ایک سال کی الٹی گنتی شروع!
کرکٹ کے شائقین کے لیے سب سے بڑی خبر بالآخر آ گئی ہے — انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے یکم اکتوبر 2026 کو جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں منعقدہ ایک شاندار تقریب کے دوران 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کا مکمل شیڈول جاری کر دیا ہے۔ ایک سال کی الٹی گنتی باضابطہ طور پر شروع ہو چکی ہے، اور پاکستانی شائقین کے لیے سب سے دھماکے دار خبر یہ ہے کہ پاکستان کو بھارت اور آسٹریلیا کے ساتھ ایک ہی گروپ میں رکھا گیا ہے۔
آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ ٹرافی — تصویر: پبلک ڈومین، ویکی میڈیا کامنز
کب، کہاں اور کیسے؟ اہم حقائق
- آغاز: 2 اکتوبر 2027 — ابتدائی "سپر سیریز" کے تینوں میچ نمیبیا میں کھیلے جائیں گے۔
- فائنل: 21 نومبر 2027 کو جوہانسبرگ کے تاریخی وانڈررز اسٹیڈیم میں — وہی میدان جہاں 2003 کا آسٹریلیا-بھارت فائنل ہوا تھا۔
- میزبان: جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا — 2003 کے بعد افریقی سرزمین پر پہلا مینز ون ڈے ورلڈ کپ۔
- پیمانہ: 14 ٹیمیں اور کل 54 میچز — آٹھ جنوبی افریقی وینیوز پر زیادہ تر میچز، زمبابوے میں آٹھ سے دس اور نمیبیا میں تین۔
بالکل نیا فارمیٹ: چار مراحل کا سنسنی خیز سفر
آئی سی سی نے اس بار ٹورنامنٹ کو مزید مقابلہ جاتی بنانے کے لیے ایک نیا چار مرحلہ نظام متعارف کرایا ہے:
- سپر سیریز: سب سے نچلی رینک والی تین ٹیمیں راؤنڈ رابن کھیلیں گی، فاتح ٹیم اگلے مرحلے میں جائے گی۔
- دو گروپس: ٹاپ 11 ٹیمیں اور ایک کوالیفائر — 12 ٹیمیں چھ چھ کے دو گروپس میں تقسیم ہوں گی۔
- سپر 7: ہر گروپ کی ٹاپ تین ٹیمیں اور دونوں گروپس کی بہترین چوتھی ٹیم — سات ٹیمیں ایک پول میں آمنے سامنے۔
- ناک آؤٹ: ٹاپ چار ٹیمیں سیمی فائنل کھیلیں گی، پھر فائنل میں ورلڈ چیمپئن کا فیصلہ۔
گروپ اے — "موت کا گروپ"؟
ڈرا کے مطابق گروپ اے میں افغانستان، آسٹریلیا، بھارت، پاکستان، زمبابوے اور ایک کوالیفائر ٹیم ہوگی، جبکہ گروپ بی میں بنگلہ دیش، انگلینڈ، جنوبی افریقہ، سری لنکا، نیوزی لینڈ اور ایک کوالیفائر ٹیم شامل ہے۔
پاکستان کے نقطہ نظر سے یہ خبر ایک طرف سنسنی خیز ہے تو دوسری طرف خطرناک بھی — ایک ہی گروپ میں بھارت (2023 کے فائنلسٹ)، آسٹریلیا (چھ بار کے عالمی چیمپئن) اور افغانستان (سب سے خطرناک اپ سیٹ مشین) موجود ہیں۔ عملی حساب یہ ہے کہ پاکستان کو سپر 7 تک پہنچنے کے لیے ان تینوں میں سے کم از کم دو کو ہرانا ہوگا — یا پھر چھوٹی ٹیموں کے خلاف بڑے مارجن سے جیت کر نیٹ رن ریٹ کا کھیل جیتنا ہوگا۔ ایک بھی بڑی شکست اور سفر ختم۔
کیپ ٹاؤن کا نیولینڈز کرکٹ گراؤنڈ، جہاں بھارت اور آسٹریلیا دوسرے مرحلے کا افتتاحی میچ کھیلیں گے — تصویر: EGilham (CC BY-SA 4.0)، ویکی میڈیا کامنز
بھارت بمقابلہ آسٹریلیا — دوسرے مرحلے کا افتتاحی دھماکہ
شیڈول کی سب سے بڑی ٹکر یہ ہے کہ 2023 کے دونوں فائنلسٹ، بھارت اور آسٹریلیا، دوسرے راؤنڈ کا افتتاحی میچ کیپ ٹاؤن کے نیولینڈز میں کھیلیں گے۔ یہ میچ پورے ٹورنامنٹ کی سمت طے کر سکتا ہے — اور پاکستان کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ گروپ اے کا ہر بڑا میچ اس کی قسمت پر براہ راست اثر ڈالے گا۔
پاکستان کے لیے آگے کا راستہ
یہ بات واضح رہے کہ شیڈول کے اعلان کے ساتھ ہی آئی سی سی نے نئے پلیئنگ کنڈیشنز بھی نافذ کر دیے ہیں — دن کے ٹیسٹ میں گلابی گیند کا تجربہ اور وقت ضائع کرنے پر پانچ رنز کی سزا جیسے قوانین اسی نئے دور کی نشانی ہیں۔ پاکستان ٹیم مینجمنٹ کو ابھی سے ہوم ورک شروع کرنا ہوگا: جنوبی افریقی پچز پر آسٹریلیا کی تیز رفتار بولنگ، بھارت کی اسپن بیٹری اور افغانستان کی راشد خان والی فوج — تینوں چیلنج ایک ہی گروپ میں۔
اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان کی ٹیم بڑے ٹورنامٹس میں دباؤ میں کھیلنا جانتی ہے۔ لیکن اس بار مارجن صفر ہے — گروپ مرحلے میں ہر میچ ناک آؤٹ جیسا ہوگا۔ شائقین کے لیے یہ خبر ایک سال پہلے کا تحفہ ہے: پاکستان بمقابلہ بھارت، ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے میں — اس سے بڑا میچ اور کیا ہو سکتا ہے؟
