اجیت آگرکار کا بطور چیف سلیکٹر دور ختم — تین آئی سی سی ٹرافیاں جتوانے کے بعد گمبھیر کا جذباتی الوداعی پیغام

Sixer Zone Team
0

اجیت آگرکار کا بطور چیف سلیکٹر دور ختم — تین آئی سی سی ٹرافیاں جتوانے کے بعد گمبھیر کا جذباتی الوداعی پیغام

اجیت آگرکار — بھارتی ٹیم کے سابق چیف سلیکٹر

بھارتی کرکٹ میں بڑی تبدیلی کی خبر آ گئی ہے۔ تین سال سے بھارتی کرکٹ کے سب سے طاقتور کرسی — چیف سلیکٹر کی کرسی — پر بیٹھے اجیت آگرکار کا دور باضابطہ طور پر ختم ہو گیا ہے۔ اور جو پیغام بھارتی ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے ان کے نام لکھا، وہ کسی عام الوداعی پیغام جیسا نہیں تھا۔

"Dear Ajit Bhai, an absolute honour to work with you. Those 3 ICC trophies are testimony of your conviction: Team first & Team ahead, always.. I must say, History will be kinder to you." یعنی — "آپ کے ساتھ کام کرنا میرے لیے اعزاز تھا۔ یہ تین آئی سی سی ٹرافیاں آپ کے عزم کی گواہ ہیں: ٹیم پہلے، ٹیم ہمیشہ آگے۔ مجھے کہنا پڑے گا کہ تاریخ آپ سے نرمی برتے گی۔" یہ وہ الفاظ ہیں جو ایک کوچ اس سلیکٹر کے لیے کہتا ہے جس نے اس کے ساتھ مل کر ایک عہدِ زریں لکھا ہو۔

ایک دور کا اختتام — حقائق کیا ہیں؟

اجیت آگرکار نے جولائی 2023 میں سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تھا۔ ان کا دورانیہ 4 اکتوبر کو مکمل ہوا، اور انہوں نے ستمبر میں بی سی سی آئی کو بتا دیا تھا کہ وہ توسیع نہیں چاہتے۔ اب بی سی سی آئی نے باضابطہ طور پر درخواستوں کا اعلان کر دیا ہے — مغربی زون کی سلیکٹر نشست کے لیے اہلیت: کم از کم سات ٹیسٹ یا تیس فرسٹ کلاس میچز، یا دس ون ڈے اور بیس فرسٹ کلاس میچز، اور ریٹائرمنٹ کو کم از کم پانچ سال گزر چکے ہوں۔ درخواستوں کی آخری تاریخ 14 اکتوبر ہے۔

عبوری طور پر چیئرمین کی ذمہ داری پرگیان اوجھا نے سنبھالی ہے — وہی اوجھا جو سچن ٹنڈولکر کے الوداعی ٹیسٹ میں میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اوجھا نے ہی اس میٹنگ کی صدارت کی تھی جس میں نیوزی لینڈ کے دورے کے لیے ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ منتخب ہوا — اور وہی اسکواڈ جس میں بھونیشور کمار کی حیران کن واپسی ہوئی۔ سلیکشن پینل میں اس وقت شیو سندر داس، اجے راترا اور آر پی سنگھ بھی شامل ہیں، جبکہ پارٹھِو پٹیل کا نام بھی سامنے آ رہا ہے۔

بھارتی ٹیم کے سلیکٹرز — کرکٹ حکمت عملی کا فیصلہ کن لمحہ

تین ٹرافیاں، ایک سنہرا دور

آگرکار کے دور کی گنتی کرکٹ کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ ان کے تین سالوں میں بھارت:

  • 2023 ون ڈے ورلڈ کپ کا فائنل — گھر کے میدان پر آخری چار تک پہنچنا
  • 2024 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ — چیمپئن
  • 2025 کی چیمپئنز ٹرافی — چیمپئن
  • 2026 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ — چیمپئن

تین آئی سی سی ٹرافیاں تین سال میں — یہ وہ ریکارڈ ہے جو گمبھیر کے پیغام کی ہر سطر کو سچ ثابت کرتا ہے۔ لیکن اس دور کی اصل کہانی صرف ٹرافیوں میں نہیں، ان مشکل فیصلوں میں ہے جو آگرکار نے کیے۔

وہ مشکل فیصلے جن پر بحث اب بھی جاری ہے

آگرکار کا دور صرف کامیابیوں کا نہیں، متنازع فیصلوں کا بھی دور تھا۔ 2024 میں انہوں نے سوریا کمار یادو کو ہاردک پانڈیا پر ترجیح دے کر ٹی ٹوئنٹی کپتانی سونپی — وہی سوریا کمار جن کے موجودہ مشکل دور پر ہم نے حال ہی میں تفصیل سے لکھا تھا۔ رنکو سنگھ کو 2024 ورلڈ کپ اسکواڈ سے باہر کرنا، ایشان کشن اور شریاس ائیر کو سینٹرل کنٹریکٹ سے ہٹانا، چیمپئنز ٹرافی سے محمد سراج کو باہر رکھنا، اور محمد شامی کی واپسی سے بار بار انکار — ہر فیصلے پر میڈیا اور مداحوں میں طوفان اٹھا۔

اور سب سے بڑا ستم ظریفی کا موڑ: خود آگرکار بھونیشور کمار کی واپسی کے حق میں نہیں تھے — اور بھونیشور کی ٹیم انڈیا میں واپسی کا اعلان ان کے جانے کے فوراً بعد ہوا۔ یہ وہ چھوٹی چھوٹی تفصیلات ہیں جو کرکٹ کی کہانیوں کو دلچسپ بناتی ہیں۔

اب آگے کیا؟ — 2027 ورلڈ کپ کی بنیاد

اصل تجزیہ یہ ہے کہ آگرکار کی رخصت کا ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ 2027 کا ون ڈے ورلڈ کپ قریب آ رہا ہے، اور نیا چیف سلیکٹر ہی اس ورلڈ کپ کے اسکواڈ کی بنیاد رکھے گا۔ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے یہ موقع ہے، اور سینئر ستاروں کے لیے امتحان۔ روہت شرما کا مستقبل، جسپریت بمراہ کا ورک لوڈ مینجمنٹ، اور کنارے پر کھڑے کھلاڑیوں کی قسمت — اب سب کچھ نئے سلیکٹر کے ہاتھ میں ہو گا۔

پرگیان اوجھا اگر سینیارٹی کی بنیاد پر مستقل چیئرمین بن گئے تو پینل میں 24 ٹیسٹ کا تجربہ میز پر آئے گا — لیکن اگر بی سی سی آئی کسی بڑے نام کو لائی تو سمت بالکل بدل سکتی ہے۔ بھارتی کرکٹ کے لیے یہ وہ لمحہ ہے جو اگلے تین چار سال کی تقدیر لکھے گا۔

اور پاکستان کے مداحوں کے لیے بھی یہ خبر نظرانداز کرنے والی نہیں — بھارتی ویمن کرکٹ میں قیادت کی تبدیلی کے بعد اب مردوں کی سلیکشن کمیٹی میں بھی نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں بھارتی اسکواڈز میں جو تبدیلیاں آئیں گی، ان کا اثر ایشیا کپ سے لے کر 2027 ورلڈ کپ تک ہر مقابلے پر پڑے گا۔

آپ کی رائے کیا ہے — کیا اجیت آگرکار کو توسیع ملنی چاہیے تھی، یا نئے خون کا آنا بہتر فیصلہ ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

Post a Comment

0 Comments

Post a Comment (0)
3/related/default