پی ایس ایل کا وہ مہنگا ترین کھلاڑی جس کا ایک رن 8 لاکھ روپے سے زائد کا پڑا۔


پاکستان سپر لیگ اختتامی مرحلے میں داخل، مہنگے ترین کھلاڑیوں کی کارکردگی رپورٹ

پاکستان سپر لیگ اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ گروپ مرحلے کا اختتام ہو گیا ہے اور چار ٹیموں نے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ ان ٹیموں میں پشاور زلمی، اسلام آباد یونائیٹڈ، حیدرآباد کنگز مین اور ملتان سلطانز شامل ہیں، جبکہ باقی ٹیمیں ایونٹ سے باہر ہو گئی ہیں۔

اس سیزن میں فرنچائزز نے کئی مہنگے کھلاڑیوں پر بھاری سرمایہ کاری کی، جن سے شاندار کارکردگی کی توقعات وابستہ تھیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ان اسٹار کھلاڑیوں کی کارکردگی کیسی رہی۔

صاحبزادہ فرحان نے قیمت کا حق ادا کر دیا

ملتان سلطانز نے صاحبزادہ فرحان کو 5 کروڑ 70 لاکھ روپے میں اسکواڈ کا حصہ بنایا۔

صاحبزادہ فرحان نے اب تک عمدہ کھیل پیش کیا ہے اور ایک سنچری اور دو نصف سنچریوں کی مدد سے 365 رنز بنا چکے ہیں۔ وہ ملتان سلطانز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں۔

سلمان علی آغا کی مایوس کن کارکردگی

پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا سے کراچی کنگز کو بڑی امیدیں تھیں۔

کراچی کنگز نے انہیں 5 کروڑ 85 لاکھ روپے میں خریدا، مگر وہ 9 میچز میں صرف 109 رنز ہی بنا سکے۔ ان کی ناقص فارم ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی اور کراچی کنگز بہتر رن ریٹ نہ ہونے کی وجہ سے باہر ہو گئی۔

فہیم اشرف سے اسلام آباد یونائیٹڈ کو مایوسی

اسلام آباد یونائیٹڈ نے فہیم اشرف کو بڑے آکشن کے بعد 8 کروڑ روپے میں حاصل کیا۔

تاہم ان کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہ رہی۔ فہیم اشرف نے 9 میچز میں صرف 53 رنز بنائے اور 7 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کی قیمت کے لحاظ سے کمزور کارکردگی سمجھی جا رہی ہے۔

فخر زمان نے دھواں دار بیٹنگ کی

فخر زمان کے لیے تمام فرنچائزز میں سخت مقابلہ ہوا، مگر لاہور قلندرز نے انہیں 7 کروڑ 95 لاکھ روپے میں دوبارہ اپنی ٹیم میں شامل کر لیا۔

فخر زمان پر بال ٹیمپرنگ کا الزام بھی لگا اور دو میچز کی پابندی بھی عائد ہوئی، لیکن اس کے باوجود ان کی کارکردگی متاثر نہ ہوئی۔ انہوں نے صرف 8 میچز میں 400 رنز بنا ڈالے۔

تاہم لاہور قلندرز بہتر رن ریٹ نہ ہونے کی وجہ سے ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔

صائم ایوب کا ایک رن 8 لاکھ روپے کا پڑا

صائم ایوب کو حیدرآباد کنگز مین نے 12 کروڑ 80 لاکھ روپے میں خریدا، لیکن وہ لیگ مرحلے میں ایک بھی میچ وننگ اننگز نہ کھیل سکے۔

انہوں نے 10 میچز میں صرف 151 رنز بنائے۔ اس حساب سے صائم ایوب کا ایک رن تقریباً 8 لاکھ 34 ہزار روپے کا پڑا۔

حیدرآباد کنگز کو پلے آف مرحلے میں ان سے اب بھی بڑی امیدیں ہیں، تاہم شرجیل خان بھی عمدہ فارم میں موجود ہیں اور موقع کے منتظر ہیں۔ میرے خیال میں شرجیل خان کو موقع دیا جانا چاہیے۔

نتیجہ

پاکستان سپر لیگ میں مہنگے کھلاڑی ہمیشہ کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے۔ کچھ کھلاڑیوں نے اپنی قیمت کا حق ادا کیا، جبکہ کچھ بڑی توقعات کے باوجود ناکام رہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پلے آف مرحلے میں کون سا کھلاڑی اپنی ٹیم کو ٹائٹل جتواتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments