14 رنز سے جیت — بھارت کو سیریز میں 2-1 کی برتری! | 14 Runs Se Jeet, Bharat Ko 2-1 Ki Bartari

Sixer Zone Team
0
رانچی کا زخم ابھی تازہ تھا — 249 رنز کا دفاع نہ ہو سکا تھا، ویسٹ انڈیز نے تاریخ کا دوسرا بڑا تعاقب کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔ اور آج انڈور میں بھارت نے 14 رنز سے جیت کر حساب برابر کر دیا — ویسٹ انڈیز 224 کے ہدف کے تعاقب میں 209/7 تک پہنچ سکا، اور بھارت نے پانچ میچوں کی سیریز میں 2-1 کی برتری حاصل کر لی۔ میں نے یہ میچ بال بہ بال دیکھا، اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ سیریز کا اب تک کا سب سے سنسنی خیز مقابلہ تھا۔ ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر گیند بازی کا فیصلہ کیا — رانچی کی طرح اوس کا فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی۔ لیکن اس بار بھارت کی باؤلنگ نے آخری اوورز میں اعصاب قابو میں رکھے۔ میچ سے پہلے شائع شدہ میرا پیش نظارہ یہاں پڑھیں — اس میں میں نے لکھا تھا کہ بھارت کو نئے گیند سے حملہ کرنا ہوگا، اور ارشدیپ سنگھ نے بالکل وہی کیا۔ ارشدیپ سنگھ — فائل فوٹو تصویر: ویکیمیڈیا کامنز (CC BY-SA 4.0) — ارشدیپ سنگھ، جن کے 3 وکٹیں (44 رنز) بھارت کی جیت کی بنیاد بنے۔ ابھیشیک شرما کا طوفان — 30 گیندوں پر 69 بھارت کی اننگز کا آغاز اچھا نہ تھا — سنجو سیمسن صرف 3 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ لیکن پھر ابھیشیک شرما نے وہ کیا جو وہ اس سیریز میں کرتے آ رہے ہیں۔ 30 گیندوں پر 69 رنز، 6 چوکے اور 5 چھکے — اور اس دوران انہوں نے صرف 18 گیندوں پر نصف سنچری بھی مکمل کی۔ اسی اننگز کے دوران ابھیشیک تیز ترین 2000 ٹی ٹوئنٹی رنز مکمل کرنے والے کھلاڑی بھی بن گئے۔ ایشان کشن نے 18 گیندوں پر 37 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر ابھیشیک کا بھرپور ساتھ دیا — دونوں کے درمیان 40 گیندوں پر 108 رنز کی شراکت نے بھارت کو اڑان دی۔ تلک ورما (28)، نتیش کمار ریڈی (21)، اکشر پٹیل (20) اور آخر میں پرنس یادو کے ناقابل شکست 13 رنز نے مجموعے کو 223 آل آؤٹ تک پہنچایا۔ ویسٹ انڈیز کی طرف سے روسٹن چیز، شمر جوزف اور شمر اسپرنگر نے 2-2 وکٹیں لیں — اسپرنگر نے ابھیشیک کی خطرناک اننگز کا خاتمہ کیا۔ ویسٹ انڈیز کا تعاقب — قریب آ کر دور رہ گیا 224 کا ہدف، اور ویسٹ انڈیز نے رانچی میں 250 کا تعاقب کر رکھا تھا — اس لیے کوئی بھی انہیں ہلکا نہیں لے رہا تھا۔ لیکن اس بار شروعات ہی خراب ہوئی: شائی ہوپ صرف 5 رنز بنا کر ارشدیپ کا شکار ہوئے — رانچی کے ہیرو کا جلدی آؤٹ ہونا بھارت کے لیے سب سے بڑی کامیابی تھی۔ پھر شمرون ہیٹمائر (43) اور نکولس پورن (42) نے جوابی حملہ کیا اور 32 گیندوں پر 60 رنز جوڑ کر میچ میں جان ڈال دی۔ لیکن نمن دھیر نے دونوں کو آؤٹ کر کے (3 اوورز میں 39 رنز، 2 وکٹیں) ویسٹ انڈیز کی کمر توڑ دی۔ شرفین ردرفورڈ (32)، کوینٹن سیمپسن (21) اور کیمو پال (10) آئے اور گئے — اور جب 17.5 اوورز میں 174/7 ہو گیا، تو لگ رہا تھا میچ ختم۔ شمرون ہیٹمائر — فائل فوٹو تصویر: ویکیمیڈیا کامنز (CC BY 3.0) — شمرون ہیٹمائر کے 26 گیندوں پر 43 رنز نے ویسٹ انڈیز کی امیدیں زندہ رکھیں۔ آخری دھماکہ — شمر اسپرنگر کا کیمیو لیکن کرکٹ میں کبھی جلدی فیصلہ نہ کریں۔ شمر اسپرنگر نے 11 گیندوں پر ناقابل شکست 35 رنز (2 چوکے، 4 چھکے) بنا کر آخری اوورز میں بھارتی کیمپ میں ہلچل مچا دی — ان کا اسٹرائیک ریٹ 318 تھا! روسٹن چیز 5 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ چند گیندوں کے لیے لگا کہ رانچی کی تاریخ دہرائی جائے گی، لیکن ہدف بہت بڑا تھا — ویسٹ انڈیز 20 اوورز میں 209/7 تک ہی پہنچ سکا۔ بھارت کی باؤلنگ میں ارشدیپ سنگھ 4 اوورز میں 44 رنز کے عوض 3 وکٹیں لے کر نمایاں رہے — ہوپ، ردرفورڈ اور کیمو پال ان کا شکار ہوئے۔ نمن دھیر کے 2، اکشر پٹیل اور نتیش کمار ریڈی کا ایک ایک وکٹ بھی اہم رہا۔ ہولکر اسٹیڈیم انڈور — فائل فوٹو تصویر: ویکیمیڈیا کامنز (CC BY 3.0) — ہولکر اسٹیڈیم، انڈور، جہاں 14 رنز کا سنسنی خیز مقابلہ ہوا۔ میچ کا ٹرننگ پوائنٹ — میری نظر میں میرے نزدیک اس میچ کے دو فیصلہ کن لمحات تھے۔ پہلا: شائی ہوپ کا دوسرے اوور میں آؤٹ ہونا ۔ رانچی میں جس کھلاڑی نے 102 ناٹ آؤٹ بنا کر میچ چھینا تھا، اس کا جلدی جانا ویسٹ انڈیز کے منصوبے کی بنیاد ہلا گیا۔ دوسرا: درمیانی اوورز میں بھارت کے اسپنرز کا کنٹرول — اکشر اور نمن دھیر نے ہیٹمائر-پورن کی خطرناک شراکت توڑ کر رن ریٹ کو قابو میں رکھا۔ ویسٹ انڈیز کو آخری 5 اوورز میں بہت زیادہ رنز درکار تھے، اور اسی دباؤ میں وکٹیں گریں۔ سیریز کی صورتحال — اب آگے کیا؟ پانچ میچوں کی سیریز میں بھارت کو اب 2-1 کی برتری حاصل ہے۔ اگلے دو میچ حیدرآباد (14 اکتوبر) اور بنگلورو (17 اکتوبر) میں ہوں گے۔ ویسٹ انڈیز کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ ان کی بیٹنگ گہرائی ثابت ہو چکی — 209 کا تعاقب ہار کر بھی انہوں نے دکھایا کہ وہ کسی ہدف سے نہیں ڈرتے۔ بھارت کے لیے سوال اب بھی باؤلنگ کا ہے: 223 کا دفاع تو ہو گیا، لیکن آخری اوورز میں اسپرنگر کے کیمیو نے ایک بار پھر ڈیتھ باؤلنگ کی کمزوری ظاہر کی۔ میری پیش گوئی: اگلے دو میچ بھی کانٹے کے ہوں گے — یہ سیریز ابھی ختم نہیں ہوئی۔ رانچی کے ریکارڈ تعاقب کی مکمل کہانی یہاں پڑھیں ۔ اکثر پوچھے جانے والے سوالات بھارت نے تیسرا ٹی ٹوئنٹی کتنے رنز سے جیتا؟ بھارت نے ویسٹ انڈیز کو 14 رنز سے ہرایا — بھارت 223 آل آؤٹ، ویسٹ انڈیز 209/7۔ ابھیشیک شرما نے کتنے رنز بنائے؟ 30 گیندوں پر 69 رنز (6 چوکے، 5 چھکے) — 18 گیندوں پر نصف سنچری اور تیز ترین 2000 ٹی ٹوئنٹی رنز کا عالمی ریکارڈ۔ ویسٹ انڈیز کی طرف سے سب سے زیادہ رنز کس نے بنائے؟ شمرون ہیٹمائر 43 (26 گیندیں)، نکولس پورن 42 (27 گیندیں)، شمر اسپرنگر 35 ناٹ آؤٹ (11 گیندیں)۔ بھارت کی طرف سے بہترین باؤلنگ کس کی رہی؟ ارشدیپ سنگھ — 4 اوورز میں 44 رنز دے کر 3 وکٹیں (ہوپ، ردرفورڈ، کیمو پال)۔ سیریز میں اب کیا صورتحال ہے؟ پانچ میچوں کی سیریز میں بھارت 2-1 سے آگے — چوتھا میچ حیدرآباد (14 اکتوبر)، پانچواں بنگلورو (17 اکتوبر) میں ہوگا۔ مزید پڑھیں تیسرے ٹی ٹوئنٹی سے پہلے میرا مکمل پیش نظارہ ریکارڈ تعاقب، بھارت کو 6 وکٹ سے شکست — دوسرا ٹی ٹوئنٹی رانچی کا بدلہ انڈور میں پورا ہوا — لیکن صرف 14 رنز سے۔ یہ سیریز جس رفتار سے چل رہی ہے، حیدرآباد اور بنگلورو میں بھی دھماکہ ہونے والا ہے۔ آپ کی رائے میں سیریز کا حتمی نتیجہ کیا ہوگا؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

Post a Comment

0 Comments

Post a Comment (0)
3/related/default