ہارڈک پانڈیا کو پھر انجری کا دھچکا: پنڈلی کی چوٹ نے نیوزی لینڈ دورے اور انڈیا اے سیریز سے باہر کر دیا

Sixer Zone Team
0
ہارڈک پانڈیا — بھارت کے اسٹار آل راؤنڈر

ہارڈک پانڈیا — انجری نے ایک بار پھر ان کی واپسی روک دی (تصویر: وزیراعظم دفتر، بھارت — GODL-India لائسنس، وکیمیڈیا کامنز)

نئی دہلی: بھارتی کرکٹ کے لیے ایک اور مایوس کن خبر سامنے آئی ہے۔ اسٹار آل راؤنڈر ہارڈک پانڈیا کی طویل انتظار کی واپسی کو ایک بار پھر انجری نے روک دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی آج (26 ستمبر) کی رپورٹ کے مطابق ان کے دائیں پنڈلی (right shin) کی تازہ اسکین رپورٹ میں انجری کی تصدیق ہوئی ہے، اور میڈیکل ٹیم نے انہیں دو سے تین ہفتے مکمل آرام کی ہدایت کی ہے۔ اس کا مطلب واضح ہے — ہارڈک انڈیا اے کی آسٹریلیا اے کے خلاف ون ڈے سیریز سے باہر ہو گئے ہیں اور نیوزی لینڈ کے وائٹ بال دورے میں ان کی شمولیت بھی عملی طور پر ناممکن نظر آتی ہے۔

رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟

پی ٹی آئی سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرنے والے بی سی سی آئی ذریعے کے مطابق:

  • تازہ اسکین رپورٹ میں ہارڈک کے دائیں پنڈلی میں انجری کی تصدیق ہوئی ہے۔
  • انہیں کم از کم دو ہفتے مکمل آرام کی ہدایت دی گئی ہے؛ کچھ رپورٹس تین ہفتے تک آرام بتا رہی ہیں۔
  • بی سی سی آئی میڈیکل پینل کے سربراہ ڈاکٹر دنشاو پارڈیوالا نے ان کی رپورٹس دیکھ لی ہیں، اور جاپان سے واپسی پر وہ خود ان کی حالت کا جائزہ لے کر ری ہیب کے اگلے مرحلے کا فیصلہ کریں گے۔
  • ہارڈک کو آئندہ 10 سے 15 دن کوئی جسمانی سرگرمی نہیں کرنی — یعنی فٹنس کی بحالی کا پورا شیڈول رک گیا ہے۔

نیوزی لینڈ کا دورہ اب ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے

بھارت کا نیوزی لینڈ کا وائٹ بال دورہ 22 اکتوبر سے شروع ہونا ہے — پہلے پانچ ٹی ٹوئنٹی میچ، اس کے بعد ون ڈے سیریز۔ رپورٹ کے مطابق اتنے کم وقت میں ہارڈک کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ اس سے پہلے وہ 6 اکتوبر سے پڈوچیری میں آسٹریلیا اے کے خلاف انڈیا اے کے تین ون ڈے میچوں میں بھی نہیں کھیل سکیں گے — وہ سیریز جسے ان کی "کم بیک" کا لانچ پیڈ سمجھا جا رہا تھا۔

یہ بھارت کے لیے بڑا دھچکا ہے، کیونکہ ہارڈک ٹیم کے پریمیئر فاسٹ بولنگ آل راؤنڈر ہیں — ایسا کردار جس کا متبادل بھارتی سسٹم میں آسانی سے نہیں ملتا۔ ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے دونوں فارمیٹس میں ان کی موجودگی ٹیم کو چھٹے بولر اور فنشنگ کا آپشن دیتی ہے۔

انڈیا اے میں متبادل کون؟

رپورٹ کے مطابق سلیکٹرز انڈیا اے کے میچوں کے لیے متبادل پر غور کر رہے ہیں، اور سوریانش شیڈگے کا نام زیرِ بحث ہے، جو اس وقت بی سی سی آئی سینٹر آف ایکسیلنس میں ٹریننگ کر رہے ہیں۔ سینئر ٹیم کے لیے سلیکٹرز ہارڈک کے معاملے میں اب محتاط رویہ اختیار کریں گے — انہیں براہِ راست نیوزی لینڈ کے بعد والے ون ڈے میچوں میں بھی شامل کرنا خطرناک سمجھا جا رہا ہے۔

انجریوں کی نہ ختم ہونے والی کہانی

یہ ہارڈک کے لیے محض ایک اور انجری نہیں — یہ ایک مسلسل سلسلہ بن چکا ہے:

  • آئی پی ایل 2026 (31 مئی کو ختم ہوا) کے بعد سے انہوں نے کوئی مسابقتی کرکٹ نہیں کھیلی — شروع میں ران کی پٹھی (quadriceps) کی انجری تھی۔
  • ان کی "ریٹرن ٹو پلے" کی تاریخ 20 ستمبر مقرر کی گئی تھی، اور اسی بنیاد پر انہیں انڈیا اے اسکواڈ میں شامل کیا گیا تھا۔
  • افغانستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز سے عین پہلے فیلڈنگ ڈرلز کے دوران گھٹنے کے گرد تیز درد کی شکایت ہوئی؛ کچھ دن آرام کیا، لیکن جیسے ہی فٹ قرار دیے جانے والے تھے، درد واپس آ گیا۔
  • اسی پنڈلی کے مسئلے کی وجہ سے وہ پہلے افغانستان کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی اسکواڈز سے بھی باہر ہوئے تھے۔
  • رپورٹ کے مطابق بی سی سی آئی انہیں ایشین گیمز 2026 کے اسکواڈ میں بھی شامل کرنا چاہتا تھا — ویزا کے لیے ان کا پاسپورٹ تک لے لیا گیا تھا — مگر انجری نے یہ منصوبہ بھی ختم کر دیا۔
  • کچھ دن پہلے یہ خبر بھی آئی تھی کہ بورڈ کے ایک حصے نے انہیں ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز میں شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن سلیکٹرز نے مداخلت کر دی تھی۔
ہارڈک پانڈیا ایکشن میں — 2020 کی تصویر

ہارڈک پانڈیا — آئی پی ایل 2026 کے بعد سے مسابقتی کرکٹ سے دور (تصویر: وکیمیڈیا کامنز، CC BY 3.0)

تجزیہ: 2027 ورلڈ کپ کا بڑا سوال

32 سالہ ہارڈک اب بنگلورو میں سینٹر آف ایکسیلنس کے قریب منتقل ہو چکے ہیں تاکہ ری ہیب پر مکمل توجہ دے سکیں۔ ٹیم مینجمنٹ کا واضح پیغام ہے: جلد بازی نہیں ہوگی — 2027 کا ورلڈ کپ حتمی ہدف ہے، اور اس سے پہلے کسی آدھی ادھوری واپسی سے ان کا کیریئر خطرے میں نہیں ڈالا جائے گا۔

مگر سوال اپنی جگہ قائم ہے: ایک ایسا کھلاڑی جو لگاتار تیسری بار اسی نوعیت کی انجری کا شکار ہو، کیا وہ ورلڈ کپ تک مکمل فٹ اور میچ پریکٹس کے ساتھ واپس آ سکے گا؟ اگلا ممکنہ موقع زمبابوے کے خلاف ون ڈے سیریز ہو سکتا ہے، یا پھر ڈومیسٹک کرکٹ — وجے ہزارے ٹرافی یا سید مشتاق علی ٹرافی — جہاں وہ اپنی فٹنس آزما سکتے ہیں۔

بھارتی ٹیم کے لیے فوری تشویش ویسٹ انڈیز سیریز (27 ستمبر سے) اور پھر نیوزی لینڈ کا دورہ ہے — دونوں جگہ ہارڈک جیسے آل راؤنڈر کی کمی محسوس ہوگی۔ یہ کہانی اب صرف ایک انجری کی خبر نہیں رہی؛ یہ بھارتی کرکٹ کے فٹنس مینجمنٹ سسٹم پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

ذرائع: پی ٹی آئی (بذریعہ کھیل جا، کرک ٹوڈے)، لیٹسٹ لائی، دی بل پوسٹ — 26 ستمبر 2026۔ تمام حقائق اشاعت کے وقت دستیاب رپورٹس سے تصدیق شدہ ہیں۔

Post a Comment

0 Comments

Post a Comment (0)
3/related/default