
فائل فوٹو: نائٹ کرکٹ اسٹیڈیم — چین میں آئی سی سی سینٹر آف ایکسیلنس جیسی سہولت بنانے کا اعلان (Wikimedia Commons — CC BY-SA)
آئی سی سی کا چین پر بڑا داؤ — یہ محض ایک بیان نہیں
میں نے جب یہ خبر پڑھی تو پہلا خیال یہی آیا کہ چین اور کرکٹ؟ یہ تو وہی پرانی کہانی لگتی ہے جو ہر چند سال بعد سننے کو ملتی ہے۔ لیکن پھر تفصیل پڑھی تو معاملہ مختلف نکلا۔ اس بار اعلان کسی ثالث نے نہیں، خود آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو سنجوگ گپتا نے کیا ہے، اور بات محض "دلچسپی" تک محدود نہیں — بات ہو رہی ہے سینٹر آف ایکسیلنس کی، بین الاقوامی ایونٹ کی، اور چین کے نیشنل گیمز میں کرکٹ شامل کروانے کی۔
میرے خیال میں یہ وہ خبر ہے جس کا اصل اثر آج نہیں، دس سال بعد محسوس ہوگا۔ اور اسی لیے اس پر لکھنا ضروری ہے۔ آئیے پہلے دیکھتے ہیں کہ اعلان میں ہے کیا، پھر میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ داؤ کیوں کھیلا جا رہا ہے — اور اس بار کامیابی کے امکانات پہلے سے کیوں زیادہ ہیں۔
اعلان میں کیا کچھ شامل ہے؟
سنجوگ گپتا نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں جو نقاط اٹھائے، وہ یہ ہیں:
- سینٹر آف ایکسیلنس: آئی سی سی، چائنیز کرکٹ ایسوسی ایشن (سی سی اے) کے ساتھ مل کر چین میں ایک سینٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے میں مدد کرے گا، جو دبئی میں موجود آئی سی سی اکیڈمی کی طرز پر ہوگا۔ مقصد کھلاڑیوں کی تیز تر ترقی اور ہائی پرفارمنس سہولتوں کو بہتر بنانا ہے۔
- ٹیئر 2 بین الاقوامی ایونٹ: آئی سی سی سی سی اے کی جلد ایک ٹیئر 2 بین الاقوامی ایونٹ کروانے میں مدد کرے گا — یعنی چین کی سرزمین پر حقیقی بین الاقوامی کرکٹ۔
- خواتین کی کرکٹ: توسیعی منصوبے میں خواتین کی کرکٹ کو کلیدی حیثیت دی گئی ہے، تاکہ کھیل زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے اور شرکت بڑھے۔
- نیشنل گیمز میں شمولیت: آئی سی سی چاہتا ہے کہ چین اپنے نیشنل گیمز میں کرکٹ شامل کرے، جس سے کھیل کو ادارہ جاتی سطح پر پہچان اور حکومتی و صوبائی حمایت ملے گی۔
- حکومتی دلچسپی: گپتا کے مطابق آئی سی سی کی اسٹریٹجک حمایت چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف اسپورٹ کو کرکٹ کی ترقی میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے پر مائل کر سکتی ہے۔
سنجوگ گپتا کون ہیں اور اولمپکس کا کردار کیا ہے؟
سنجوگ گپتا نے جولائی 2026 میں آئی سی سی کے سی ای او کا عہدہ سنبھالا، اور یہ ان کے دور کا اب تک کا سب سے بڑا اسٹریٹجک اعلان ہے۔ ان کے موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ ایل اے 28 اولمپکس میں کرکٹ کی واپسی — 128 سال بعد — نے ان مارکیٹوں میں کھیل کے بارے میں سوچ بدل دی ہے جنہوں نے اب تک اسے نظر انداز کیا تھا۔
یہ نکتہ میری نظر میں سب سے اہم ہے۔ چین جیسے ملک میں کھیلوں کی ترقی حکومتی نظام سے جڑی ہوتی ہے۔ جب تک کرکٹ اولمپک کھیل نہیں تھا، چینی کھیلوں کے اداروں کے لیے اس میں سرمایہ لگانے کی کوئی ادارہ جاتی وجہ نہیں تھی۔ اب اولمپکس میں شمولیت نے وہ وجہ پیدا کر دی ہے۔ گپتا کا کہنا ہے کہ اولمپک شمولیت کرکٹ کو ادارہ جاتی کھیلوں کے نظام میں زیادہ متعلقہ بناتی ہے اور حکومتی توجہ، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور کھلاڑیوں کی ترقی کے دروازے کھول سکتی ہے۔
چین میں کرکٹ کی موجودہ صورتحال — زمین کتنی تیار ہے؟
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ چین میں کرکٹ صفر سے شروع نہیں ہو رہی۔ حقائق یہ ہیں:
- چین کے 22 صوبوں میں سے 9 میں کرکٹ موجود ہے۔
- شانڈونگ اور تیانجن سمیت کئی صوبوں کے اسکولوں میں کرکٹ پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں۔
- ایک نیا 1500 نشستوں والا کرکٹ اسٹیڈیم پہلے ہی تیار ہو چکا ہے، اور سہولتوں کو مزید بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔
- آئی سی سی 2026 کے مردوں اور خواتین کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ چینی پلیٹ فارمز پر مینڈرین زبان میں نشر کر چکا ہے۔
- چین 2004 سے آئی سی سی کا ممبر اور 2017 سے ایسوسی ایٹ ممبر ہے؛ اس کی ٹیم ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کا درجہ رکھتی ہے اور ایشیائی کوالیفائرز میں حصہ لیتی ہے۔
یعنی بنیاد موجود ہے، بس اس پر عمارت کھڑی کرنے کا فیصلہ اب ہوا ہے۔
میرا تجزیہ: آئی سی سی یہ داؤ کیوں کھیل رہا ہے؟
میں اس اعلان کو چار زاویوں سے دیکھتا ہوں:
1۔ آبادی کا حساب: دنیا کے زیادہ تر کرکٹ شائقین جنوبی ایشیا میں رہتے ہیں، لیکن چین کی آبادی بھارت جتنی ہے۔ اگر آئی سی سی چین میں مضبوط قدم جما لے تو کھیل کی معاشی جغرافیہ ہی بدل جائے گی۔ نشریاتی حقوق، اسپانسرشپ، نئے ناظرین — یہ سب اسی حساب کا حصہ ہیں۔
2۔ اولمپکس کا دروازہ: جیسا اوپر بتایا، ایل اے 28 نے چین کے کھیلوں کے نظام میں کرکٹ کے لیے جگہ بنا دی ہے۔ نیشنل گیمز میں شمولیت کا مطالبہ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے — صوبائی حکومتیں اور کھیلوں کے ادارے اس کھیل پر توجہ دیں گے جس سے اولمپک تمغے کی امید ہو۔
3۔ دبئی ماڈل کی کامیابی: آئی سی سی اکیڈمی دبئی نے ثابت کیا ہے کہ ایک جدید تربیتی مرکز کسی غیر روایتی مارکیٹ میں بھی کھیل کو جڑ پکڑنے میں مدد دے سکتا ہے۔ چین میں اسی ماڈل کو دہرانا ایک آزمودہ نسخہ ہے، تجربہ نہیں۔
4۔ خواتین کی کرکٹ کا راستہ: چین میں خواتین کھلاڑیوں نے اولمپکس میں روایتی طور پر بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔ خواتین کی کرکٹ پر توجہ چینی نظام کے لیے سب سے پرکشش راستہ ہو سکتا ہے — یہاں کامیابی جلد اور نمایاں ہو سکتی ہے۔
لیکن مشکلات بھی کم نہیں
میں صرف تعریف نہیں کروں گا — حقیقت یہ ہے کہ چین میں کرکٹ کو اب بھی بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ چینی ٹیم ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں 92ویں نمبر پر ہے اور اب تک صرف 15 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیل کر 2 جیت سکی ہے۔ کرکٹ وہاں کی ثقافت کا حصہ نہیں، اور ثقافت کوئی سینٹر آف ایکسیلنس راتوں رات نہیں بدلتا۔ ماضی میں بھی چین میں کرکٹ کے حواے سے اعلانات ہوتے رہے ہیں جن کا عملی نتیجہ محدود رہا۔
فرق صرف یہ ہے کہ اس بار اولمپکس کا عنصر موجود ہے، اور اعلان کرنے والا خود آئی سی سی کا سربراہ ہے۔ یہی دو چیزیں اس منصوبے کو پچھلی کوششوں سے مختلف بناتی ہیں۔
پاکستان اور ایشیا کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
سیدھی بات: پاکستان کی ٹیم پر اس کا کوئی فوری اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن بالواسطہ طور پر یہ خبر اہم ہے۔ ایشیا میں کرکٹ کی توسیع کا مطلب ہے زیادہ مقابلے، بڑا نشریاتی بازار، اور طویل مدت میں کھیل کی مالی بنیاد کا مضبوط ہونا — جس کا فائدہ بالآخر پاکستان سمیت تمام ممبر بورڈز کو پہنچتا ہے۔ اور اگر چین واقعی نیشنل گیمز میں کرکٹ شامل کر لیتا ہے تو ایشین گیمز میں کرکٹ کا مقابلہ بھی مزید سنجیدہ ہو جائے گا، جہاں پاکستان پہلے ہی حصہ لیتا آیا ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا چین واقعی کرکٹ کی دنیا کا حصہ بن سکے گا، یا یہ ایک اور خوبصورت اعلان ثابت ہوگا؟ کمنٹس میں ضرور بتائیے گا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
آئی سی سی نے چین کے لیے کیا اعلان کیا ہے؟
آئی سی سی کے سی ای او سنجوگ گپتا نے اعلان کیا ہے کہ آئی سی سی چین میں دبئی کی آئی سی سی اکیڈمی کی طرز پر سینٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے اور وہاں ایک ٹیئر 2 بین الاقوامی ایونٹ کروانے میں چائنیز کرکٹ ایسوسی ایشن کی مدد کرے گا۔
سنجوگ گپتا کون ہیں؟
سنجوگ گپتا جولائی 2026 میں آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو بنے۔ چین میں کرکٹ کی توسیع کا اعلان ان کے دور کا ایک اہم اسٹریٹجک قدم ہے۔
اولمپکس کا اس منصوبے سے کیا تعلق ہے؟
کرکٹ 128 سال بعد ایل اے 28 اولمپکس میں واپس آ رہی ہے۔ اولمپک شمولیت نے چین جیسے ممالک میں کھیل کو ادارہ جاتی اہمیت دی ہے، جس سے حکومتی سرمایہ کاری اور نیشنل گیمز میں شمولیت کا راستہ کھلا ہے۔
چین کی کرکٹ ٹیم کی موجودہ حیثیت کیا ہے؟
چین 2017 سے آئی سی سی کا ایسوسی ایٹ ممبر ہے۔ اس کی ٹیم ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کا درجہ رکھتی ہے، موجودہ رینکنگ 92ویں نمبر پر ہے، اور وہ ایشیائی کوالیفائرز میں حصہ لیتی ہے۔
کیا اس منصوبے سے پاکستان کو کوئی فائدہ ہوگا؟
براہ راست فوری فائدہ نہیں، لیکن ایشیا میں کرکٹ کی توسیع سے کھیل کا نشریاتی بازار بڑھے گا اور طویل مدت میں تمام ممبر بورڈز مضبوط ہوں گے۔
