ٹینس کی تاریخ کا بڑا دن
خواتین کے کھیلوں کے لیے آج یکم اکتوبر 2026 کا دن تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) نے اعلان کیا ہے کہ 2027 سے تمام کمبائنڈ ڈبلیو ٹی اے 1000 ٹورنامنٹس میں خواتین کو مردوں کے برابر انعامی رقم دی جائے گی۔ ڈبلیو ٹی اے کی چیئر ویمن ویلری کیمیلو نے اسے "ٹینس کے لیے ایک بڑا سنگِ میل" قرار دیا ہے۔
![]()
اعلان میں کیا کیا شامل ہے؟
- اب تک تین بڑے ٹورنامنٹس — اطالوی اوپن (روم)، کینیڈین اوپن اور سنسناٹی اوپن مردوں اور خواتین میں انعامی رقم برابر نہیں دیتے تھے۔ 2027 سے یہ تینوں بھی برابری پر آ جائیں گے۔
- اس سے پہلے ہی انڈین ویلز، میامی، میڈرڈ اور بیجنگ کے کمبائنڈ ایونٹس کے ساتھ ساتھ چاروں گرینڈ سلیمز اور یونائیٹڈ کپ میں برابر انعامی رقم دی جا رہی ہے۔
- اطالوی ٹینس فیڈریشن نے 2023 میں وعدہ کیا تھا کہ 2025 تک روم میں برابر انعام دی جائے گی، لیکن وہ وعدہ پورا نہ ہو سکا۔ اس سال روم میں مردوں کی کل انعامی رقم 96 لاکھ ڈالر تھی جبکہ خواتین کو صرف 83 لاکھ ڈالر ملے تھے۔ اب یہ فرق ختم ہو رہا ہے۔
56 سال کا طویل سفر: 600 ڈالر سے برابر انعام تک
یہ فیصلہ راتوں رات نہیں آیا۔ بیلی جین کنگ کہتی ہیں کہ انہیں خواتین کا پرو ٹینس سرکٹ بنانے کی تحریک اس وقت ملی جب انہوں نے 1970 کے اطالوی اوپن میں صرف 600 ڈالر جیتے تھے جبکہ مردوں کے فاتح ایلیے ناستازے کو 3500 ڈالر ملے تھے۔ آج سے تقریباً چھ دہائیاں بعد روم کے اسی فوروم اٹالکو میں خواتین کو مردوں کے برابر رقم ملے گی۔ ڈبلیو ٹی اے کے الفاظ میں یہ "بانیوں کے ویژن کی پائیداری کا ثبوت" ہے۔
ساتھ میں اور بھی بڑے فیصلے
اسی اجلاس میں ڈبلیو ٹی اے نے 2027 کے کیلنڈر سے متعلق مزید اعلانات بھی کیے:
- 2027 کا کیلنڈر 26 ممالک میں 55 ٹورنامنٹس پر مشتمل ہوگا۔
- سیزن کا اختتامی ڈبلیو ٹی اے فائنلز 2027 سے کم از کم تین سال تک شمالی کیرولائنا کے شہر شارلٹ میں ہوگا۔
- فلپائن کی نوجوان اسٹار ایلیکس ایالا (عالمی رینکنگ 18) کی مقبولیت کے باعث منیلا میں ڈبلیو ٹی اے 250 سطح کا توسیعی ٹورنامنٹ کرایا جائے گا — جنوری میں فلپائن نے ڈبلیو ٹی اے 125 ایونٹ کی میزبانی بھی کی تھی۔
- ٹاپ 50 کھلاڑیوں کے لیے ڈبلیو ٹی اے 500 ٹورنامنٹس میں شرکت کی لازمی تعداد 6 سے کم کر کے 4 کر دی گئی ہے۔
![]()
تجزیہ: یہ صرف ٹینس کی خبر نہیں
کھیل کی دنیا میں اصلاحات کا یہ سال یادگار ثابت ہو رہا ہے — اسی ہفتے آئی سی سی نے بھی کرکٹ کے نئے قوانین متعارف کرائے ہیں جن میں ٹیسٹ کرکٹ میں گلابی گیند کے استعمال کی آزمائش شامل ہے۔ ڈبلیو ٹی اے کا فیصلہ کھیلوں کی صنعت میں مالی برابری کی سب سے بڑی مثالوں میں سے ایک ہے، کیونکہ یہ صرف کسی ایک ٹورنامنٹ تک محدود نہیں — پورے 1000 درجے کے تمام کمبائنڈ ایونٹس کا معاملہ ہے۔
اس اعلان کا اثر ٹینس سے باہر بھی پڑے گا۔ دنیا بھر میں خواتین کے کھیلوں میں اسپانسرشپ اور انعامی رقم کا فرق ایک مستقل موضوع رہا ہے؛ جب ٹینس جیسی بڑی صنعت یہ قدم اٹھاتی ہے تو دیگر کھیلوں کے منتظمین پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔ اور جیسا کہ ایشین گیمز میں پاکستان اور بھارت گولڈ میڈل میچ کے لیے آمنے سامنے آ رہے ہیں، بڑے کھیلوں کے مقابلوں میں برابری اور وقار کی بحث آج پہلے سے کہیں زیادہ زندہ ہے۔
ویلری کیمیلو نے درست کہا: یہ کھیلوں کی صنعت کے لیے ایک بڑا سنگِ میل ہے — اور 1970 میں 600 ڈالر والی بیلی جین کنگ کی کہانی اب اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے۔
