بھارتی ویمن کرکٹ میں قیادت کی منتقلی مکمل ہو گئی۔ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے منگل 6 اکتوبر کو باضابطہ اعلان کیا کہ تجربہ کار اوپنر اسمرتی مندھانا اب بھارتی ویمن ٹیم کی تینوں فارمیٹس کی کپتان ہوں گی۔ یہ اعلان ہرمن پریت کور کے کپتانی سے مستعفی ہونے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا — اور یوں بھارتی ویمن کرکٹ میں ایک نئے دور کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
اسمرتی مندھانا — بھارت کی نئی ویمن کپتان (تصویر: وکیمیڈیا کامنز)
مندھانا — قدرتی اور تیار انتخاب
بی سی سی آئی کے مطابق 29 سالہ مندھانا کے لیے یہ ذمہ داری نئی نہیں۔ وہ اس سے پہلے بھی قومی ٹیم کی قیادت کر چکی ہیں — 18 ٹی ٹوئنٹی اور 4 ون ڈے میچز میں وہ بھارت کی کپتان رہیں۔ 2013 میں انٹرنیشنل ڈیبیو کرنے والی مندھانا گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے بھارتی بیٹنگ لائن اپ کا ستون ہیں اور دنیا کی بہترین ویمن بلے بازوں میں شمار ہوتی ہیں۔
فرنچائز کرکٹ میں ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا ٹھوس ثبوت بھی موجود ہے۔ مندھانا نے رائل چیلنجرز بنگلور کی قیادت کرتے ہوئے ٹیم کو ویمنز پریمیئر لیگ کے 2024 اور 2026 کے ٹائٹل جتوائے۔ بی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ "2013 سے ٹیم کا حصہ رہنے والی اسمرتی کے پاس بے پناہ تجربہ ہے، اور ٹیم کے نئے مرحلے میں ان کی قیادت انتہائی اہم ہو گی۔"
ہرمن پریت کا شاندار ورثہ
ہرمن پریت کور (37) نے اسی روز تینوں فارمیٹس کی کپتانی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ ان کی قیادت میں بھارتی ویمن کرکٹ نے تاریخ رقم کی:
- 2025 کا ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ ٹائٹل — بھارت کا پہلا عالمی ٹائٹل
- ایشین گیمز 2026 میں گولڈ میڈل — مسلسل دوسری بار سونے کا تمغہ
- بطور کپتان 5 ٹیسٹ، 51 ون ڈے اور 155 ٹی ٹوئنٹی میچز میں ٹیم کی قیادت
اہم بات یہ ہے کہ ہرمن پریت کرکٹ کو خیرباد نہیں کہہ رہیں — وہ بطور کھلاڑی تینوں فارمیٹس میں ٹیم کا حصہ رہیں گی۔ ہرمن پریت کے مستعفی ہونے کی مکمل خبر یہاں پڑھیں۔
ارجن ایوارڈ کے ساتھ اسمرتی مندھانا (تصویر: وکیمیڈیا کامنز)
بی سی سی آئی کی مکمل حمایت
بی سی سی آئی صدر متھن مانہاس نے مندھانا کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تجربہ، کھیل کی سمجھ اور سامنے سے قیادت کرنے کی صلاحیت ٹیم کے لیے قیمتی ثابت ہو گی۔ بورڈ کے اعزازی سیکرٹری دیواجیت سائیکیا نے بھی ان کے مزاج اور تجربے کو سراہا اور آر سی بی کی کامیاب قیادت کو اس کی مثال قرار دیا۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اچانک نہیں ہوا — 5 اکتوبر کو گوہاٹی میں بورڈ کے جائزہ اجلاس میں ہرمن پریت، مندھانا، ہیڈ کوچ امول مزومدار اور سیکرٹری سائیکیا شریک تھے، جہاں ویمن ٹیم کے مستقبل کا روڈ میپ طے پایا۔
مندھانا کا پہلا ردعمل
کپتانی ملنے پر مندھانا نے کہا کہ "بھارت کی قیادت کی ذمہ داری ملنا میرے لیے بہت خاص اعزاز ہے۔" انہوں نے بی سی سی آئی، سلیکٹرز، ساتھی کھلاڑیوں اور مداحوں کا شکریہ ادا کیا اور ہرمن پریت کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ "انہوں نے بڑے عزم کے ساتھ ٹیم کی قیادت کی اور ہمارے سفر کا اہم حصہ رہیں۔"
تجزیہ — نیا دور، نئے چیلنجز
میرے خیال میں یہ بھارتی بورڈ کا سب سے محفوظ اور دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ مندھانا نائب کپتان تھیں، ڈریسنگ روم میں ان کی عزت ہے، اور بڑے میچوں کا دباؤ سہنے کا تجربہ رکھتی ہیں۔ ہرمن پریت کا انداز جارحانہ تھا جبکہ مندھانا پُرسکون مزاج کی قائد سمجھی جاتی ہیں — یہ تبدیلی ٹیم کی ثقافت میں بھی نرمی لا سکتی ہے۔
اصل امتحان اب شروع ہو گا۔ بھارت کو ورلڈ کپ اور ایشین گیمز کی کامیابیوں کے بعد توقعات آسمان پر ہیں، اور زمبابوے کے خلاف آئندہ سیریز مندھانا کے دور کا پہلا پڑاؤ ہو گی۔ اسمرتی مندھانا کے ریکارڈ ساز سنگ میل کی خبر یہاں پڑھیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اپنی شاندار بیٹنگ فارم کو قیادت کے بوجھ کے ساتھ برقرار رکھ پاتی ہیں — یہی ہر نئے کپتان کا سب سے بڑا سوال ہوتا ہے۔
