سیریز 1-1 برابر — اب فیصلہ انڈور میں: بھارت بمقابلہ ویسٹ انڈیز | IND vs WI 3rd T20I Decider

Sixer Zone Team
0

میں نے اس سیریز کے پہلے دو میچز بال بہ بال دیکھے ہیں، اور ایک بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں — بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان یہ پانچ میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز اس سال کی سب سے دلچسپ سیریز بننے کی راہ پر ہے۔ لکھنؤ میں بھارت نے 8 وکٹ سے یکطرفہ فتح حاصل کی، اور پھر رانچی میں ویسٹ انڈیز نے 250 رنز کا پہاڑ سر کر کے سب کو حیران کر دیا۔ اب سیریز 1-1 سے برابر ہے، اور آج شام انڈور کے ہولکر اسٹیڈیم میں تیسرا ٹی ٹوئنٹی فیصلہ کرے گا کہ برتری کس کے حصے میں آتی ہے۔

میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے 6 بجے شروع ہوگا (ٹاس 6 بجے)، اور میری نظر میں یہ صرف ایک اور ٹی ٹوئنٹی نہیں — یہ اس سیریز کا رخ متعین کرنے والا میچ ہے۔ جو ٹیم آج جیتے گی، وہ حیدرآباد (14 اکتوبر) اور بنگلورو (17 اکتوبر) کے آخری دو میچوں میں نفسیاتی برتری کے ساتھ اترے گی۔

شائی ہوپ — فائل فوٹو

تصویر: ویکیمیڈیا کامنز (CC BY 3.0) — شائی ہوپ، جن کی فارم بھارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

اب تک کیا ہوا؟ — دو میچ، دو مختلف کہانیاں

پہلا ٹی ٹوئنٹی (لکھنؤ، 6 اکتوبر): ویسٹ انڈیز نے پہلے کھیل کر 171 رنز بنائے (ردرفورڈ 56، ہوپ 52؛ ڈیبیو کرنے والے نمن دھیر کے 3 وکٹیں)۔ جواب میں بھارتی کپتان شریاس آئیئر نے 43 گیندوں پر ناقابل شکست 102 رنز کی دھواں دار اننگز کھیل کر — اپنی پہلی ٹی ٹوئنٹی سنچری — صرف 14.4 اوورز میں ہی میچ ختم کر دیا۔ بھارت 8 وکٹ سے جیتا۔

دوسرا ٹی ٹوئنٹی (رانچی، 9 اکتوبر): یہ میچ تاریخ میں درج ہو گیا۔ بھارت نے پہلے کھیل کر 249/5 بنائے — سنجو سیمسن کے 82، ایشان کشن کے 43، آئیئر کے 40 اور تلک ورما کے ناقابل شکست 44 رنز۔ لگ رہا تھا میچ ختم۔ لیکن ویسٹ انڈیز نے 18.3 اوورز میں 252/4 بنا کر 6 وکٹ سے جیت لیا — مردوں کے ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ کا دوسرا بڑا کامیاب تعاقب، اور بھارت کے خلاف سب سے بڑا۔ رانچی کے اس ریکارڈ تعاقب کی مکمل تفصیل یہاں پڑھیں۔

شائی ہوپ — وہ پہیلی جو بھارت حل نہیں کر پا رہا

میں پچھلے کئی سال سے کرکٹ دیکھ رہا ہوں، لیکن جو فارم شائی ہوپ اس دورے پر دکھا رہے ہیں، وہ غیر معمولی ہے۔ پہلے ون ڈے سیریز میں لگاتار سنچریاں (گوہاٹی میں 104، نیو چندی گڑھ میں ناقابل شکست 162 — جہاں انہوں نے 352 رنز کا تعاقب مکمل کرایا، ویسٹ انڈیز کی ون ڈے تاریخ کا سب سے بڑا کامیاب تعاقب)، پھر ٹی ٹوئنٹی سیریز میں لکھنؤ میں 52 اور رانچی میں 45 گیندوں پر ناقابل شکست 102 — یہ ان کے دورے کی تیسری سنچری تھی۔

رانچی والی سنچری صرف تیز نہیں تھی (6 چوکے، 9 چھکے، اسٹرائیک ریٹ 226)، بلکہ اس نے ہوپ کو ایک ایلیٹ کلب میں پہنچا دیا — وہ شین واٹسن کے بعد صرف دوسرے کھلاڑی ہیں جنہوں نے بھارت کے خلاف تینوں فارمیٹس میں سنچریاں بنائی ہیں۔ بھارتی ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر خود کہہ چکے ہیں کہ شائی ہوپ ورلڈ کلاس کرکٹر ہیں — اور حریف کوچ سے اس سے بڑی تعریف کیا ہو سکتی ہے؟

میرے خیال میں آج کے میچ کا سب سے بڑا سوال یہی ہے: کیا بھارت کے اسپنرز ہوپ کا کوئی جواب ڈھونڈ پائے ہیں؟ رانچی میں کلدیپ یادو نے 4 اوورز میں 53 رنز دیے تھے — یہ وہ اعداد ہیں جو بھارتی ٹیم مینجمنٹ کو ضرور سوچنے پر مجبور کر رہے ہوں گے۔

بھارت کی باؤلنگ — اصل درد کہاں ہے؟

آئیے ایمانداری سے بات کریں: بھارت کی بیٹنگ اس وقت دنیا کی خطرناک ترین ٹی ٹوئنٹی بیٹنگ لائنوں میں سے ایک ہے۔ سیمسن، کشن، آئیئر، تلک ورما — چاروں فارم میں ہیں۔ مسئلہ باؤلنگ ہے۔ رانچی میں 249 کا دفاع نہ ہو سکا۔ ماینک یادو نے 3 وکٹیں لے کر ضرور متاثر کیا (پہلے ہی اوور میں دو وکٹیں — پورن اور ہیٹمائر)، لیکن اکشر پٹیل اور کلدیپ درمیانی اوورز میں بے بس نظر آئے۔

اطلاعات ہیں کہ ٹیم مینجمنٹ تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے — شیوم دوبے کی جگہ نتیش کمار ریڈی، اور اسپن کو مضبوط کرنے کے لیے روی بشنوئی کا آپشن بھی میز پر ہے۔ میری رائے میں بھارت کو آج نئے گیند سے ہی حملہ کرنا ہوگا؛ اگر ہوپ اور ردرفورڈ کو پاور پلے میں کھلی چھٹی ملی تو ہولکر کی چھوٹی باؤنڈریوں پر پھر تباہی مچ سکتی ہے۔ بھارت کے وائٹ بال اسکواڈ اور باؤلنگ آپشنز پر پہلے شائع شدہ تجزیہ یہاں دیکھیں۔

ہولکر اسٹیڈیم انڈور — فائل فوٹو

تصویر: ویکیمیڈیا کامنز (CC BY 3.0) — ہولکر اسٹیڈیم، انڈور، جہاں آج فیصلہ کن تیسرا ٹی ٹوئنٹی کھیلا جائے گا۔

انڈور کا ہولکر اسٹیڈیم — ٹاس کیوں سب کچھ ہے؟

ہولکر اسٹیڈیم کی پچ بین الاقوامی کرکٹ کی فلیٹسٹ پچوں میں شمار ہوتی ہے۔ اسکوائر باؤنڈریاں 60 میٹر سے بھی کم، آؤٹ فیلڈ بجلی کی طرح تیز — باؤلرز کے لیے غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اور پھر شام کو پڑنے والی اوس دوسری اننگز میں گیند کو مشکل بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹاس جیتنے والا کپتان تقریباً ہمیشہ پہلے گیند کرنے کو ترجیح دے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت نے ہولکر میں کھیلے گئے تینوں ٹی ٹوئنٹی جیتے ہیں (سری لنکا کے خلاف 2017 اور 2022، نیوزی لینڈ کے خلاف 2023)۔ لیکن یہاں چیز کرنے کا ریکارڈ ملا جلا ہے — 4 میں سے صرف 2 میچ چیز کرنے والی ٹیم نے جیتے۔ تو ہوم ایڈوانٹیج اپنی جگہ، ٹاس آج آدھا میچ ہے۔

کن لڑائیوں پر نظر رہے گی؟

  • شائی ہوپ بمقابلہ بھارتی اسپن — رانچی میں ہوپ نے اسپن کو نہیں بخشا؛ کیا کلدیپ اور اکشر آج مختلف منصوبے لائیں گے؟
  • شیرفین ردرفورڈ بمقابلہ تیز گیند بازی — 37 گیندوں پر 84 رنز (7 چوکے، 7 چھکے)؛ ماینک یادو کی رفتار کے خلاف ان کا مقابلہ دیکھنے لائق ہوگا۔
  • شریاس آئیئر کی کپتانی — لکھنؤ میں سنچری، رانچی میں 18 گیندوں پر 40؛ بطور کپتان ان کی فارم بھارت کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔
  • سنجو سیمسن کا تسلسل — 41 گیندوں پر 82 کے بعد اب سب کی نظریں ان پر ہیں کہ کیا وہ یہ فارم برقرار رکھ سکتے ہیں؟
  • پاول اور شیفرڈ — ڈیتھ اوورز کی طاقت — رانچی میں شیفرڈ کے 13 گیندوں پر ناقابل شکست 34 نے میچ ختم کیا تھا؛ بھارت کو آخر تک چوکنا رہنا ہوگا۔

میری پیشگوئی

میں جھوٹی یقین دہانی نہیں کراؤں گا — یہ میچ کسی بھی طرف جا سکتا ہے۔ لیکن تجزیے کی بنیاد پر میری رائے یہ ہے: جو ٹیم ٹاس جیت کر پہلے گیند کرے گی، اس کے جیتنے کے امکانات واضح طور پر زیادہ ہوں گے۔ اوس، چھوٹی باؤنڈریاں اور ویسٹ انڈیز کا 252 کا کامیاب تعاقب — یہ تینوں عوامل چیز کرنے والی ٹیم کے حق میں ہیں۔

اگر ویسٹ انڈیز ٹاس جیت کر چیز کرے تو میں انہیں ہلکا سا فیورٹ سمجھوں گا — ہوپ کی فارم اس وقت کسی بھی باؤلنگ اٹیک کو توڑ سکتی ہے۔ لیکن اگر بھارت پہلے بیٹنگ کر کے 220 سے اوپر بنا لے تو ہولکر میں ان کا ناقابل شکست ریکارڈ اور بیٹنگ کی گہرائی انہیں بچا سکتی ہے۔ ایک بات طے ہے — آج رنز کی بارش ہونے والی ہے، تو ٹی وی کے سامنے بیٹھ جائیے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

بھارت بمقابلہ ویسٹ انڈیز تیسرا ٹی ٹوئنٹی کب اور کہاں ہوگا؟
آج (اتوار، 11 اکتوبر) انڈور کے ہولکر اسٹیڈیم میں؛ پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے 6 بجے شروع ہوگا، ٹاس 6 بجے۔

سیریز کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
پانچ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر ہے؛ لکھنؤ میں بھارت 8 وکٹ سے جیتا تھا، رانچی میں ویسٹ انڈیز 6 وکٹ سے۔

میچ کہاں دیکھا جا سکتا ہے؟
بھارت میں اسٹار اسپورٹس نیٹ ورک اور جیو ہاٹ اسٹار پر براہ راست نشر ہوگا۔

شائی ہوپ اس دورے پر کیسی فارم میں ہیں؟
غیر معمولی — دورے کی تین سنچریاں (104، 162 ناٹ آؤٹ، 102 ناٹ آؤٹ)؛ وہ شین واٹسن کے بعد بھارت کے خلاف تینوں فارمیٹس میں سنچری بنانے والے صرف دوسرے کھلاڑی ہیں۔

سیریز کے باقی میچ کب ہیں؟
چوتھا ٹی ٹوئنٹی 14 اکتوبر کو حیدرآباد میں اور پانچواں 17 اکتوبر کو بنگلورو میں کھیلا جائے گا۔

کرکٹ میں کچھ شامیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں آپ سالوں یاد رکھتے ہیں — مجھے لگتا ہے آج کی شام بھی انہی میں سے ایک ہو سکتی ہے۔ ایک طرف شائی ہوپ کی تباہ کن فارم، دوسری طرف ہولکر میں بھارت کا ناقابل شکست ریکارڈ۔ ٹاس 6 بجے، پہلی گیند ساڑھے 6 بجے — اور پھر جو ہوگا، وہ تاریخ ہوگی۔ آپ کی پیشگوئی کیا ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیے گا۔

Post a Comment

0 Comments

Post a Comment (0)
3/related/default