یہ اعلان اس لیے بھی اہم ہے کہ سری لنکا کی ٹیم آج ہی پاکستان پہنچ رہی ہے، جہاں اسے پہلے 9 سے 13 اکتوبر تک راولپنڈی میں تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنی ہے۔ سری لنکا کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے پیش نظارے میں ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ مینڈس کو ٹی ٹوئنٹی میں بھی کپتان مقرر کیا گیا تھا، اور اب ون ڈے میں بھی انہیں قیادت سونپی گئی ہے — یعنی بورڈ دونوں فارمیٹس میں قیادت کا تسلسل چاہتا ہے۔
مینڈس کو کپتانی کیوں ملی؟
کوسل مینڈس کا انتخاب حیران کن نہیں۔ وہ اس وقت سری لنکا کے سب سے مستحکم بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں اور پچھلے کئی ماہ سے مختلف فارمیٹس میں ٹیم کی بیٹنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی کپتانی کے بعد ون ڈے کی قیادت ملنا اس بات کا اشارہ ہے کہ سری لنکا کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کی تیاری میں ایک ہی لیڈر کے گرد ٹیم بنانا چاہتا ہے۔ یہ وہی حکمتِ عملی ہے جو بڑی ٹیمیں عالمی ایونٹس سے پہلے اپناتی ہیں — کپتان کو وقت دو، پھر نتیجہ مانگو۔
نسانکا کی فٹنس — سب سے بڑا سوال
اعلان میں سب سے زیادہ غور طلب بات پتھم نسانکا کی شمولیت ہے۔ سری لنکا کرکٹ نے واضح کہا ہے کہ نسانکا اسکواڈ میں تو شامل ہیں، لیکن ان کا پاکستان جانا میڈیکل کلیئرنس سے مشروط ہے۔ اگر میڈیکل ٹیم انہیں فٹ قرار نہیں دیتی تو وہ ٹیم کے ساتھ سفر نہیں کریں گے۔ سلیکشن کمیٹی نے ابھی تک کسی متبادل کھلاڑی کا نام نہیں دیا، جس سے لگتا ہے کہ بورڈ کو نسانکا کی فٹنس پر اعتماد ہے۔ یاد رہے نسانکا سری لنکا کے ٹاپ آرڈر کا سب سے اہم ستون ہیں — ان کی غیر موجودگی میں سری لنکن بیٹنگ لائن اپ کمزور پڑ سکتی ہے۔
اسکواڈ میں نمایاں تبدیلیاں
اسکواڈ میں تجربے اور نوجوان خون کا امتزاج رکھا گیا ہے۔ اہم باتیں:
- اویشکا فرنینڈو کی قومی ٹیم میں واپسی — انہیں دوبارہ ٹاپ آرڈر کا حصہ بنایا گیا ہے۔
- چارتھ اسالنکا اسکواڈ سے باہر — یہ اس اعلان کی سب سے بڑی سرپرائز تبدیلی ہے۔
- سابق کپتان داسن شناکا آل راؤنڈ ڈیپتھ کے ساتھ ٹیم میں موجود ہیں۔
- اسپن شعبے میں مہیش تھیکشنا، ڈونتھ ویلالگے اور سچندو کولمباج شامل۔
- فاسٹ بولنگ میں دشمانتھا چمیرا، اسیتھا فرنینڈو، دلشان مدھوشنکا اور ایشان ملنگا موجود۔
مکمل 16 رکنی اسکواڈ: کوسل مینڈس (کپتان)، پتھم نسانکا، اویشکا فرنینڈو، کامل مشارا، پون رتھنائیکے، ساہن آرچیج، کمندو مینڈس، جنیتھ لیاناج، داسن شناکا، ڈونتھ ویلالگے، مہیش تھیکشنا، سچندو کولمباج، دشمانتھا چمیرا، اسیتھا فرنینڈو، دلشان مدھوشنکا اور ایشان ملنگا۔
ٹرائی سیریز کا مکمل شیڈول
ٹرائی سیریز 18 اکتوبر سے شروع ہوگی اور فائنل 31 اکتوبر کو لاہور میں کھیلا جائے گا:
- 18 اکتوبر: پاکستان بمقابلہ سری لنکا — راولپنڈی
- 20 اکتوبر: پاکستان بمقابلہ انگلینڈ — راولپنڈی
- 22 اکتوبر: سری لنکا بمقابلہ انگلینڈ — راولپنڈی
- 25 اکتوبر: پاکستان بمقابلہ انگلینڈ — لاہور
- 27 اکتوبر: پاکستان بمقابلہ سری لنکا — لاہور
- 29 اکتوبر: سری لنکا بمقابلہ انگلینڈ — لاہور
- 31 اکتوبر: فائنل — قذافی اسٹیڈیم، لاہور
پاکستان کے لیے یہ سیریز کیوں اہم ہے؟
پاکستان کے لیے یہ ٹرائی سیریز محض ایک ہوم سیریز نہیں، بلکہ ورلڈ کپ 2027 کی تیاری کا بنیادی پتھر ہے۔ انگلینڈ جیسی ٹاپ ٹیم کا پاکستان آنا اس سیریز کو عالمی توجہ دے گا، اور پاکستانی شائقین کو اپنے ہی میدانوں میں بڑے مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انگلینڈ اس سیریز میں بٹلر کے بغیر کھیلے گا، جو ہیمسٹرنگ انجری کی وجہ سے پہلے ہی ٹرائی سیریز سے باہر ہو چکے ہیں — یہ پاکستان اور سری لنکا دونوں کے لیے موقع ہے۔
ایک اور اہم نکتہ: ٹرائی سیریز کے بعد سری لنکا کی ٹیم اسلام آباد میں 4 سے 6 نومبر تک تین روزہ وارم اپ میچ کھیلے گی، اور پھر پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز شروع ہوگی۔ یعنی پاکستانی شائقین کے لیے اگلے ڈیڑھ ماہ کرکٹ کا بھرپور موسم ہے۔
تصاویر: سری لنکا کرکٹ


