
فائل فوٹو — بھارت کے ایشان کشن — Wikimedia Commons
تیاری ہو گئی: 3 اکتوبر کو پاکستان اور بھارت آمنے سامنے
کرکٹ کے مداحوں کا خواب سچ ہونے جا رہا ہے۔ ہفتے، 3 اکتوبر کو ایشین گیمز 2026 کے مینز کرکٹ ایونٹ کا گولڈ میڈل میچ پاکستان اور بھارت کے درمیان نشین کے کوروگی اسپورٹس پارک میں کھیلا جائے گا۔ میچ دوپہر 1:30 بجے جاپانی وقت (پاکستان میں صبح 9:30 بجے) شروع ہوگا۔
اس ٹورنامنٹ کے ڈرا کا اعلان ہوتے ہی یہ میچ سب کے ذہن میں تھا — بھارت اور پاکستان کو جان بوجھ کر ناک آؤٹ بریکٹ کے مخالف حصوں میں رکھا گیا تھا، تاکہ وہ صرف کسی میڈل میچ میں آمنے سامنے آ سکیں۔ اور دونوں ٹیموں نے اپنا اپنا کام کر دکھایا۔
پاکستان کا راستہ: بارش، سیڈنگ اور بنگلہ دیش کی شکست
پاکستان نے ٹورنامنٹ میں ابھی تک میدان میں اتر کر کوئی بھی میچ پورے اوورز میں نہیں کھیلا — لیکن اہم بات یہ ہے کہ جیتا ہے۔
- کوارٹر فائنل میں ہانگ کانگ کے خلاف میچ بارش کی نذر ہوا اور پاکستان نے بہتر سیڈنگ کی بنیاد پر سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔
- پہلے سیمی فائنل میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو 13 اوورز کے مختصر کھیل میں 6 وکٹوں سے شکست دی۔ بنگلہ دیش نے 111/7 بنائے — توحید ہردوئے کے 42 (25 گیند) کے علاوہ کوئی کھڑا نہ ہو سکا؛ سفیان مقیم نے 3/26 اور عرفات منہاس نے 2/23 کے ساتھ اسپن کی کمال دکھایا، جبکہ صائم ایوب نے صرف 2 اوورز میں 3 رنز دے کر ایک وکٹ لی۔
- ہدف کے تعاقب میں پاکستان 53/4 پر لڑکھڑایا، لیکن عبدالصمد (30*، 15 گیند) اور حسن نواز (27*، 22 گیند) کی 32 گیندوں پر 59 رنز کی ناٹ آؤٹ شراکت نے میچ 9 گیندیں باقی رکھتے ہوئے ختم کر دیا۔
پاکستان کے لیے یہ ایشین گیمز کی تاریخ کا پہلا مینز کرکٹ فائنل ہے — اس سے پہلے بہترین کارکردگی 2010 میں کانسی کا تمغہ تھا۔
بھارت کا راستہ: دفاعی چیمپئن کی دھمکی آمیز فارم
بھارت اس فائنل میں دفاعی چیمپئن کے طور پر اتر رہا ہے۔ ہانگژو 2023 میں بھارت نے افغانستان کو ہرا کر (بارش سے متاثرہ فائنل میں بہتر سیڈنگ کی بنیاد پر) سونے کا تمغہ جیتا تھا۔
- بھارت کا کوارٹر فائنل افغانستان کے خلاف بھی بارش کی نذر ہوا اور وہ بہتر سیڈنگ پر آگے بڑھا۔
- دوسرے سیمی فائنل میں بھارت نے سری لنکا کو 124 رنز سے روند دیا — یہ ٹورنامنٹ کی سب سے یکطرفہ جیت ہے۔
- ایشان کشن نے 46 گیندوں پر 80* کی دھماکے دار اننگز کھیلی، نوجوان وائبھو سوریاونشی نے 21 گیندوں پر 38 رنز بنائے — بھارت 169/7۔
- پھر جسپریت بمراہ، اکشر پٹیل اور ابھیشیک شرما نے دو دو وکٹیں لیں اور سری لنکا صرف 45 رنز پر ڈھیر ہو گیا۔
کشن اس سال زبردست فارم میں ہیں — اس اننگز کے ساتھ انہوں نے 2016 میں ویرات کوہلی کے سات پچاس پلس اسکورز کا ریکارڈ پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

فائل فوٹو — احمد آباد میں 2023 کرکٹ ورلڈ کپ میں بھارت بمقابلہ پاکستان میچ — Wikimedia Commons
ہیڈ ٹو ہیڈ: بھارت کا پلڑا بھاری
ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں دونوں ٹیمیں 17 بار آمنے سامنے آ چکی ہیں — بھارت نے 14 اور پاکستان نے 3 میچ جیتے۔ اس سے پہلے آخری مقابلہ فروری 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کولمبو میں ہوا تھا، جہاں بھارت 61 رنز سے جیتا تھا۔
لیکن ایشین گیمز کے میچوں کی اپنی کہانی ہوتی ہے — یہ دونوں ہی ٹیمیں اپنے سینئر کھلاڑیوں کے بغیر اتری ہیں۔ پاکستان کے صاحبزادہ فرحان اور بھارت کے شریاس ائیر کی قیادت میں نوجوان اسکواڈز کے درمیان یہ مقابلہ مکمل طور پر نئے مزاج کا ہے۔
3 اہم مقابلے جو فائنل کا رخ بدلیں گے
1۔ بمراہ بمقابلہ پاکستان کی ٹاپ آرڈر: سری لنکا کے خلاف پہلے ہی اوور میں دو وکٹیں لینے والے بمراہ اس وقت ٹورنامنٹ کے سب سے خطرناک گیندباز ہیں۔ پاکستان کے اوپنرز کو ان کے خلاف نئے گیند کو دیکھ کر کھیلنا ہوگا۔
2۔ اسپن کی جنگ: کوروگی کی پچ سست اور دراڑوں والی ہے — سیمی فائنل میں اسپنرز نے ہی فیصلہ کیا۔ پاکستان کے سفیان مقیم، ابرار احمد اور عرفات منہاس بمقابلہ بھارت کے اکشر پٹیل، واشنگٹن سندر اور روی بشنوئی — جو ٹیم اسپن کو بہتر کھیلے گی، وہ جیتے گی۔
3۔ کشن بمقابلہ مقیم: فارم میں موجود کشن اگر چل پڑے تو اکیلے میچ لے جا سکتے ہیں۔ سفیان مقیم نے بنگلہ دیش کے خلاف جو لائن اور لینتھ دکھائی، وہ بھارت کے بلے بازوں کے لیے بھی چیلنج ہو سکتی ہے۔
کانسی کے لیے بھی جنگ باقی
فائنل سے پہلے اسی دن بنگلہ دیش اور سری لنکا کے درمیان کانسی کے تمغے کا میچ بھی کھیلا جائے گا۔ بھارت اور پاکستان، دونوں کوارٹر فائنل بارش میں گنوانے کے بعد سیمی فائنل میں پہلی بار میدان میں اترے تھے — اب فائنل میں دونوں ٹیمیں پہلی بار پورے 20 اوورز کے کھیل کا مزہ لینے کی امید کر رہی ہیں۔
میرا تجزیہ: کاغذ پر بھارت مضبوط ہے — تجربہ کار گیندبازی، بہترین فارم، اور 14-3 کا ریکارڈ۔ لیکن پاکستان کی نوجوان ٹیم نے دباؤ میں دو بار جیتا ہے، اور اسپن دوستانہ پچ پاکستان کے باؤلرز کو حقیقی موقع دیتی ہے۔ پہلی اننگز کے 6 اوورز فیصلہ کن ہوں گے — اگر پاکستان نے بمراہ اور ارشدیپ کو بغیر نقصان کے دیکھ لیا تو سونا قریب ہے، ورنہ بھارت کا تجربہ بھاری پڑے گا۔
میچ بھارت میں سونی اسپورٹس نیٹ ورک اور سونی لِو پر براہ راست دیکھا جا سکے گا۔
