
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم — کل یہیں سیریز کا فیصلہ ہو سکتا ہے (تصویر: Neweditorpk، Wikimedia Commons — CC BY-SA 4.0)
کل رات راولپنڈی میں پاکستان نے سری لنکا کو 4 وکٹوں سے ہرا کر سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی، اور اب میرے خیال میں کل کا دن اس سیریز کا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔ پاکستان کے پاس موقع ہے کہ تین میچوں کی سیریز ایک میچ پہلے ہی اپنے نام کر لے — اور سری لنکا کے پاس یہ آخری موقع ہے کہ وہ سیریز میں واپس آئے۔ میں نے دونوں ٹیموں کی پوزیشن غور سے دیکھی ہے، اور سچ یہ ہے کہ یہ میچ پہلے میچ سے کہیں زیادہ دلچسپ ہونے والا ہے۔
میچ کی بنیادی معلومات
- میچ: پاکستان بمقابلہ سری لنکا، دوسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل
- تاریخ: اتوار، 11 اکتوبر 2026
- مقام: راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم
- وقت: شام 6 بجے (پاکستان وقت)
- سیریز کی صورتحال: پاکستان 1-0 سے آگے؛ تیسرا میچ 13 اکتوبر کو
پہلے میچ سے ہمیں کیا ملا؟
پہلے ٹی ٹوئنٹی میں سری لنکا نے 20 اوورز میں 182/8 بنائے، اور پاکستان نے 18.5 اوورز میں 187/6 بنا کر ہدف پورا کر لیا۔ کپتان صاحبزادہ فرحان نے 89 رنز کی شاندار اننگز کھیلی — اور میرے لیے یہ سیریز کا اب تک کا سب سے خوش آئند منظر تھا۔ نئے کپتان کی پہلی جیت، اور وہ بھی اپنی بلے بازی کے بل پر۔
لیکن میں یہاں ایک بات ایمانداری سے کہوں گا: جیت کے باوجود پاکستان کی اننگز بالکل صاف نہیں تھی۔ 6 وکٹیں گریں اور آخری اوورز میں دباؤ محسوس ہوا۔ اگر سری لنکا کے گیند باز تھوڑا بہتر لائن پر ہوتے تو یہ کہانی مختلف بھی ہو سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ کل کا میچ میرے لیے "آرام دہ جیت" والا میچ نہیں لگ رہا — یہ سیریز کا اصل ٹیسٹ ہوگا۔
پاکستان — نئے امتزاج کا پہلا بڑا امتحان
یاد رکھیں، یہ پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا ایک نیا دور ہے۔ بابر اعظم نہیں ہیں، شاہین شاہ آفریدی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں نہیں ہیں، سلمان آغا کو قیادت سے ہٹایا گیا اور محمد رضوان بھی باہر ہیں۔ فرحان نے سیریز سے پہلے کہا تھا کہ وہ پراعتماد ہیں کہ "یہ نیا امتزاج بہترین ہے اور اس سیریز میں جم جائے گا" — پہلے میچ نے ان کے الفاظ کی تائید کی، لیکن سیریز جیتنا ہی اس نئے منصوبے کی اصل کسوٹی ہوگا۔
پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس وقت ان کا بے خوف ٹاپ آرڈر ہے۔ فرحان، فخر زمان، صائم ایوب، حسن نواز — یہ سب گیند پر چڑھ دوڑنے والے کھلاڑی ہیں۔ اور نوجوان مڈل آرڈر میں معاذ صداقت اور خواجہ نافع جیسے نام ہیں جنہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ سلیکٹرز واقعی 2028 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
البتہ ایک کمزوری مجھے صاف نظر آ رہی ہے: ڈیتھ اوورز کی بولنگ۔ نسیم شاہ اور سلمان مرزا کے ساتھ شاداب خان اور ابرار احمد کی اسپن — کاغذ پر یہ اٹیک اچھا لگتا ہے، مگر پہلے میچ میں سری لنکا کے 182 رنز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آخری اوورز میں رنز روکنا اب بھی مسئلہ ہے۔ کل اسی نکتے پر میچ جیتا یا ہارا جا سکتا ہے۔

فائل فوٹو — پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم (Wikimedia Commons — CC BY-SA 4.0)
سری لنکا — کوسل مینڈس کے لیے جیت لازمی
سری لنکا کے نئے کپتان کوسل مینڈس کے لیے یہ میچ ذاتی اور ٹیم دونوں سطح پر اہم ہے۔ وہ نہ صرف ٹی ٹوئنٹی کے کپتان ہیں بلکہ حال ہی میں ٹیسٹ قیادت بھی سنبھال چکے ہیں — دھننجے ڈی سلوا کے استعفے کے بعد۔ ایک نئے کپتان کے لیے سیریز کے آغاز میں ہی 0-2 سے پیچھے ہونا بہت بھاری پڑتا ہے، اس لیے کل سری لنکا پوری طاقت سے اترے گا۔
سری لنکا کی سب سے بڑی کمی وانندو ہسرنگا کی غیر موجودگی ہے — وہ انجری کی وجہ سے باہر ہیں، اور 101 میچوں میں 163 وکٹیں لینے والا لیگ اسپنر کسی بھی ٹیم کے لیے ناقابلِ تلافی ہوتا ہے۔ ان کی جگہ وجےکانتھ ویاسکانتھ کو لایا گیا ہے۔ دوسری طرف، دشنتھا چمیرا محض ایک وکٹ کی دوری پر ہیں 100 ٹی ٹوئنٹی وکٹوں سے — کل وہ تاریخ رقم کر سکتے ہیں۔
اور ایک تاریخی یاد دہانی: 2019 میں سری لنکا نے پاکستان کو اسی کے گھر میں 3-0 سے وائٹ واش کیا تھا — پاکستان کی واحد ہوم ٹی ٹوئنٹی سیریز وائٹ واش۔ سری لنکن کھلاڑیوں کو یہ یاد ہوگا، اور کل وہ اسی جذبے کے ساتھ کھیلیں گے۔
کل کیا دیکھنا ہے — میرے تین اہم نکات
- فرحان کی قیادت کا دوسرا ٹیسٹ: پہلے میچ میں انہوں نے بلے سے جواب دیا؛ کل دیکھنا ہے کہ مشکل صورتحال میں ان کے فیصلے کیسے ہوتے ہیں، خاص طور پر بولنگ تبدیلیوں میں۔
- سری لنکا کا پاور پلے: پہلے میچ میں سری لنکا نے اچھا ٹوٹل بنایا تھا۔ اگر ان کے اوپنرز کل بھی تیز آغاز دیں تو پاکستان پر دباؤ آئے گا۔
- پاکستان کی ڈیتھ بولنگ: جیسا میں نے کہا، آخری 5 اوورز میں رنز روکنا پاکستان کی سب سے بڑی آزمائش ہوگی۔
میری پیشین گوئی
میں ایمانداری سے کہوں تو میرا دل کہتا ہے کہ پاکستان کل سیریز اپنے نام کر لے گا۔ وجہ؟ راولپنڈی کی کنڈیشنز، گھر کا ہجوم، اور وہ اعتماد جو پہلی جیت نے نئے کپتان اور نوجوان کھلاڑیوں کو دیا ہے۔ لیکن میں سری لنکا کو ہلکا نہیں لے رہا — کوسل مینڈس، داسن شاناکا اور چمیرا جیسے کھلاڑی ایک میچ میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ اگر پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کی اور سری لنکا کو 170 سے نیچے روک لیا تو میچ ہمارا ہے۔ لیکن اگر سری لنکا 190 کے پار چلا گیا تو پھر آخری اوور تک سانس رکی رہے گی۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
پاکستان بمقابلہ سری لنکا دوسرا ٹی ٹوئنٹی کب اور کہاں ہے؟
اتوار 11 اکتوبر 2026 کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں، شام 6 بجے پاکستان وقت کے مطابق۔
سیریز میں اب تک کیا صورتحال ہے؟
پاکستان پہلا میچ 4 وکٹوں سے جیت کر سیریز میں 1-0 سے آگے ہے۔ کل جیت پر سیریز پاکستان کے نام ہو جائے گی۔
پہلے میچ میں نمایاں کھلاڑی کون تھا؟
پاکستان کے کپتان صاحبزادہ فرحان نے 89 رنز کی اننگز کھیلی اور ٹیم کو فتح دلائی۔
اس سیریز کے بعد کیا ہے؟
ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ کے درمیان ون ڈے ٹرائی سیریز 18 سے 31 اکتوبر تک ہوگی — پہلے میچ راولپنڈی میں، پھر لاہور میں، فائنل قذافی اسٹیڈیم میں۔
مزید پڑھیں
- فرحان کا شاندار آغاز — پاکستان کی 4 وکٹ سے فتح، پہلے ٹی ٹوئنٹی کی مکمل رپورٹ
- داسون شاناکا — سری لنکا کا سب سے بڑا ہتھیار، پاکستان کو کس سے خطرہ؟
- پاکستان بمقابلہ سری لنکا — ٹی ٹوئنٹی تاریخ کی 5 یادگار جنگیں
تو کل شام 6 بجے ٹی وی کے سامنے بیٹھ جائیے — میرے خیال میں یہ سیریز کا سب سے سنسنی خیز میچ ہونے والا ہے۔ آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا پاکستان کل ہی سیریز جیت لے گا، یا سری لنکا واپسی کرے گا؟ کمنٹس میں ضرور بتائیے گا۔
