پاکستان ویمنز کرکٹ کی تجربہ کار فاسٹ باؤلر کائنات امتیاز نے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اتوار کو ان کی ریٹائرمنٹ کی تصدیق کر دی، جس کے ساتھ ہی ان کے 13 سالہ انٹرنیشنل کیریئر کا باضابطہ اختتام ہو گیا۔ 34 سالہ رائٹ آرم میڈیم فاسٹ باؤلر نے پاکستان کی طرف سے 19 ون ڈے اور 21 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے، اور وہ ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کو ایشین گیمز میں دو گولڈ میڈل دلوانے میں کردار ادا کیا۔
پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم — کائنات امتیاز 2010 سے 2023 تک اسی گرین شرٹ میں انٹرنیشنل کرکٹ کھیلیں (تصویر: Wikimedia Commons)
کیریئر ایک نظر میں
- ٹی ٹوئنٹی ڈیبیو: اکتوبر 2010، جنوبی افریقہ کے خلاف پوٹشفٹروم میں — پاکستان کی 22ویں ویمنز ٹی ٹوئنٹی کیپ
- ون ڈے ڈیبیو: 2011، آئرلینڈ کے خلاف فاط اللہ، بنگلہ دیش میں — پاکستان کی 64ویں ویمنز ون ڈے کیپ
- مجموعی میچ: 19 ون ڈے اور 21 ٹی ٹوئنٹی — کل 40 انٹرنیشنل میچ
- باؤلنگ: ون ڈے میں 10 وکٹیں (بہترین 3/49)، ٹی ٹوئنٹی میں 8 وکٹیں (بہترین 2/18)
- بیٹنگ: نچلے نمبروں پر کارآمد بلے باز — ون ڈے میں 134 رنز، ٹی ٹوئنٹی میں 137 رنز
- آخری میچ: آخری ٹی ٹوئنٹی اکتوبر 2022 میں سلیٹ میں تھائی لینڈ کے خلاف، آخری ون ڈے جنوری 2023 میں برسبین میں آسٹریلیا کے خلاف
ایشین گیمز کے دو سونے کے تمغے
کائنات امتیاز کے کیریئر کی سب سے روشن یاد ایشین گیمز ہے۔ وہ 2010 میں گوانگزو اور 2014 میں انچیون میں گولڈ میڈل جیتنے والی پاکستان ویمنز ٹیموں کا حصہ تھیں — یہ وہ کارنامے ہیں جو پاکستان ویمنز کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان ویمنز ٹیم نے اب بھی ایشین گیمز میں اپنا لوہا منوایا ہے؛ حال ہی میں پاکستان ویمنز نے بنگلہ دیش کو ہراکر ایشین گیمز کا کانسی کا تمغہ جیتا تھا، جو اسی تسلسل کی نئی کڑی ہے جس کی بنیاد کائنات جیسی سینئر کھلاڑیوں نے رکھی تھی۔
ورلڈ کپ اور کامن ویلتھ گیمز
ایشین گیمز کے علاوہ کائنات امتیاز نے 2017 کے آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کی، جہاں انہوں نے چار میچ کھیلے۔ وہ 2022 کے کامن ویلتھ گیمز برمنگھم میں بھی قومی اسکواڈ کا حصہ تھیں۔ ان کا کرکٹ کا سفر فروری 2007 میں کراچی اسکولز انڈر 17 ٹیم سے شروع ہوا تھا، پھر مارچ 2008 میں لسٹ اے اور اسی سال جولائی میں ٹی ٹوئنٹی ڈیبیو — یعنی قومی ٹیم تک پہنچنے سے پہلے انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں تین سال محنت کی۔
کرکٹ کی گیند — کائنات امتیاز رائٹ آرم میڈیم فاسٹ باؤلر تھیں (تصویر: Pexels)
نیا باب — اب میچ ریفری
ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی کائنات امتیاز نے کرکٹ سے اپنا ناطہ نہیں توڑا — انہوں نے میچ آفیشل کا راستہ چنا ہے۔ وہ حال ہی میں اگست اور ستمبر میں ہونے والے پی سی بی نیشنل ویمنز انڈر 19 ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں میچ ریفری کی حیثیت سے فرائض انجام دے چکی ہیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی منتقلی ہے: کھلاڑی سے ریفری بننے کا سفر انہیں کھیل کے اندر ہی رکھے گا، اور نوجوان کھلاڑیوں کو ان کے تجربے سے براہ راست فائدہ ملے گا۔
امپائرنگ کا خاندان — والدہ سلیمہ امتیاز
کائنات کے خاندان میں کرکٹ آفیشلنگ اب ایک روایت بنتی جا رہی ہے۔ ان کی والدہ سلیمہ امتیاز 2024 میں آئی سی سی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ پینل میں نامزد ہونے والی پہلی پاکستانی خاتون بنیں، اور اب تک 9 ویمنز ون ڈے اور 69 ویمنز ٹی ٹوئنٹی میچوں میں امپائرنگ کر چکی ہیں۔ ماں بیٹی کا یہ امتزاج — ایک سابق انٹرنیشنل کھلاڑی جو اب میچ ریفری ہے، اور ایک آئی سی سی پینل امپائر — پاکستان ویمنز کرکٹ میں ایک منفرد کہانی ہے۔
تجزیہ — یہ خبر کیوں اہم ہے
کائنات امتیاز کا جانا صرف ایک کھلاڑی کی رخصتی نہیں، یہ پاکستان ویمنز کرکٹ کی ایک نسل کی تبدیلی کی علامت ہے۔ 2010 کی وہ ٹیم جس نے ایشین گیمز میں سونا جیتا تھا، اب رفتہ رفتہ میدان سے رخصت ہو رہی ہے، اور اس کی جگہ فاطمہ ثنا جیسی نوجوان قیادت لے رہی ہے جو عالمی لیگز میں پاکستان کا نام روشن کر رہی ہے۔ دوسری اہم بات کھلاڑیوں کے لیے دوسرے کیریئر کا راستہ ہے — میچ ریفری اور امپائر بن کر کھیل سے جڑے رہنا ایک صحت مند رجحان ہے جسے پی سی بی کو مزید فروغ دینا چاہیے۔ اور یہ ریٹائرمنٹوں کا موسم بھی ہے: حال ہی میں انگلینڈ کے مارک وڈ نے بھی انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہا تھا۔ کائنات امتیاز کو 13 سال کی خدمت، دو ایشین گیمز گولڈ اور ایک نئے باب کے آغاز پر مبارکباد — گرین شرٹ میں ان کی محنت ہمیشہ یاد رہے گی۔
