
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سینٹرل کنٹریکٹ کی نئی فہرست اب ایک معمہ بن چکی ہے۔ 31 جولائی کو پرانے معاہدوں کی میعاد ختم ہوئے دو ماہ سے زائد کا عرصہ بیت چکا، مگر آج 6 اکتوبر تک بورڈ یہ اعلان نہیں کر سکا کہ کن کھلاڑیوں کو نئے کنٹریکٹ ملیں گے — اور یہ کہ ان کی کیٹیگری کیا ہوگی۔ بھارتی میڈیا کی تازہ رپورٹ کے مطابق بورڈ کے اندر ہی اس معاملے پر متضاد آوازیں اٹھ رہی ہیں، اور کھلاڑی نئے فارمیٹ بیسڈ نظام سے خوش نہیں۔
بورڈ کے دو عہدیدار، دو متضاد بیانات
NDTV Profit کی آج شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، پی سی بی کے ایک سینئر عہدیدار نے پہلے کہا تھا کہ بورڈ پر فہرست کا اعلان "لازم نہیں" — یہ بورڈ کا اندرونی معاملہ ہے۔ لیکن بعد میں ایک اور عہدیدار نے وضاحت کی کہ فہرست "بالآخر عوام کے سامنے لائی جائے گی"۔
اب سوال یہ ہے کہ فہرست تیار ہو کر کھلاڑیوں تک پہنچ چکی ہے یا نہیں؟ ذرائع کے مطابق یہ بات بھی واضح نہیں — آیا نیا نظام حتمی شکل پا چکا ہے یا ابھی بورڈ کے اندر بحث و تکرار جاری ہے۔ ایسی صورتحال میں کھلاڑی اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کے عالم میں ہیں۔
نیا نظام کیا ہے؟ — فارمیٹ بیسڈ ٹریکس
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے 2026-27 کے سیزن کے لیے مرکزی معاہدوں کا پورا ڈھانچہ بدل دیا تھا۔ پرانے A، B، C، D کیٹیگری نظام کی جگہ فارمیٹ بیسڈ ٹریک متعارف کرائے گئے:
- ٹریک A — صرف ٹیسٹ کرکٹ کے ماہرین؛ بہترین کھلاڑیوں کو ماہانہ 40 لاکھ روپے تک
- ٹریک AB — ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں کھیلنے والے؛ ماہانہ 48 سے 50 لاکھ روپے
- ٹریک BC — وائٹ بال کھلاڑی؛ ماہانہ تقریباً 18 لاکھ روپے
- ٹریک C — صرف ٹی ٹوئنٹی ماہرین؛ ماہانہ 12 سے 15 لاکھ روپے
- ٹریک D — ترقیاتی/نوجوان کھلاڑی؛ ماہانہ 10 لاکھ روپے تک
اہلیت کا معیار بھی سخت کر دیا گیا: پچھلے 12 ماہ میں 4 ٹیسٹ، 6 ون ڈے یا 6 ٹی ٹوئنٹی کھیلنا لازم۔ میچ فیس الگ سے: ٹیسٹ پر 15 لاکھ، ون ڈے پر 7.5 لاکھ اور ٹی ٹوئنٹی پر 5 لاکھ روپے۔ آئی سی سی ایونٹ جیتنے پر 500 فیصد بونس کا وعدہ بھی کیا گیا۔
تاخیر کی اصل وجہ کیا ہے؟
تین باتیں سامنے آ رہی ہیں:
1۔ کھلاڑیوں کی مخالفت: ذرائع کے مطابق کئی کھلاڑیوں نے فارمیٹ مخصوص معاہدوں پر احتجاج کیا ہے۔ ایک ذریعے کے الفاظ میں: "کوئی کھلاڑی خود کو صرف ایک فارمیٹ تک محدود نہیں کرنا چاہتا۔" یہ قدرتی بات ہے — جو کھلاڑی آج ٹی ٹوئنٹی کا اسٹار ہے، وہ کل ٹیسٹ کا دروازہ بند ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔
2۔ کیٹیگریز کی الجھن: اگست میں ڈان کی خبر کے مطابق بورڈ خود اس بات میں الجھا ہوا ہے کہ کس کھلاڑی کو کس ٹریک میں رکھا جائے۔ جب نظام ہی واضح نہ ہو تو فہرست کا اعلان کیسے ہو؟
3۔ بورڈ کی رازداری: موجودہ سیٹ اپ کی مالی معاملات میں غیر معمولی خاموشی — 2023 کے بعد بورڈ کی ویب سائٹ پر کوئی آڈٹ شدہ مالیاتی بیانات شائع نہیں ہوئے، اور ہائی کورٹ سے اسٹے آرڈر بھی لیا گیا۔ کنٹریکٹ کی فہرست کا چھپایا جانا اسی روش کی ایک اور کڑی لگتی ہے۔
ٹیم کے لیے اس کے کیا معنی ہیں؟

وقت سب سے برا ہے۔ 9 اکتوبر سے سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز شروع ہو رہی ہے — وہی سیریز جس کے لیے صاحبزادہ فرحان کو نیا ٹی ٹوئنٹی کپتان بنایا گیا اور عثمان طارق سمیت کئی کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے باہر رکھا گیا۔ پھر 18 اکتوبر سے انگلینڈ اور سری لنکا کے ساتھ ون ڈے ٹرائی سیریز ہے۔ ایسے میں کھلاڑیوں کا ذہنی سکون معاہدوں کی غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف، یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بورڈ نے فارمیٹ مخصوص ٹیموں کی سمت میں جو قدم اٹھایا ہے — علیحدہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی اسکواڈز — وہ جدید کرکٹ کی سمت میں درست سمت ہے۔ سلیکٹر عاقب جاوید کا موقف بھی یہی تھا کہ ہر فارمیٹ کے لیے ماہر کھلاڑیوں کا الگ پول ہونا چاہیے۔ مسئلہ نظام کی سمت کا نہیں، شفافیت اور نفاذ کی رفتار کا ہے۔
میری رائے
کنٹریکٹ کی فہرست کا اعلان "اندرونی معاملہ" کہہ کر چھپانا غلط پالیسی ہے۔ جب قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے کیریئر کا معاملہ ہو، تو شائقین کا جاننے کا حق بنتا ہے — اور کھلاڑیوں کا اپنے معاہدے کی شرائط پر مطمئن ہونا ٹیم کی کارکردگی سے جڑا ہے۔ پی سی بی کو چاہیے کہ فہرست کا اعلان کرے، کھلاڑیوں کے اعتراضات سنے، اور معاملہ حل کرے — ورنہ یہ خاموشی ایک اور تنازعے میں بدل جائے گی۔
مزید پڑھیں
تصویر 1: شاہین شاہ آفریدی — Wikimedia Commons، CC BY-SA 4.0 | تصویر 2: قذافی اسٹیڈیم لاہور — Wikimedia Commons، CC BY-SA 3.0
