بریکنگ: انگلینڈ کا سب سے بڑا وائٹ بال اسٹار پاکستان کے دورے سے باہر
پاکستان کے ہوم سیزن سے پہلے انگلینڈ کو زبردست دھچکا لگا ہے — جوش بٹلر اکتوبر میں پاکستان میں ہونے والی ون ڈے ٹرائی سیریز میں نہیں کھیلیں گے۔ انگلینڈ کے لمیٹڈ اوورز ہیڈ کوچ برینڈن میک کولم نے پیر (28 ستمبر) کو تصدیق کی کہ بٹلر بائیں ہامسٹرنگ انجری کے باعث اگلے ماہ کے دورۂ پاکستان سے باہر ہو گئے ہیں۔
میک کولم نے صحافیوں کو صاف کہا: "جوش پاکستان میں نہیں ہوگا۔ وہ ایک غیرمعمولی ایتھلیٹ ہے، بے حد فٹ اور انتہائی پیشہ ور، اس لیے جلد از جلد واپس آنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا — لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔"
فائل فوٹو: جوش بٹلر — Wikimedia Commons (CC BY 2.0)
انجری کہاں اور کیسے لگی؟
یہ انجری کوئی پرانی نہیں — بٹلر جمعرات (24 ستمبر) کو ہیڈنگلے میں سری لنکا کے خلاف دوسرے ون ڈے میں بیٹنگ کے دوران زخمی ہوئے۔ یاد رہے کہ اسی میچ میں سری لنکا نے انگلینڈ کو 16 رنز سے ہرایا تھا، اور بٹلر 67 رنز پر ریٹائرڈ ہرٹ ہو کر ڈریسنگ روم لوٹ گئے تھے، بعد میں وہ تکلیف کے باوجود واپس کریز پر آئے اور صرف 2 رنز کا اضافہ کر سکے۔ یہاں پڑھیں: ہیڈنگلے میں سری لنکا کی ڈرامائی فتح کی مکمل رپورٹ
- بٹلر اتوار کو دی اوول میں تیسرا فیصلہ کن ون ڈے مس کر چکے تھے — انگلینڈ نے 223 رنز سے ریکارڈ فتح حاصل کی۔
- ان کی جگہ جورڈن کوکس نے وکٹ کیپنگ کی اور 52 گیندوں پر 76 رنز بنا کر ناقدین کو خاموش کر دیا۔ یہاں پڑھیں: بینٹن کی سینچری اور 223 رنز کی تاریخی فتح
- اب میک کولم نے واضح کر دیا ہے کہ کوکس کو پاکستان میں بھی "توسیعی موقع" (extended run) ملے گا۔
ٹرائی سیریز کب اور کہاں؟
پاکستان کرکٹ بورڈ نے پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے کہ 18 سے 31 اکتوبر تک پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ کے درمیان ون ڈے ٹرائی سیریز راولپنڈی اور لاہور میں کھیلی جائے گی:
- 18 اکتوبر — پاکستان بمقابلہ سری لنکا (راولپنڈی)
- 20 اکتوبر — پاکستان بمقابلہ انگلینڈ (راولپنڈی)
- 22 اکتوبر — سری لنکا بمقابلہ انگلینڈ (راولپنڈی)
- 25 اکتوبر — پاکستان بمقابلہ انگلینڈ (لاہور، قذافی اسٹیڈیم)
- 27 اکتوبر — پاکستان بمقابلہ سری لنکا (لاہور)
- 29 اکتوبر — سری لنکا بمقابلہ انگلینڈ (لاہور)
- 31 اکتوبر — فائنل (لاہور؛ ٹاپ دو ٹیمیں)
یاد رہے کہ ٹرائی سیریز سے پہلے سری لنکا 9 سے 13 اکتوبر تک راولپنڈی میں پاکستان کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی بھی کھیلے گا، اور نومبر میں دونوں کے درمیان دو ٹیسٹ (ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ) ہوں گے۔
فائل فوٹو: جوش بٹلر بیٹنگ کرتے ہوئے — Wikimedia Commons (CC BY-SA 2.0)
بٹلر کے بغیر انگلینڈ کتنا کمزور؟
36 سالہ بٹلر انگلینڈ کے سب سے تجربہ کار وائٹ بال کھلاڑی ہیں — 2019 ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے رکن اور 2022 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فاتح کپتان۔ ان کا شمار بلاشبہ انگلینڈ کے اب تک کے عظیم ترین محدود اوورز بیٹروں میں ہوتا ہے۔ ان کا نہ آنا صرف ایک کھلاڑی کی غیرحاضری نہیں، یہ انگلینڈ کے پورے بیٹنگ آرڈر کا توازن بدل دیتا ہے۔
تاہم میک کولم اسے ورلڈ کپ 2027 کی تیاری کا موقع سمجھتے ہیں: "بٹلر نہ ہونا افسوسناک ہے، لیکن اس سے ہمیں پتہ چلے گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ اگلے 14 ماہ میں بہت سی چیزیں غلط ہوں گی — کوئی انجری ہوگی، کوئی شیڈولنگ کا مسئلہ آئے گا۔ ورلڈ کپ کے لیے بہتر سے بہتر تیاری کے لیے ہمیں ان چیزوں کو پہلے ہی فرض کر لینا چاہیے۔" 2027 ورلڈ کپ جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں اکتوبر سے شروع ہوگا۔
میک کولم نے کوکس کی تعریف کرتے ہوئے کہا: "میں نے سوچا کہ وہ کافی حد تک جوش بٹلر جیسی اننگز تھی۔ اسے پاکستان میں موقع ملے گا — یہ اس کے لیے دلچسپ ہے۔"
پاکستان کے لیے کیا مطلب؟
پاکستانی شائقین کے لیے یہ مخلوط خبر ہے۔ ایک طرف انگلینڈ اپنے سب سے بڑے میچ ونر کے بغیر آئے گا — اور ٹرائی سیریز میں پاکستان کے دو میچ (20 اور 25 اکتوبر) کمزور انگلش لائن اپ کے خلاف ہوں گے۔ دوسری طرف، کوکس جیسے نوجوان کھلاڑی اپنی جگہ پکی کرنے کے لیے بے تاب ہوں گے، اور میک کولم کے "تباہ کن" برانڈ آف کرکٹ کے لیے نیا خون کبھی کبھی اور بھی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔
ایک اور اہم بات: بٹلر کی نومبر کے آسٹریلیا کے دورے (تین ون ڈے اور پانچ ٹی ٹوئنٹی) میں شمولیت کی بھی کوئی ضمانت نہیں — میک کولم کے مطابق ان کی بحالی کا وقت ابھی نامعلوم ہے۔ یہاں پڑھیں: دی اوول میں آخری جنگ کا پیش منظر — بٹلر کے بغیر کیا انگلینڈ سیریز بچا پائے گا؟
خلاصہ
پاکستان کے شائقین اکتوبر کی ٹرائی سیریز میں بٹلر کو ایکشن میں نہیں دیکھ پائیں گے۔ ہامسٹرنگ انجری نے انگلینڈ کے سابق کپتان کو راولپنڈی اور لاہور کی پچوں سے دور رکھا ہے، اور جورڈن کوکس کے پاس اپنی صلاحیت منوانے کا سنہری موقع ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ بٹلر کے بغیر آنے والی انگلش ٹیم پاکستان اور سری لنکا کی چیلنج کو کس طرح سنبھالتی ہے۔
مزید پڑھیں:
ذرائع: Reuters، CNA، Straits Times، SABC Sport (28 ستمبر 2026)


