اولمپک چیمپئن میڈل سے باہر! ارشد ندیم ایشین گیمز نیزہ بازی میں چوتھے نمبر پر — سونا سری لنکا کے نام

Sixer Zone Team
0

ارشد ندیم نیزہ پھینکتے ہوئے
فائل فوٹو — Wikimedia Commons (GFDL)

اولمپک چیمپئن کا دن نہیں تھا

پاکستان کے سپر اسٹار ارشد ندیم ایشین گیمز 2026 کے نیزہ بازی مقابلے میں میڈل سے محروم رہ گئے۔ پیر کی شام جاپان کے ناگویا شہر کے میزوہو پارک ایتھلیٹک اسٹیڈیم میں ہونے والے مردوں کے نیزہ پھینکنے کے فائنل میں ارشد چوتھے نمبر پر رہے — ان کی بہترین تھرو صرف 80.29 میٹر رہی، جبکہ پیرس اولمپکس میں انہوں نے 92.97 میٹر پھینک کر اولمپک ریکارڈ قائم کیا تھا۔

یہ وہی ارشد ہیں جنہوں نے پیرس میں بھارت کے نیرج چوپڑا کو ہرا کر پاکستان کی تاریخ کا پہلا انفرادی اولمپک گولڈ جیتا تھا۔ ایشین گیمز کے فائنل میں ان کا مقابلہ اس معیار سے بہت دور رہا — چھ کوششوں میں سے چار فاؤل ہوئیں۔

سونے کا تمغہ سری لنکا کے رومیش تھارانگا پتھیرگے نے 88.55 میٹر کی شاندار تھرو سے جیتا، جبکہ بھارت نے چاندی اور کانسی دونوں جیت لیے: یش ویر سنگھ 85.72 میٹر کے ساتھ چاندی اور روہت یادو 84.35 میٹر کے ساتھ کانسی کے حقدار بنے۔

ارشد کی چھ کوششیں — فائنل کا مکمل حساب

چودہ کھلاڑیوں کے فائنل میں ارشد کی کارکردگی یوں رہی:

  • پہلی کوشش: 76.69 میٹر — محتاط آغاز
  • دوسری کوشش: فاؤل — نیزہ حد سے باہر
  • تیسری کوشش: 80.29 میٹر — بہترین تھرو، ٹاپ ایٹ میں جگہ پکی
  • چوتھی، پانچویں اور چھٹی کوشش: تینوں فاؤل — میڈل کی دوڑ سے باہر

صرف دو قانونی تھروز میں سے ایک 80.29 میٹر پر چوتھی پوزیشن پر رہے۔ پاکستان کے دوسرے کھلاڑی محمد یاسر 73.50 میٹر کے ساتھ نویں نمبر پر آئے اور ٹاپ ایٹ میں جگہ نہ بنا سکے۔

پتھیرگے نے فائنل کے آخری لمحوں میں بازی پلٹ دی

سری لنکا کے 23 سالہ ورلڈ نمبر ون پتھیرگے نے آخری تھرو تک مقابلہ سنسنی خیز بناے رکھا۔ انہوں نے 73.53 میٹر سے آغاز کیا، پھر 83.34 میٹر پھینکی، ایک فاؤل کی، چوتھی کوشش میں 88.33 میٹر سے برتری حاصل کی اور آخری چھٹی کوشش میں 88.55 میٹر پھینک کر گولڈ پکا کیا۔

یہ ان کا حالیہ مہینوں میں تیسرا بڑا گولڈ ہے — اس سے پہلے انہوں نے گلاسگو کامن ویلتھ گیمز اور بڈاپیسٹ ورلڈ ایتھلیٹکس الٹی میٹ چیمپئن شپ بھی جیتی، جہاں انہوں نے 91.09 میٹر کا مونسٹر تھرو کیا تھا۔ ان کا ذاتی بہترین 92.62 میٹر ارشد کے اولمپک ریکارڈ سے صرف 35 سینٹی میٹر کم ہے۔

بھارت کے یش ویر سنگھ نے 85.72 میٹر کا ذاتی بہترین اسکور کر کے چاندی جیتی، جبکہ روہت یادو 84.35 میٹر کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ یہ ہانگژو 2023 کے بعد مسلسل دوسری ایشین گیمز ہے جس میں بھارت نے مردوں کی نیزہ بازی میں دو میڈل جیتے۔ نیرج چوپڑا ٹخنے کی انجری کی وجہ سے اس ایڈیشن سے باہر تھے، اس لیے ارشد کے ساتھ ان کا متوقع مقابلہ نہ ہو سکا۔

پیرس اولمپکس 2024 میں مردوں کی نیزہ بازی کا پوڈیم
فائل فوٹو — Wikimedia Commons (CC BY 4.0) — یادگار لمحہ: پیرس 2024 کا پوڈیم جہاں ارشد ندیم نے گولڈ جیتا تھا

ارشد کے لیے یہ نتیجہ کیا معنی رکھتا ہے؟

سچ یہ ہے کہ پیرس کے بعد سے ارشد کی فارم میں واضح کمی آئی ہے۔ گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں وہ نویں نمبر پر رہے (77.41 میٹر)، بڈاپیسٹ الٹی میٹ چیمپئن شپ میں پانچویں — اور اب ناگویا میں چوتھے۔ 80.29 میٹر ان کی حالیہ کارکردگی کے مقابلے میں بہتر ہے، لیکن عالمی معیار سے ابھی کوسوں دور ہے جہاں 88 میٹر سے اوپر کی تھروز میڈل دلاتی ہیں۔

تاہم مایوسی کی بات نہیں، سیکھنے کی بات ہے: نیزہ بازی میں ایک برا دن کسی بھی چیمپئن کے ساتھ ہو سکتا ہے، اور ارشد نے تیسری کوشش میں دکھایا کہ ان میں اب بھی بڑی تھرو کی صلاحیت موجود ہے۔ سوال صرف مستقل مزاجی کا ہے — چار فاؤل اس سطح پر ناقابلِ برداشت ہیں۔

ایشین گیمز میں ارشد کا ریکارڈ ویسے بھی مخلوط رہا ہے: 2018 جکارتہ میں کانسی جیتا، 2023 ہانگژو سے انجری کی وجہ سے دستبردار ہوئے، اور اب 2026 میں چوتھے۔ پاکستان کے شائقین کو امید ہے کہ اولمپک چیمپئن جلد اپنی پرانی فارم میں واپس آئیں گے۔

آگے کیا ہے؟

پاکستان کے لیے ایشین گیمز 2026 میں ابھی کرکٹ کے سیمی فائنل باقی ہیں، جہاں یکم اکتوبر کو میڈل کی جنگ ہوگی۔ ارشد ندیم کے مداحوں کے لیے پیغام واضح ہے: ہیرو کا ایک برا دن اسے ہیرو نہیں رہنے دیتا — اصل امتحان واپسی کا ہے۔

مزید پڑھیں

Post a Comment

0 Comments

Post a Comment (0)
3/related/default