پاکستان کے سینئر وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان جمعے کی سہ پہر لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دفتر میں پیش ہوئے، جہاں چار افسروں پر مشتمل ٹیم نے ساڑھے تین گھنٹے سے زائد ان سے پوچھ گچھ کی۔ تحقیقات کا مرکز وہی موبائل فون ہے جو 30-31 اگست کی رات انگلینڈ میں ٹیم کے ٹیسٹ دورے کے دوران ان سے ضبط کیا گیا تھا — اور اس پیشی کے ساتھ اس کیس کا ایک نیا باب کھل گیا ہے۔
ڈان کے مطابق نہ رضوان اور نہ ہی ایجنسی کا کوئی اہلکار دفتر سے باہر آ کر میڈیا کے سوالات کا جواب دینے کے لیے تیار تھا۔ کیمروں کے سامنے مسکراتے ہوئے رضوان کا ایک ہی جملہ سننے کو ملا: "اس معاملے میں میں بہرہ ہوں، ایجنسی کے اہلکاروں کا رویہ اچھا تھا۔ مجھے بھوک لگی ہے، تو مجھے جانے دیں۔" — اس کے بعد وہ وہاں سے روانہ ہو گئے۔
پیشی کے دوران کیا ہوا؟
- رضوان کو سیکشن 160 ضابطہ فوجداری کے تحت نوٹس پر جمعہ 2 اکتوبر کو سہ پہر 3 بجے لاہور میں پیش ہونے کو کہا گیا تھا۔
- پوچھ گچھ چار رکنی ٹیم نے کی — ایک ڈپٹی ڈائریکٹر اور تین انسپکٹرز — اور یہ سیشن ساڑھے 3 گھنٹے سے زائد جاری رہا۔
- ڈان کے ذرائع کے مطابق رضوان کو فورنزک کے لیے بلایا گیا تھا — مبینہ طور پر ان کی فیس ریکگنیشن کی گئی، جو ضبط شدہ فون کے روزانہ کے فرانزک تجزیے کے لیے ضروری ہے۔
- رضوان نے تفتیش پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور صحافیوں سے کہا کہ وہ اپنے سوالات این سی سی آئی اے سے کریں۔
- ابھی یہ واضح نہیں کہ ایجنسی نے ان کا فون واپس کیا یا نہیں، اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ انہیں دوبارہ بلایا جائے گا یا نہیں۔
الزامات کیا ہیں؟
این سی سی آئی اے یہ معاملہ پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کی متعلقہ دفعات کے تحت دیکھ رہی ہے۔ الزامات سنگین ہیں: انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران آن لائن بیٹنگ اور جوئے کے الزامات، اور ڈریسنگ روم سے ٹیم کی اہم معلومات کے لیک ہونے کا شبہ — پاکستان وہ سیریز 3-0 سے ہار گیا تھا۔
رضوان کا موقف پہلے دن سے یہی رہا ہے کہ انہوں نے فون کا پاس ورڈ دے دیا تھا اور حکام نے ان کی موجودگی میں ڈیوائس کا معائنہ کیا تھا۔
یہاں تک کیسے پہنچے؟ — پس منظر
- 30-31 اگست کی رات: انگلینڈ میں رضوان کا موبائل فون ضبط کیا گیا۔
- 10 ستمبر: رضوان اور امام الحق دونوں این سی سی آئی اے لاہور میں پیش ہوئے اور کئی گھنٹے پوچھ گچھ ہوئی۔
- 17 ستمبر: رضوان نے لاہور ہائی کورٹ میں تحقیقات کو چیلنج کیا — چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست ابتدائی مرحلے میں ہی خارج کر دی اور رضوان کو تحقیقات میں تعاون کی ہدایت کی، ساتھ ہی ایجنسی کو ہراسانی سے روک دیا۔
- 29 ستمبر: رضوان نے ایجنسی کو خط لکھ کر فون کی واپسی اور تحقیقات کی تحریری وضاحت کا مطالبہ کیا۔
- 30 ستمبر: این سی سی آئی اے نے دوسرا نوٹس جاری کیا — جمعہ 2 اکتوبر کو ذاتی پیشی کا حکم، ساتھ تنبیہ کہ غیر حاضری کو "دفاع میں پیش کرنے کے لیے کچھ نہ ہونے" کے مترادف سمجھا جائے گا۔ رضوان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہوئے۔
یہ پیشی کیوں اہم ہے؟
اس پیشی کی اہمیت اس میں نہیں کہ نیا الزام لگا — اہمیت اس میں ہے کہ ڈیڈ لاک ٹوٹا۔ ہفتوں سے خبریں تھیں کہ رضوان تفتیش میں تعاون نہیں کر رہے — ایجنسی کا کہنا تھا کہ انہیں بار بار رابطہ کرنے کے باوجود مثبت جواب نہیں ملا، جبکہ رضوان کا کیمپ کہتا تھا کہ انہوں نے تعاون کیا اور فون تک رسائی دی۔ جمعے کی ساڑھے 3 گھنٹے کی پیشی نے اس بحث کو ختم کر دیا: اب فون کا فرانزک تجزیہ باقاعدہ طور پر آگے بڑھ سکتا ہے۔
دوسری اہم بات: پی سی بی نے اسی معاملے پر اپنی اندرونی ڈسپلنری تحقیقات الگ سے شروع کر رکھی ہے۔ یعنی رضوان اب دو محاذوں پر بیک وقت ہیں — ایک قانونی (این سی سی آئی اے) اور ایک کرکٹ بورڈ کا۔ اور یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب ایشین گیمز میں پاکستان کی ٹیم گولڈ کے فائنل کی دوڑ میں ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
- فرانزک رپورٹ آئے گی — یہی وہ مرحلہ ہے جو فیصلہ کرے گا کہ الزامات میں وزن ہے یا نہیں۔
- ایجنسی کو ابھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ رضوان کو دوبارہ بلایا جائے گا یا نہیں — ابھی تک اس بارے میں کوئی معلومات نہیں۔
- فون کی واپسی کا مطالبہ ابھی زندہ ہے؛ ایجنسی نے وعدہ کیا تھا کہ فون 3 گھنٹے میں واپس کرے گی، لیکن وہ کبھی واپس نہیں کیا گیا۔
اس کیس کا نتیجہ جو بھی نکلے، ایک بات طے ہے: پاکستان کرکٹ کے لیے یہ ایک انتہائی نازک موڑ ہے — اور اگلی بڑی خبر فرانزک رپورٹ کے ساتھ آئے گی۔ ہم اس کیس کی ہر نئی ڈیولپمنٹ آپ تک پہنچاتے رہیں گے۔
