جو ویسٹ انڈیز کرکٹ کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ بھارت کے خلاف دوسرے ون ڈے میں کیریبین بلے بازوں نے ایسی طوفانی بیٹنگ کی کہ بھارتی گیند بازی اور فیلڈنگ دونوں بے بس نظر آئیں — ویسٹ انڈیز نے 50 اوورز میں 405 رنز بنا کر 7 وکٹیں گنوائیں، اور بھارت کو جیت کے لیے 406 رنز کا پہاڑ سر کرنا پڑے گا۔

اس اننگز کی سب سے بڑی کہانی صرف اسکور نہیں، بلکہ تین الگ الگ سنچریاں ہیں۔ جان کیمبل (101)، کپتان شائی ہوپ (104) اور امیر جنگو (114) — تینوں نے ایک ہی اننگز میں سنچریاں مکمل کیں۔ ون ڈے کرکٹ کی پوری تاریخ میں یہ صرف چھٹی بار ہوا ہے کہ ایک اننگز میں تین بلے باز تین ہندسوں تک پہنچے ہوں، اور بھارت کے خلاف تو یہ صرف دوسری بار ہوا — اس سے پہلے 2015 میں وانکھیڈے میں جنوبی افریقہ نے یہ کارنامہ کیا تھا، جب کوئنٹن ڈی کوک، فاف ڈوپلیسی اور اے بی ڈویلیئرز نے سنچریاں بنا کر 438 رنز کھڑے کیے تھے اور بھارت کو 214 رنز سے ہرایا تھا۔

تیز ترین آغاز — کیمبل کا طوفان

بھارت کے کپتان شبمن گل نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا تھا، اور نوجوان تیز گیند باز عاقب نبی کو ون ڈے ڈیبیو کا موقع دیا۔ لیکن جان کیمبل نے آغاز ہی میں بھارتی حملے کو تہس نہس کر دیا۔ بائیں ہاتھ کے اوپنر نے صرف 65 گیندوں میں سنچری مکمل کی — ویسٹ انڈیز کی جانب سے بھارت کے خلاف تیز ترین سنچری — اور 68 گیندوں پر 101 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کی اننگز میں 9 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے، اور انہوں نے 29 گیندوں پر ففٹی بنا کر کرس گیل کا ریکارڈ توڑ دیا — یہ بھارت کے خلاف کسی ویسٹ انڈین بلے باز کی تیز ترین ون ڈے ففٹی ہے۔

کیمبل اور کپتان شائی ہوپ کے درمیان 110 رنز کی تباہ کن شراکت نے میچ کا رخ ہی بدل دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے ون ڈے میں سنچری بنانے والے جسٹن گریوز پنڈلی کی انجری کی وجہ سے اس میچ سے باہر تھے — لیکن ان کی غیر موجودگی ویسٹ انڈیز کو ذرا بھی محسوس نہیں ہوئی۔

ہوپ کی کلاس، جنگو کی دھماکہ خیزی

شائی ہوپ نے نئی گیند کے بجائے خود کو نیچے بیٹنگ آرڈر میں رکھ کر ٹیم کے مفاد کو ترجیح دی، اور 94 گیندوں پر 104 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ یہ ان کی 20ویں ون ڈے سنچری تھی — اس کے ساتھ وہ برائن لارا سے آگے نکل گئے۔ ہوپ کو اس وقت زندگی ملی جب وہ 27 رنز پر تھے اور ویرات کوہلی نے نمن دھیر کی گیند پر ان کا آسان کیچ چھوڑ دیا — اور ہوپ نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

لیکن سب سے متاثر کن اننگز شاید امیر جنگو کی تھی۔ وکٹ کیپر بلے باز نے درمیانی اوورز میں کریز سنبھالی اور پھر ایسا گیئر بدلا کہ بھارتی گیند باز بے بس ہو گئے — 54 گیندوں پر 59 رنز سے انہوں نے صرف 70 گیندوں میں سنچری مکمل کی (بھارت کے خلاف ویسٹ انڈیز کی دوسری تیز ترین سنچری) اور 77 گیندوں پر 114 رنز بنائے، جن میں 13 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے۔ سنچری مکمل کرنے پر انہوں نے سجدہ کیا — یہ منظر سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوا۔ ہوپ اور جنگو کے درمیان 182 رنز کی شراکت نے ویسٹ انڈیز کو 400 کے پار پہنچا دیا۔

بھارت کی مشکلات — انجریاں اور مہنگی غلطیاں

بھارت کے لیے یہ دن ہر لحاظ سے برا رہا:

  • ویرات کوہلی کا ڈراپ کیچ — 27 پر ہوپ کو زندگی ملی، جنہوں نے پھر سنچری بنا ڈالی۔
  • پراسدھ کرشنا صرف 5 اوورز کے بعد میدان سے باہر چلے گئے۔
  • نمن دھیر نے 7ویں اوور میں دو بار ٹخنہ موڑا اور میدان چھوڑنا پڑا — ان کی جگہ یشسوی جےسوال متبادل فیلڈر بنے۔
  • بھارتی گیند بازوں نے 23 اضافی رنز بھی دیے، اور کلدیپ یادو 2-65 کے ساتھ سب سے کامیاب گیند باز رہے۔

ویسٹ انڈیز کی یہ ون ڈے تاریخ کی پہلی 400+ اننگز ہے — اور ان کا اب تک کا سب سے بڑا ون ڈے اسکور بھی۔

اب بھارت کے سامنے ریکارڈ ہدف

گوہاٹی کا برساپارا کرکٹ اسٹیڈیم — دوسرے ون ڈے کا میدان (فائل فوٹو)
گوہاٹی کا برساپارا کرکٹ اسٹیڈیم، جہاں ویسٹ انڈیز نے تاریخ رقم کی (فائل فوٹو: جاوس1233، CC BY-SA 4.0، وکیمیڈیا کامنز)

بھارت کو یہ میچ جیتنے کے لیے 406 رنز بنانے ہوں گے — یعنی ون ڈے کرکٹ میں اپنی تاریخ کا سب سے بڑا کامیاب تعاقب۔ بھارت کا اب تک کا سب سے بڑا کامیاب چیز 2013 میں آسٹریلیا کے خلاف 360 رنز کا تھا (روہت شرما 141 ناٹ آؤٹ، کوہلی 52 گیندوں پر 100 ناٹ آؤٹ)۔ اعداد و شمار بھی بھارت کے خلاف ہیں — 400 سے زائد رنز بنا کر آج تک صرف ایک بار کوئی ٹیم میچ ہاری ہے۔

سیریز میں بھارت کو 1-0 کی برتری حاصل ہے — پہلے ون ڈے میں ویرات کوہلی نے ناقابل شکست 139 رنز بنا کر 15,000 ون ڈے رنز کا سنگ میل عبور کیا تھا اور بھارت نے 296 رنز کا ہدف 50 گیندیں باقی رہتے پورا کر لیا تھا۔ اب سیریز برابر کرنے کے لیے ویسٹ انڈیز کے پاس سنہری موقع ہے، جبکہ بھارت کے پاس تاریخ رقم کرنے کا۔

تیسرا اور آخری ون ڈے 3 اکتوبر کو ملن پور میں کھیلا جائے گا، جس کے بعد 6 سے 17 اکتوبر تک 5 ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز ہوگی۔ فی الحال گوہاٹی میں چیز جاری ہے — اور کرکٹ کی دنیا کی نظریں اس ریکارڈ ہدف پر جمی ہیں۔

مزید پڑھیں

Post a Comment

0 Comments

Post a Comment (0)
3/related/default