ایک دن، تین میچ، چھ سنچریاں — تاریخ رقم ہو گئی
اتوار 27 ستمبر 2026 کو ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں وہ دن آیا جس کا 55 سالہ تاریخ میں کبھی کوئی مثال نہیں ملی۔ دنیا کے تین مختلف میدانوں — ترواننت پورم، جوہانسبرگ اور لندن — پر ایک ہی دن میں چھ سنچریاں سجاتیں۔ یہ ون ڈے کرکٹ میں ایک دن میں سب سے زیادہ سنچریوں کا نیا عالمی ریکارڈ ہے۔ اس سے پہلے ایک دن میں زیادہ سے زیادہ پانچ سنچریاں بننے کا ریکارڈ چھ مرتبہ قائم ہوا تھا، آخری بار ورلڈ کپ 2023 کے دوران — لیکن چھ سنچریاں ایک ہی دن میں پہلی بار بنائی گئیں۔
فائل فوٹو: ویرات کوہلی — بشکریہ Wikimedia Commons (CC BY-SA 4.0)
چھ سنچری ساز بلے باز — ایک نظر
- ویرات کوہلی (139*، 88 گیندیں) — بھارت بمقابلہ ویسٹ انڈیز، ترواننت پورم۔ کوہلی نے صرف 74 گیندوں پر سنچری مکمل کی — ویسٹ انڈیز کے خلاف بھارت کے لیے مشترکہ تیسرا تیز ترین اور خود کوہلی کے لیے مجموعی طور پر تیسرا تیز ترین ون ڈے سنچری۔ ان کے 9 چھکے ایک اننگز میں ان کے سب سے زیادہ ہیں (اس سے پہلے 2023 میں اسی میدان میں سری لنکا کے خلاف 8)۔ یہ ان کی 55ویں ون ڈے سنچری اور اسی اننگز میں 15,000 ون ڈے رنز مکمل کرنے کا کارنامہ بھی شامل ہے۔
- شبمن گل (110، 108 گیندیں) — بھارت بمقابلہ ویسٹ انڈیز۔ گل نے اپنی 10ویں ون ڈے سنچری صرف 67 اننگز میں مکمل کی — مشترکہ تیسرا تیز ترین (فخر زمان کے برابر)، کوئنٹن ڈی کاک (55) اور ہاشم آملا (57) کے بعد۔
- جسٹن گریوز (101، 108 گیندیں) — ویسٹ انڈیز بمقابلہ بھارت۔ شکست خوردہ ٹیم سے بھی سنچری — گریوز نے انڈیا کے خلاف شاندار 101 رنز بنائے۔
- ڈیوڈ ملر (142، 93 گیندیں) — جنوبی افریقہ بمقابلہ آسٹریلیا، جوہانسبرگ۔ دن کی سب سے بڑی اننگز — 9 چھکوں کے ساتھ ملر کے کیریئر کا بہترین سکور اور آٹھواں ون ڈے سنچری۔ جنوبی افریقہ نے 365/9 بنا کر آسٹریلیا کو 32 رنز سے ہرا کر سیریز اپنے نام کر لی۔
- ٹیمبا باووما (103، 116 گیندیں) — جنوبی افریقہ بمقابلہ آسٹریلیا۔ کپتان کی پرعزم سنچری، ان کے کیریئر کی چھٹی ون ڈے سنچری اور آسٹریلیا کے خلاف بطور کپتان دوسری سنچری۔
- ٹام بینٹن (126، 105 گیندیں) — انگلینڈ بمقابلہ سری لنکا، دی اوول۔ پہلی ون ڈے سنچری — 16 چوکوں اور 5 چھکوں کی مدد سے انگلینڈ کو 355/7 تک پہنچایا، جس کے بعد سری لنکا 132 پر ڈھیر ہو گیا اور انگلینڈ نے سیریز 2-1 سے جیت لی۔
پچھلا ریکارڈ کہاں ٹوٹا؟
اس سے قبل ایک دن میں پانچ ون ڈے سنچریاں بننے کا ریکارڈ چھ مواقع پر قائم ہوا تھا — آخری بار ورلڈ کپ 2023 کے دوران۔ لیکن اتوار کو تین میچوں میں چھ بلے بازوں کے سنچری مکمل کرنے نے اس حد کو پہلی بار عبور کر دیا۔ تینوں میچ الگ الگ براعظموں میں کھیلے گئے، تینوں میں میزبان ٹیمیں جیتیں، اور تینوں میچوں کے نتائج بھی یکطرفہ رہے: بھارت نے ویسٹ انڈیز کو 8 وکٹوں سے، جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا کو 32 رنز سے، اور انگلینڈ نے سری لنکا کو 223 رنز سے ہرایا۔
فائل فوٹو: ڈیوڈ ملر — بشکریہ Wikimedia Commons (CC BY-SA 4.0, Gannu03)
تجزیہ: یہ دن کیوں خاص تھا؟
چھ سنچریاں ایک دن میں بننا محض اتفاق نہیں۔ تینوں میچوں میں فلیٹ وکٹیں، مختصر باؤنڈریاں اور تیز اوور ریٹ کے حالات موجود تھے — لیکن اصل کہانی بلے بازوں کی نڈر اپروچ کی ہے۔ کوہلی کا 157.95 کا اسٹرائیک ریٹ ان کے کیریئر کا تیسرا بہترین (کم از کم 30 گیندوں والی اننگز میں)، ملر کے 9 چھکے، بینٹن کے 21 باؤنڈری — یہ سب جدید ون ڈے کرکٹ کی جارحانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ اس ریکارڈ میں تین کپتان یا تجربہ کار (کوہلی، باووما) اور تین ابھرتے ہوئے ستارے (گل، بینٹن، گریوز) شامل ہیں — یعنی یہ نسل در نسل ٹیلنٹ کی منتقلی کا بھی منظر تھا۔ اور کوہلی کے 15,000 رنز کا کارنامہ اسی دن اسی اننگز میں ہوا، جس سے یہ دن بھارتی کرکٹ کے لیے دوہرا تاریخی بنا۔
