نئے قوانین کے تحت بیٹ کے کنارے کی موٹائی زیادہ سے زیادہ 40 ملی میٹر ہوگی — تصویر: وکیمیڈیا کامنز (CC BY-SA 4.0، عکاس: Arv94)
کرکٹ کی دنیا میں آج ایک ایسا اعلان ہوا ہے جو آنے والے برسوں تک اس کھیل کی شکل بدل کر رکھ دے گا۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے 26 ستمبر 2026 کو کھیل کے قوانین میں تاریخی تبدیلیوں کا باضابطہ اعلان کر دیا — اور یہ کوئی معمولی ترامیم نہیں، بلکہ کھیل کے کئی بنیادی پہلوؤں کو از سرِ نو لکھنے کے مترادف ہیں۔ یہ نئے قوانین 28 ستمبر یا اس کے بعد شروع ہونے والی تمام انٹرنیشنل سیریز پر لاگو ہوں گے۔ آئی سی سی کے مطابق یہ تبدیلیاں رواں برس مئی میں ہونے والی سالانہ میٹنگ کی سفارشات کی روشنی میں کی گئی ہیں، اور امپائروں کو ان سے واقف کرانے کے لیے خصوصی ورکشاپ بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
سب سے دلچسپ بات؟ پاکستان ٹیم ان نئے قوانین کا اثر براہِ راست محسوس کرنے والی پہلی بڑی ٹیموں میں شامل ہوگی — کیونکہ ایشین گیمز کا کوارٹر فائنل 28 ستمبر کو ہی کھیلا جانا ہے!
نئے قوانین ایک نظر میں
- سینڈ آف: سنگین بدتمیزی (لیول 4) پر کھلاڑی کو میچ سے باہر نکالا جا سکے گا
- چھوٹے بیٹ: کنارے کی زیادہ سے زیادہ موٹائی 40 ملی میٹر، ڈیپتھ 67 ملی میٹر
- انقلابی ڈی آر ایس: امپائرز کال پر ریویو ضائع نہیں ہوگا؛ ٹیسٹ میں 80 اوورز کے بعد ریویو کوٹہ تازہ نہیں ہوگا؛ ٹی ٹوئنٹی میں بھی ڈی آر ایس آ گیا
- نیا رن آؤٹ قانون: ایک بار بیٹ کریز کے پیچھے گراؤنڈ ہو جائے تو بعد میں اچھلنے پر آؤٹ نہیں
- باؤنڈری کیچ: ہوا میں موجود فیلڈر کو گیند چھونے سے پہلے باؤنڈری کے اندر سے ہونا لازم
- نو بال: پاپنگ کریز تک ایک سے زیادہ بار باؤنس = نو بال؛ پچ سے باہر گرنے والی گیند بھی نو بال
- ٹیسٹ میں 6 سبسٹیٹیوٹ (پہلے 4 تھے)؛ نئے بلے باز کے لیے 3 منٹ کا وقت؛ چوٹ سے بچاؤ کے لیے ٹیترڈ بیلز
سینڈ آف — کرکٹ میں اب فٹ بال والا "ریڈ کارڈ"!
لیول 4 کی سنگین بدتمیزی پر امپائر کھلاڑی کو میچ سے باہر بھیج سکیں گے — تصویر: وکیمیڈیا کامنز (CC BY 3.0)
یہ سب سے ڈرامائی تبدیلی ہے۔ اب تک کرکٹ میں کھلاڑی کو میدان سے باہر نکالنے کا کوئی تصور نہیں تھا — زیادہ سے زیادہ میچ فیس میں کٹوتی یا بعد میں پابندی لگتی تھی۔ اب لیول 4 کے جرائم — جیسے امپائر کو دھمکی دینا، امپائر، کھلاڑی یا تماشائی پر جسمانی حملہ — پر کھلاڑی میچ کے بقیہ حصے میں حصہ نہیں لے سکے گا۔
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ یہ قانون بنیادی طور پر نچلی سطح کی کرکٹ میں نظم و ضبط سخت کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ لیکن قانون اب کتاب میں درج ہے — اور جس دن کسی بڑے میچ میں اس کا پہلا استعمال ہوا، وہ کرکٹ کی تاریخ کا یادگار دن ہوگا۔
ڈی آر ایس میں انقلاب
یہ وہ تبدیلی ہے جو ہر میچ کو براہِ راست متاثر کرے گی۔ اب اگر فیصلہ "امپائرز کال" کی بنیاد پر برقرار رہتا ہے تو ٹیم کا ریویو ضائع نہیں ہوگا۔ برسوں سے ٹیمیں شکایت کرتی آ رہی تھیں کہ امپائرز کال جیسے متنازع معاملے پر بھی ان کا قیمتی ریویو جل جاتا تھا — اب یہ ناانصافی ختم۔
اسی طرح ٹیسٹ کرکٹ میں 80 اوورز کے بعد ریویوز کا کوٹہ تازہ نہیں کیا جائے گا — پوری اننگز میں صرف دو ریویو، استعمال سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔ اور سب سے بڑی خبر: ڈی آر ایس اب ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بھی متعارف کرا دیا گیا ہے۔
چھوٹے بیٹ، نئے رن آؤٹ اور نو بال کے قوانین
بیٹسمینوں کے غلبے والے جدید کھیل میں توازن کے لیے بیٹ کے سائز پر حد لگا دی گئی: کنارے کی موٹائی زیادہ سے زیادہ 40 ملی میٹر، ڈیپتھ 67 ملی میٹر۔ موٹے بیٹوں کے دور کا خاتمہ سمجھیں!
رن آؤٹ میں اہم نرمی: اگر دوڑتا یا ڈائیو لگاتا بلے باز ایک بار اپنا بیٹ کریز کے پیچھے گراؤنڈ کر چکا ہے، تو بعد میں بیٹ کے اچھلنے پر بیلز گرنے سے وہ رن آؤٹ یا اسٹمپڈ نہیں ہوگا۔ باؤنڈری کیچ میں بھی وضاحت: ہوا میں موجود فیلڈر کو گیند سے رابطے سے پہلے باؤنڈری کے اندر سے ہونا لازم، ورنہ بلے باز کو باؤنڈری ملے گی۔ اور اب فیلڈر یا وکٹ کیپر کے ہیلمٹ سے لگ کر آنے والی گیند پر بھی کیچ، اسٹمپڈ یا رن آؤٹ ممکن ہوگا۔
نو بال میں سختی بڑھا دی گئی: پاپنگ کریز تک ایک سے زیادہ بار باؤنس = نو بال (پہلے دو سے زیادہ باؤنس پر یہ قانون لگتا تھا)، اور پچ سے باہر گرنے والی گیند بھی نو بال ہوگی۔ نو بال پر بننے والے بائیز یا لیگ بائیز اب الگ شمار ہوں گے — بولر کے کھاتے میں صرف ایک رن درج ہوگا۔
پاکستان اور ایشین گیمز پر کیا اثر پڑے گا؟
یہیں سے کہانی پاکستانی شائقین کے لیے انتہائی دلچسپ ہو جاتی ہے۔ نئے قوانین 28 ستمبر سے نافذ ہوں گے — اور پاکستان کا ایشین گیمز کوارٹر فائنل بھی 28 ستمبر کو ہی کھیلا جانا ہے! یعنی گروپ مرحلہ پرانے قوانین پر ہوا، لیکن ناک آؤٹ مرحلہ — جہاں پاکستان میڈل کی جنگ لڑے گا — نئے قوانین کے تحت کھیلا جائے گا۔
عملی مطلب: پاکستان کے کوارٹر فائنل میں ڈی آر ایس دستیاب ہوگا، امپائرز کال پر ریویو محفوظ رہے گا، اور کھلاڑیوں کو میدان میں رویے کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنا ہوگا۔ ٹیم مینجمنٹ کو ان قوانین سے ٹیم کو فوری واقف کرانا ہوگا — ناک آؤٹ میچ میں قانون سے لاعلمی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
آئی سی سی کے جنرل منیجر کرکٹ جیف ایلارڈائس کے مطابق یہ تبدیلیاں ایم سی سی کے کرکٹ قوانین میں تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں، اور امپائروں کی ورکشاپ مکمل کر لی گئی ہے۔ جو سیریز 28 ستمبر سے پہلے شروع ہو چکی ہیں، وہ ان سے متاثر نہیں ہوں گی۔
تو بتائیے — آپ کے خیال میں سب سے بڑی تبدیلی کون سی ہے؟ کیا سینڈ آف کا قانون کرکٹ کے مزاج کے مطابق ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں!
مزید پڑھیں
- سانو میں سنسنی خیز ڈراما: بھارت نے جاپان کو محض 2 رنز سے ہرایا — متنازع وائڈ بال نے عالمی چیمپئنز کو شرمندہ کر دیا
- ڈربن میں پروٹیز کا دھماکہ: جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو 67 رنز سے روند دیا
- ہیڈنگلے میں ڈرامائی فتح: سری لنکا نے انگلینڈ کو 16 رنز سے ہرا کر سیریز 1-1 سے برابر کر دی
ذرائع: کرک بز، آئی سی سی (26 ستمبر 2026)
