فائل فوٹو: بابر اعظم — Wikimedia Commons (CC BY 3.0، تصویر: ICNA)
دبئی سے ایک ایسی آواز اٹھی ہے جو بابر اعظم کے مداحوں کے دلوں کو چھوئے گی — اور پاکستان کرکٹ کے ناقدین کو سوچنے پر مجبور کرے گی۔ سابق فاسٹ بولر سہیل تنویر نے ANI سے گفتگو میں بابر اعظم کی کھل کر حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ بابر پر "توقعات کا غیر معمولی بوجھ" ڈالا گیا ہے — کیونکہ اس ٹیم میں ان کے ہم پلہ کوئی دوسرا بلے باز موجود ہی نہیں۔
یہ محض ایک سابق کھلاڑی کی ہمدردی نہیں ہے۔ یہ پاکستان کرکٹ کی سب سے تلخ حقیقت کی تشخیص ہے: ایک عالمی معیار کا بلے باز، اور اس کے گرد ایک ایسی ٹیم جس میں ناکامی کی صورت میں سنبھالنے والا کوئی دوسرا کندھا نہیں۔ جب بابر چلتا ہے تو پاکستان جیتتا ہے، اور جب وہ ناکام ہوتا ہے تو تنقید بھی ذاتی ہو جاتی ہے — جبکہ نوجوان کھلاڑیوں کی ناکامی کو "سیکھنے کا عمل" کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
تنویر کا بنیادی نکتہ: "ٹیم میں ان جیسا کوئی دوسرا نہیں"
سہیل تنویر نے صاف الفاظ میں کہا کہ بابر اعظم اس ٹیم میں "اس خاص معیار کا واحد کھلاڑی" ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں باصلاحیت نوجوان بلے باز ضرور موجود ہیں، لیکن انہوں نے ابھی تک مستقل مزاجی سے اپنی دھاک نہیں بٹھائی۔ نتیجہ یہ ہے کہ پوری قوم کی توقعات براہِ راست بابر کے کندھوں پر آ گرتی ہیں — اور جب آپ کی اپنی فارم ڈگمگا رہی ہو تو اس بھاری بوجھ کو اٹھانا غیر معمولی طور پر مشکل ہو جاتا ہے۔
تنویر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بابر کی حالیہ مشکلات حقیقی ہیں — انہوں نے سات سال بعد فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی کی اور صرف 12 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے، جس کی تفصیل یہاں پڑھیں — لیکن ان کا استدلال یہ ہے کہ مسئلہ صرف بابر کی فارم نہیں، بلکہ وہ تنہائی ہے جس میں وہ لڑ رہا ہے۔
فائل فوٹو: سہیل تنویر متحدہ عرب امارات میں — Wikimedia Commons (CC BY-SA 4.0، تصویر: Sophmaroc)
کوہلی سے موازنہ — فرق صرف فارم کا نہیں، "سپورٹنگ کاسٹ" کا ہے
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ تنویر نے بابر کا موازنہ ویرات کوہلی سے کیا — اور موازنہ بابر کے حق میں نہیں، بلکہ اس کے گرد موجود ٹیم کے حق میں کیا۔ تنویر کے مطابق کوہلی نے بھی تقریباً ڈیڑھ سال تک فارم کا مشکل دور دیکھا، اور "ہر عالمی معیار کا کرکٹر اس امتحان سے گزرتا ہے"۔ لیکن اہم فرق یہ تھا کہ کوہلی کے مشکل دور میں ان کے ارد گرد روہت شرما، شبمن گل اور کے ایل راہل جیسے قائم شدہ بلے باز موجود تھے جو ذمہ داری بانٹتے تھے۔ بابر کے معاملے میں ایسا کوئی سہارا نہیں — وہ اکیلا کھڑا ہے۔
یہ نکتہ دراصل پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کی ساخت پر ایک گہرا سوال اٹھاتا ہے۔ کیا ہم نے بابر کے علاوہ کسی دوسرے بلے باز کو اس مقام تک پہنچنے کا ماحول ہی نہیں دیا؟ جب ہر اننگز میں پوری ٹیم کی قسمت ایک ہی کھلاڑی سے جوڑ دی جائے تو دباؤ تو ہوگا — اور دباؤ میں بڑے سے بڑا کھلاڑی بھی ٹوٹ سکتا ہے۔
اعداد و شمار کی کہانی — تنویر کی بات کیوں وزنی ہے
تنویر کی حمایت کو محض جذبات نہ سمجھیں — اعداد و شمار ان کی بات کی تصدیق کرتے ہیں:
- 83 اننگز کا سنچری کا قحط — بابر نے نومبر 2025 میں سری لنکا کے خلاف ون ڈے میں ناٹ آؤٹ 102 رنز بنا کر تمام فارمیٹس میں سنچریوں کا 83 اننگز طویل خشک دور ختم کیا تھا۔ وہی اننگز آج تک ان کی آخری انٹرنیشنل سنچری ہے۔
- ٹیسٹ سنچری کو ساڑھے تین سال سے زائد — ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی آخری سنچری دسمبر 2022 میں نیوزی لینڈ کے خلاف 161 رنز تھی۔ تب سے اب تک کوئی ٹیسٹ سنچری نہیں۔
- انگلینڈ میں بے نقاب کمزوریاں — انگلینڈ کے ہاتھوں 0-3 کی ٹیسٹ شکست میں تیز گیندبازی اور شارٹ پچ گیندوں کے خلاف ان کی کمزوریاں لارڈز اور ایجبسٹن جیسے میدانوں پر کھل کر سامنے آئیں۔
یہ اعداد بتاتے ہیں کہ بابر واقعی ایک طویل مشکل دور سے گزر رہا ہے — لیکن یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس دور میں اس کے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہیں تھا۔
"مجھے یقین ہے بابر واپس آئے گا"
تنقید کے ساتھ ساتھ تنویر نے امید کا پیغام بھی دیا۔ ان کے الفاظ میں بابر "اعلیٰ معیار کا کرکٹر" ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ واپس آئے گا — کیونکہ بابر کا رنز بنانا پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بابر کے ارد گرد تین چار اور بلے باز بھی اسی معیار تک پہنچ جائیں تو اس کے لیے سب کچھ کہیں آسان ہو جائے گا۔
اور بابر کے پاس جواب دینے کا موقع بھی قریب ہے — وہ سات سال بعد فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی کے بعد اب 18 سے 31 اکتوبر تک ہونے والی ون ڈے ٹرائی سیریز (سری لنکا اور انگلینڈ کے خلاف، کپتان شاہین آفریدی) کے اسکواڈ میں شامل ہیں۔ یہی وہ اسٹیج ہے جہاں بابر بلے سے جواب دے سکتا ہے — اور تنویر کی پیشگوئی کو سچ ثابت کر سکتا ہے۔
فاسٹ بولنگ پر بھی تنویر کی کھری نصیحت
بابر کے معاملے کے ساتھ ساتھ سہیل تنویر نے پاکستان کی فاسٹ بولنگ کے زوال پر بھی کھل کر بات کی — اور ان کی تشخیص بھی اتنی ہی کھری ہے۔ ان کے مطابق اس زوال کی سب سے بڑی وجہ ریڈ بال کرکٹ کی کمی ہے۔ کھلاڑی ریڈ بال کرکٹ کو وہ ترجیح نہیں دے رہے جو اس کا حق ہے، جبکہ "حقیقی اور مکمل فاسٹ بولر" بننے کے لیے ریڈ بال میں لمبے اسپیل کرنا ناگزیر ہیں۔
تنویر نے اپنی مثال دی: کیریئر کے درمیانی اور آخری دور میں جب انہیں "وائٹ بال اسپیشلسٹ" کا لیبل لگا دیا گیا تھا، تب بھی وہ موقع ملتے ہی ڈومیسٹک ریڈ بال کرکٹ کھیلنے جاتے تھے۔ ان کے مطابق 2007 میں انٹرنیشنل ڈیبیو سے لے کر کیریئر کے اختتام تک ان کی بولنگ میں زمین آسمان کا فرق آیا — اور یہ سارا فرق فرسٹ کلاس کرکٹ میں اوورز کرنے سے آیا۔ ان کا پیغام واضح ہے: اگر موجودہ فاسٹ بولر دل سے ریڈ بال کرکٹ کی طرف لوٹ آئیں تو یہی بولر اپنا کھیل بلند کر سکتے ہیں۔
تو سوال اب آپ سے: کیا سہیل تنویر درست کہہ رہے ہیں — کیا بابر اعظم واقعی تنہا لڑ رہا ہے اور اسے ٹیم کی ناکامیوں کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے؟ یا نوجوان بلے بازوں کو مزید موقع اور وقت ملنا چاہیے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
