انگلینڈ کا 16 رکنی اسکواڈ: پاکستان ٹرائی سیریز کے لیے راشد اور کرن کی واپسی، 8 سال بعد میسن کرین

Sixer Zone Team
0
عادل راشد — پاکستان ٹرائی سیریز کے لیے انگلینڈ اسکواڈ میں واپس

عادل راشد — ہاتھ کی انجری سے صحت یاب ہو کر انگلینڈ کے 16 رکنی اسکواڈ میں واپس (تصویر: وکیمیڈیا کامنز، CC BY-SA 3.0)

آج کا دن پاکستان میں کرکٹ شائقین کے لیے ایک اور بڑی خبر لے کر آیا ہے۔ انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے پاکستان میں شیڈول سہ ملکی ون ڈے سیریز کے لیے 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ سیریز 18 سے 31 اکتوبر تک راولپنڈی اور لاہور میں کھیلی جائے گی جس میں پاکستان، انگلینڈ اور سری لنکا کی ٹیمیں آمنے سامنے آئیں گی۔ اس اعلان کی سب سے بڑی خاص بات یہ ہے کہ دو تجربہ کار ستارے واپس آئے ہیں جبکہ تین نئے چہروں کو پہلی بار ون ڈے اسکواڈ میں جگہ ملی ہے۔

مکمل 16 رکنی اسکواڈ

کپتان ہیری بروک کی قیادت میں اعلان شدہ اسکواڈ اس طرح ہے: ہیری بروک (کپتان)، گس اٹکنسن، سونی بیکر، ٹام بینٹن، جیمز کولز، جارڈن کاکس، میسن کرین، ہینری کروکمب، سیم کرن، لیام ڈاسن، بین ڈکٹ، ول جیکس، جیمی اوورٹن، عادل راشد، جو روٹ اور جوش ٹنگ۔ یہ اسکواڈ نہ صرف اس سیریز بلکہ 2027 کے کرکٹ ورلڈ کپ کی تیاریوں کا حصہ بھی سمجھا جا رہا ہے، اسی لیے انتخاب میں تجربے اور نئے خون کا دلچسپ امتزاج دیکھنے کو ملا ہے۔

راشد اور کرن کی واپسی — تجربہ لوٹ آیا

سب سے بڑی خبر لیگ اسپنر عادل راشد اور آل راؤنڈر سیم کرن کی واپسی ہے۔ راشد ہاتھ کی انجری سے نجات پا کر ٹیم میں واپس آئے ہیں جبکہ کرن کمر کی انجری سے صحت یاب ہو کر دوبارہ منتخب ہوئے ہیں۔ دونوں کے بغیر انگلینڈ کا باؤلنگ اٹیک حال ہی میں کھیلے گئے میچوں میں کمزور نظر آ رہا تھا، اس لیے ان کی واپسی پاکستانی بلے بازوں کے لیے کسی خوش خبری سے کم نہیں۔

آٹھ سال بعد میسن کرین کی واپسی — سب سے دلچسپ کہانی

اس اسکواڈ کی سب سے زیادہ زیر بحث کہانی 29 سالہ لیگ اسپنر میسن کرین کی ہے۔ کرین نے 2018 کی ایشز سیریز کے آخری ٹیسٹ میں سڈنی میں واحد ٹیسٹ کیپ حاصل کی تھی، اور صرف دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ بھی کھیلے تھے۔ تقریباً آٹھ سال بعد انہیں ون ڈے اسکواڈ میں پہلی بار منتخب کیا گیا ہے۔ ان کی واپسی کی وجہ ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی ہے — گلیمورگن کی جانب سے انہوں نے ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ میں 15 وکٹیں حاصل کیں اور بلے بازی میں بھی اپنے کیریئر کی پہلی دو سنچریاں اسکور کیں۔ انگلینڈ کے قومی سلیکٹر مارکس نارتھ نے کہا کہ میسن کرین نے پوری گرمیوں میں گلیمورگن کے لیے دونوں فارمیٹس میں مسلسل کارکردگی دکھائی ہے اور وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک اور موقع کے مکمل مستحق ہیں۔

میسن کرین — آٹھ سال بعد انگلینڈ اسکواڈ میں واپس آنے والے لیگ اسپنر

میسن کرین — سڈنی 2018 کے واحد ٹیسٹ کے بعد اب پہلی بار ون ڈے اسکواڈ میں (تصویر: وکیمیڈیا کامنز، CC BY 2.0)

دو نوجوان بھی ٹیم میں — مستقبل کی سرمایہ کاری

کرین کے علاوہ دو مزید کھلاڑیوں کو ون ڈے اسکواڈ میں پہلی بار جگہ ملی ہے۔ 22 سالہ جیمز کولز (سسیکس) ایک اسپن باؤلنگ آل راؤنڈر ہیں جبکہ 21 سالہ تیز باؤلر ہینری کروکمب (سسیکس) اس گرمیوں میں بین الاقوامی سیٹ اپ کے آس پاس موجود تھے۔ دونوں پہلے ہی سری لنکا کے خلاف ہوم وائٹ بال سیریز میں شامل کیے گئے تھے، اب انہیں پاکستان کے مشکل دورے پر موقع ملا ہے۔ انگلینڈ کی یہ حکمت عملی صاف ہے — نئے ٹیلنٹ کو دباؤ والی کنڈیشنز میں پرکھا جا رہا ہے۔

کون باہر ہوا؟ بٹلر کی غیر موجودگی کا خلا

اس اعلان کے ساتھ یہ بھی واضح ہو گیا کہ جوش بٹلر ہامسٹرنگ انجری کی وجہ سے اس دورے سے باہر رہیں گے — یہ خبر ہم نے چند دن پہلے ہی دی تھی جب سری لنکا کے خلاف دوسرے ون ڈے میں وہ میدان چھوڑ کر گئے تھے۔ ان کی غیر موجودگی میں جارڈن کاکس نے دی اوول میں فیصلہ کن میچ میں 52 گیندوں پر 76 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی، اس لیے وکٹ کیپنگ اور مڈل آرڈر کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہوگی۔ تیز باؤلر جوفرا آرچر کو ورک لوڈ مینجمنٹ کے تحت آرام دیا گیا ہے۔ حیران کن طور پر ریحان احمد اور ڈین لارنس، جو سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز میں اسکواڈ کا حصہ تھے، اس بار منتخب نہیں ہو سکے۔

شیڈول — پاکستان سے پہلی جنگ 20 اکتوبر کو

ٹرائی سیریز کا آغاز 18 اکتوبر کو پاکستان اور سری لنکا کے میچ سے راولپنڈی میں ہوگا۔ انگلینڈ کی مہم 20 اکتوبر کو پاکستان کے خلاف راولپنڈی میں شروع ہوگی۔ اس کے بعد 22 اکتوبر کو سری لنکا بمقابلہ انگلینڈ (راولپنڈی)، 25 اکتوبر کو پاکستان بمقابلہ انگلینڈ (لاہور)، 27 اکتوبر کو پاکستان بمقابلہ سری لنکا (لاہور)، 29 اکتوبر کو سری لنکا بمقابلہ انگلینڈ (لاہور) اور ٹاپ دو ٹیموں کے درمیان فائنل 31 اکتوبر کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔

پاکستان کے لیے تجزیہ — اسپن کی جنگ

اس اسکواڈ کو دیکھ کر ایک بات واضح ہے: انگلینڈ اسپن پر بھروسہ کر کے آ رہا ہے۔ راشد، کرین، لیام ڈاسن، جیمز کولز اور ول جیکس — پانچ اسپن آپشنز کے ساتھ انگلینڈ پاکستانی کنڈیشنز کا مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دی اوول میں سری لنکا کے خلاف 2-1 سیریز فتح کے بعد انگلینڈ کا حوصلہ بلند ہے، لیکن راولپنڈی اور لاہور کی وکٹیں لندن سے بالکل مختلف ہوں گی۔ پاکستان کے لیے اچھی خبر بٹلر کی غیر موجودگی ہے، تاہم راشد کی واپسی کا مطلب ہے کہ مڈل اوورز میں سخت امتحان ہوگا۔ کیا پاکستان اپنے ہوم گراؤنڈ پر انگلینڈ کی نئی نسل کو دباؤ میں لا سکے گا؟ جواب کے لیے 18 اکتوبر کا انتظار کریں۔

Post a Comment

0 Comments

Post a Comment (0)
3/related/default