چار سال بعد بھونیشور کمار کی ٹیم انڈیا میں دھماکہ خیز واپسی — نیوزی لینڈ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا اسکواڈ اعلان

Sixer Zone Team
0

چار سال بعد بھونیشور کمار کی ٹیم انڈیا میں دھماکہ خیز واپسی — نیوزی لینڈ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا اسکواڈ اعلان

بھونیشور کمار بھارت کے لیے گیند بازی کرتے ہوئے (2013 چیمپئنز ٹرافی)

کرکٹ میں کہتے ہیں کہ فارم عارضی ہوتی ہے، لیکن کلاس ہمیشہ رہتی ہے۔ بھارتی فاسٹ بولر بھونیشور کمار نے یہ بات ایک بار پھر ثابت کر دی ہے۔ بی سی سی آئی نے منگل کو نیوزی لینڈ کے خلاف پانچ ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے لیے بھارتی اسکواڈ کا اعلان کیا، اور سب سے بڑی سرپرائز — بلکہ کہہ لیں سب سے خوبصورت کہانی — بھونیشور کمار کی تقریباً چار سال بعد قومی ٹیم میں واپسی تھی۔

36 سال کی عمر میں، جب زیادہ تر کھلاڑی ریٹائرمنٹ کی باتیں سوچتے ہیں، بھونیشور نے دروازہ خود کھٹکھٹایا اور سلیکٹرز کو ماننے پر مجبور کر دیا۔

چار سال کی خاموشی اور اچانک ایک کال

بھونیشور کمار نے آخری بار بھارت کے لیے نومبر 2022 میں ٹی ٹوئنٹی کھیلا تھا۔ یعنی تقریباً چار سال کا وقفہ۔ اس دوران کئی نوجوان فاسٹ بولرز آئے، چمکے اور ٹیم میں اپنی جگہ بنائی۔ زیادہ تر کرکٹ مبصرین کا خیال تھا کہ بھونیشور کا بین الاقوامی کیریئر اب ختم ہو چکا ہے — بڑھتی عمر، نوجوانوں کی لمبی قطار، اور ٹیم انڈیا کی رفتار سے بدلتی حکمت عملی۔ لیکن قسمت کے پھیرے کچھ اور ہی تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا آخری ٹی ٹوئنٹی بھی نیوزی لینڈ کے خلاف تھا، اور واپسی کی سیریز بھی نیوزی لینڈ کے خلاف ہی ہے۔ کرکٹ میں ایسے اتفاقات شاذ و نادر ہوتے ہیں — جیسے قسمت خود ایک دائرہ مکمل کر رہی ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا نیوزی لینڈ کی سوئنگ والی پچوں پر بھونیشور کی پرانی سوئنگ ایک بار پھر جادو جگائے گی۔

آئی پی ایل نے کس طرح دروازہ کھولا؟

بھونیشور کی واپسی کی کہانی دراصل آئی پی ایل کی کہانی ہے۔ رائل چیلنجرز بنگلورو (آر سی بی) کی طرف سے کھیلتے ہوئے انہوں نے پچھلے دو سیزنوں میں مجموعی طور پر 45 وکٹیں حاصل کیں — آئی پی ایل 2025 میں 17 اور آئی پی ایل 2026 میں 28 وکٹیں۔ آر سی بی کی مسلسل دو ٹائٹل جیتنے والی مہموں میں ان کا کردار کلیدی رہا، خاص طور پر نئی گیند کے ساتھ ان کی سوئنگ اور ڈیتھ اوورز کا تجربہ۔

بھونیشور کے بین الاقوامی نمبرز آج بھی کسی بھی نوجوان بولر کے لیے معیار ہیں — 87 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں 90 وکٹیں، 23.10 کی اوسط اور 6.96 کی اکانومی۔ سلیکٹرز نے بالآخر مان لیا کہ نیوزی لینڈ جیسی سوئنگ والی سرزمین پر تجربہ جوانوں سے کم قیمتی نہیں ہوتا۔ یہ واپسی اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈومیسٹک اور فرنچائز کرکٹ میں مسلسل کارکردگی کا راستہ کبھی بند نہیں ہوتا۔

بھونیشور کمار آئی پی ایل میں گیند بازی کرتے ہوئے

نیوزی لینڈ سیریز کا مکمل 16 رکنی اسکواڈ

  • شریاس آئر (کپتان)
  • ابھیشیک شرما
  • سنجو سیمسن (وکٹ کیپر)
  • وئیبھو سوریا ونشی
  • ایشان کشن (وکٹ کیپر)
  • تلک ورما (نائب کپتان)
  • اکشر پٹیل
  • شیوم دوبے
  • نیتش کمار ریڈی
  • نعمان دھیر
  • پرنس یادو
  • میانک یادو
  • ارشدیپ سنگھ
  • بھونیشور کمار
  • ورون چکرورتی
  • کلدیپ یادو

کس کو اندر لایا گیا، کس کو باہر کیا گیا؟

  • اندر: بھونیشور کمار اور ورون چکرورتی — ورون سائیڈ اسٹرین کی انجری سے صحت یاب ہو کر واپس آئے ہیں، انہیں افغانستان کے خلاف سیریز کے بعد ٹیم سے باہر ہونا پڑا تھا۔
  • باہر: روی بشنوئی — جنہیں اسکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ورون کی واپسی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
  • آرام: جسپریت بمراہ — انہیں ٹی ٹوئنٹی سیریز میں آرام دیا گیا ہے کیونکہ ون ڈے اور ٹیسٹ سیریز میں ان کا بڑا کردار متوقع ہے۔

شریاس آئر بطور کپتان یہ چوتھی بیرونِ ملک سیریز سنبھالیں گے۔

سیریز کا مکمل شیڈول

  • پہلا ٹی ٹوئنٹی: کرائسٹ چرچ — 22 اکتوبر
  • دوسرا ٹی ٹوئنٹی: کرائسٹ چرچ — 24 اکتوبر
  • تیسرا ٹی ٹوئنٹی: ویلنگٹن — 27 اکتوبر
  • چوتھا ٹی ٹوئنٹی: آکلینڈ — 30 اکتوبر
  • پانچواں ٹی ٹوئنٹی: ہیملٹن — یکم نومبر

ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد پانچ ون ڈے اور دو ٹیسٹ میچ بھی کھیلے جائیں گے، جن کے اسکواڈ کا اعلان بعد میں ہو گا۔ یاد رہے کہ بھارت نے اسی سال جنوری میں نیوزی لینڈ کو اسی کی سرزمین پر ٹی ٹوئنٹی سیریز میں 4-1 سے شکست دی تھی، اس لیے میزبان ٹیم بدلہ لینے کے موڈ میں ہو گی۔

میری رائے: یہ واپسی کیوں اتنی اہم ہے؟

بھونیشور کی واپسی صرف ایک سلیکشن فیصلہ نہیں — یہ ان تمام کھلاڑیوں کے لیے ایک پیغام ہے جو عمر اور نوجوانوں کی بھیڑ دیکھ کر ہار مان چکے ہیں۔ محنت، فٹنس اور مسلسل کارکردگی کا راستہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ نیوزی لینڈ کی ٹھنڈی، گیلی اور سوئنگ والی پچوں پر بھونیشور جیسے تجربہ کار کی موجودگی ٹیم انڈیا کے لیے ایک طاقتور ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔

سوال صرف یہ ہے کہ کیا وہ پہلے میچ کی پلیئنگ الیون میں جگہ بنا پائیں گے؟ ارشدیپ سنگھ، میانک یادو اور پرنس یادو جیسے نوجوانوں سے مقابلہ آسان نہیں ہو گا۔

بھارتی کرکٹ میں ویسے بھی تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے — کچھ دن پہلے سوریا کمار یادو کو ممبئی کی رنجی ٹیم سے بھی ڈراپ کر دیا گیا تھا، اور ویمن کرکٹ میں اسمرتی مندھانا نئی کپتان بنیں۔ ایک طرف تجربہ کار کھلاڑیوں کے لیے دروازے بند ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف بھونیشور جیسوں کے لیے کھل رہے ہیں۔ کرکٹ کی یہی خوبصورتی ہے۔

Post a Comment

0 Comments

Post a Comment (0)
3/related/default