![]()
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم — یہیں سے پاکستان کے اگلے 25 ہوم میچز ٹی وی پر دکھائے جائیں گے۔ تصویر: Wikimedia Commons (CC BY-SA 4.0)
پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک بڑا مالی دھچکا لگا ہے: ہوم میچز کے براڈکاسٹ رائٹس جس قیمت پر فروخت ہوئے ہیں، وہ پی سی بی کی اپنی توقع سے تقریباً آدھے ہیں۔ اور اس سے بھی بڑا دھچکا یہ کہ بولی میں صرف ایک ہی کمپنی نے حصہ لیا — سرکاری ٹی وی پی ٹی وی۔ نجی براڈکاسٹرز نے پی سی بی کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ یہ خبر صرف ایک تجارتی معاہدہ نہیں، پاکستان کرکٹ کی گرتی ہوئی کمرشل قیمت کی ایک واضح تصویر ہے۔
سودا کیا ہوا؟ — اصل اعداد و شمار
دی ایکسپریس ٹریبیون (3 اکتوبر 2026) کی رپورٹ کے مطابق:
- فروخت شدہ قیمت: 35 کروڑ روپے
- ریزرو پرائس: 60 کروڑ روپے — یعنی بورڈ کو اپنی مقررہ قیمت سے 25 کروڑ روپے کم ملیں
- واحد بولی دہندہ: پی ٹی وی — کوئی اور براڈکاسٹر بولی لگانے نہیں آیا
- کل میچز: 25 بین الاقوامی میچز — 5 ٹیسٹ، 14 ون ڈے اور 6 ٹی ٹوئنٹی
![]()
قذافی اسٹیڈیم لاہور — سہ رخی سیریز کا فائنل یہیں کھیلا جائے گا۔ تصویر: Wikimedia Commons
ان 25 میچز میں کیا کیا شامل ہے؟
یہ پیکج صرف ایک سیریز کا نہیں، بلکہ پاکستان کے آئندہ ہوم سیزن کا مکمل خاکہ ہے:
- اکتوبر 2026: سری لنکا کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی (مکمل پیش نظارہ یہاں پڑھیں) — پھر انگلینڈ کے ساتھ سہ رخی ون ڈے سیریز
- نومبر 2026: سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچز
- جنوری 2027: آئرلینڈ کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی، پھر زمبابوے کے ساتھ سہ رخی ون ڈے سیریز
- فروری–مارچ 2027: آئرلینڈ کے خلاف ایک ٹیسٹ اور نیوزی لینڈ کے خلاف دو ٹیسٹ میچز
بڑے براڈکاسٹر کیوں نہیں آئے؟ — اصل وجوہات
ٹریبیون کی رپورٹ میں کئی چونکا دینے والی وجوہات سامنے آئی ہیں:
- واجب الادا رقم: تین بڑے براڈکاسٹرز کے ذمے پی سی بی کے کروڑوں روپے واجب الادا ہیں۔ انہیں بولی سے روکا تو نہیں گیا، لیکن وہ خود شریک نہ ہوئے۔
- پرانے حقوق دار کی بے رخی: جس کمپنی کے پاس ماضی میں پاکستان کرکٹ کے بیشتر رائٹس تھے، اس نے بھی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔
- ٹیم کی خراب کارکردگی: قومی ٹیم کی حالیہ ناقص کارکردگی اور آئرلینڈ و سری لنکا جیسے میچز میں عوامی دلچسپی کی کمی کو بھی وجہ بتایا گیا۔
- کنسورشیم پر پابندی: پی سی بی نے اس بار کمپنیوں کو مل کر بولی لگانے (کنسورشیم) کی اجازت نہیں دی — جیسا کہ پی ایس ایل میں پہلے کیا گیا تھا۔
تجزیہ: یہ صرف 25 کروڑ کا نقصان نہیں
یہ خبر اصل میں پاکستان کرکٹ کی مارکیٹ ویلیو پر ایک سوال ہے۔ جب کوئی نجی براڈکاسٹر بولی لگانے ہی نہ آئے، تو اس کا مطلب ہے کہ مارکیٹ کو ان میچز سے اشتہاری آمدنی کی توقع کم ہے۔ بھارتی میڈیا کے دعوے کے مطابق پاکستان کے پورے 25 میچز کے پیکج کی قیمت بھارت کے ایک میچ کے مقابلے میں کہیں کم ہے — یہ فرق صرف رقم کا نہیں، دونوں کرکٹ مارکیٹوں کے اعتماد کا فرق ہے۔
دوسری طرف، پی ٹی وی کا واحد بولی دہندہ ہونا ایک طرح سے بورڈ کے لیے حفاظتی جال بھی ہے — سرکاری ادارے نے کم از کم میچز ٹی وی سے باہر ہونے سے بچا لیے۔ ورنہ ریزرو پرائس سے بھی کم بولی نہ آنے پر ٹینڈر ہی منسوخ ہو سکتا تھا۔
اصل امتحان اب میدان میں ہوگا: اگر راولپنڈی میں سخت سیکیورٹی کے سائے میں ہونے والی سری لنکا سیریز میں پاکستان اچھا کھیلتا ہے، تو اگلے ٹینڈر میں براڈکاسٹر واپس آئیں گے۔ جیت ہی سب سے بڑی مارکیٹنگ ہے — اور اس وقت پاکستان کرکٹ کو اسی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
