![]()
چنائی سپر کنگز (سی ایس کے) کی مینجمنٹ بالآخر فکسنگ اسکینڈل پر سامنے آ گئی ہے۔ فرنچائز نے کہا ہے کہ اس کا بورڈ اگلے ایک دو روز میں اجلاس کرے گا اور میچ فکسنگ سے متعلق الزامات کی مکمل جانچ کرے گا۔ سی ایس کے کی سالانہ جنرل میٹنگ (اے جی ایم) 25 ستمبر کو ہو رہی ہے، اور بورڈ کا اجلاس اس سے پہلے ہوگا۔ پانچ مرتبہ آئی پی ایل چیمپئن رہنے والی فرنچائز پر یہ الزام ہے کہ اس کے ایک کھلاڑی نے ٹیم کی خفیہ معلومات سٹہ بازوں کو فروخت کیں — اگر یہ ثابت ہوا تو یہ آئی پی ایل کی تاریخ کا دوسرا بڑا اسکینڈل ہوگا۔
اصل الزام کیا ہے؟
ویب سائٹ تہلکہ کی زیرِ زمین تحقیق (دسمبر 2025 سے اگست 2026 تک چلنے والا اسٹنگ آپریشن) کے مطابق، رنجی ٹرافی کے سابق کھلاڑی رچت بھاٹیا نے کیمرے پر دعویٰ کیا کہ اس کے پاس سی ایس کے کی ٹیم کے اندر ایک ذریعہ تھا، جس کی مدد سے وہ میچ سے پہلے ہی ٹیم کی پلیئنگ الیون لندن میں بیٹھے سٹہ بازوں کو اسنیپ چیٹ کے ذریعے بھیجتا تھا۔ بھاٹیا کے اپنے دعوے کے مطابق:
- آئی پی ایل 2025 میں فی میچ 60 لاکھ روپے لیے گئے
- پانچ میچوں میں کل تقریباً 3 کروڑ روپے کمائے
- آئی پی ایل 2026 کے لیے بھی یہی سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی — ایک کروڑ روپے میں '90 فیصد گارنٹی' کے ساتھ
- مگر اس کا ذریعہ کھلاڑی 2026 کی نیلامی میں کسی ٹیم نے خریدا ہی نہیں، اس لیے یہ منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا
تہلکہ نے کسی کھلاڑی کا نام ظاہر نہیں کیا۔ سی ایس کے کا مؤقف بھی یہی ہے کہ ابھی تک دستیاب معلومات تصدیق شدہ نہیں۔
سی ایس کے کا ردعمل: 'کرپشن کے لیے صفر برداشت'
کرک بز سے بات کرتے ہوئے فرنچائز کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ ہماری اے جی ایم آ رہی ہے، بورڈ اس سے پہلے ملے گا اور ہم اس معاملے پر بات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی ایس کے میں کرپشن کے لیے 'زیرو ٹالرنس' ہے اور فرنچائز اس کیس کی تہہ تک پہنچنے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ سی ایس کے کا فکسنگ سے پرانا تعلق رہا ہے — 2013 کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد فرنچائز کو دو سال کی پابندی (2016 اور 2017) کا سامنا کرنا پڑا تھا، کیونکہ اس کے پروموٹر گروپ کا ایک رکن غیر قانونی سٹے بازی میں ملوث پایا گیا تھا۔ دھوینی کی ٹیم کے پرستاروں کے لیے یہ خبر اسی لیے زیادہ تکلیف دہ ہے کہ ماضی کا زخم ابھی پوری طرح بھرا نہیں تھا۔
![]()
تصویر: Ashwin John، Wikimedia Commons (CC BY-SA 2.0)
ڈی پی ایل کا رخ بھی اسی اسکینڈل سے جڑا ہے
اسی اسٹنگ آپریشن میں بھاٹیا نے دعویٰ کیا کہ اس نے دہلی پریمیئر لیگ کے ایک میچ (3 اگست 2026، سینٹرل دہلی کنگز بمقابلہ نارتھ دہلی اسٹرائیکرز) کی پلیئنگ الیون بھی پہلے سے فراہم کی تھی، اور وہ معلومات اصل ٹیم سے ملتی تھیں۔ ڈی ڈی سی اے پہلے ہی ان الزامات کو غیر مصدقہ اور غیر ثابت شدہ قرار دے چکی ہے اور اس معاملے کی جانچ کے لیے بی سی سی آئی کو خط لکھ چکی ہے۔
کلیدی نکات ایک نظر میں
- سی ایس کے بورڈ کا اجلاس: اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں، اے جی ایم (25 ستمبر) سے پہلے
- الزام: آئی پی ایل 2025 میں پلیئنگ الیون کی معلومات کا رساؤ، 60 لاکھ روپے فی میچ
- ماخذ: تہلکہ کا اسٹنگ آپریشن، سابق رنجی کھلاڑی رچت بھاٹیا کے دعوے
- غیر مصدقہ: نہ کھلاڑی کا نام ظاہر، نہ کسی آزاد ادارے نے تصدیق کی
- ماضی کا سایہ: 2013 اسکینڈل کے بعد سی ایس کے پر دو سالہ پابندی لگ چکی ہے
تجزیہ: یہ خبر اتنی بڑی کیوں ہے؟
پہلی بات تو یہ کہ سی ایس کے آئی پی ایل کی سب سے مقبول اور کامیاب فرنچائزوں میں سے ایک ہے۔ اگر اس پر کرپشن کا داغ لگتا ہے تو پوری لیگ کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ دوسری بات، بی سی سی آئی کے اینٹی کرپشن یونٹ کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھیں گے — کہ کیا خفیہ معلومات کا رساؤ اتنا آسان ہے؟ اور تیسری بات، اس وقت آئی پی ایل کے کئی کھلاڑیوں کے نام سوشل میڈیا پر گھسیٹے جا رہے ہیں، جو کسی کے لیے بھی مناسب نہیں۔
میری رائے میں اس معاملے کو تین چیزوں کے بغیر آگے نہیں بڑھنا چاہیے: شفاف تحقیقات، کھلاڑیوں کے ناموں کی حفاظت جب تک الزام ثابت نہ ہو، اور اگر الزام درست نکلا تو مثالی سزا۔ 2013 کے اسکینڈل سے ہم نے یہی سبق سیکھا تھا — کرکٹ میں بدعنوانی کی کوئی جگہ نہیں، چاہے فرنچائز کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔
آگے کیا ہوگا؟
سی ایس کے کی اے جی ایم 25 ستمبر کو ہے — یعنی کل۔ بورڈ کے اجلاس میں فرنچائز اپنا باضابطہ مؤقف طے کرے گی اور ممکنہ طور پر اندرونی تحقیقات یا بی سی سی آئی کے اینٹی کرپشن یونٹ سے رجوع کا اعلان ہوگا۔ اس کے علاوہ ظہیر خان کی ہیڈ کوچ کے طور پر تقرری کے بعد یہ سی ایس کے کی نئی مینجمنٹ کا پہلا بڑا امتحان بھی ہوگا۔ سکسز زون اس معاملے کی ہر نئی پیش رفت پر آپ کو اپ ڈیٹ رکھے گا۔
